حساب سے پہلے حساب
Al-Risala, January 1981, pp. 39–40
By Maulana Wahiduddin Khan
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دنیا میں اپنا حساب کر لو، اس سے پہلے کہ آخرت میں تمھار احساب کیا جائے (حاسبو ا انفسکم قبل ان تحاسبوا) مرنے کے بعد تمام لوگ آخرت میں خدا کی عدالت میں کھڑے کئے جانے والے ہیں ، خدا کی عدالت عالم الغیب کی عدالت ہے۔ وہاں کوئی شخص اپنی کسی بات کو چھپا نہ سکے گا۔ حدیث میں آیا ہے کہ خدا کے یہاں جس کی جانچ ہو گئی وہ ہلاک ہونے سے بچ نہیں سکتا ( من نوقش فقد ھلک ) عقل مند وہ ہے جو آخرت میں خدا کی عدالت میں کھڑا ہونے سے پہلے دنیا میں اپنے کو اپنی ضمیر کی عدالت کے سامنے کھڑا کر لے اور حساب کتاب پیش آنے سے پہلے اپنے کو درست کر لے جو شخص اپنا حساب کئے بغیر مر جائے گا ، اس کا حساب خدا کرے گا۔ اور جس کا حساب خدا کرے اس کو کون بچا سکتا ہے ۔
آدمی کو پیدائشی طور پر ضمیر دیا گیا ہے جو اس کو ہر بری بات پر ٹوکتا ہے۔ آدمی کے پاس خدا اور رسول کی باتیں پہنچتی ہیں جن سے وہ صحیح اور غلط میں تمیز کر سکتا ہے، اسی ضمیر اور اسی علم کی روشنی میں اپنے کو جانچنے کا نام اپنا حساب آپ کرنا ہے۔
آپ کے ساتھ کوئی شخص غلط سلوک کرے ، کسی سے آپ کو کوئی تکلیف پہنچ جائے تو فوراً آپ کے دل کو چوٹ لگتی ہے۔ اس کو ذلیل اور حقیر سمجھنے لگتے ہیں۔ آپ کی نظر میں اس سے زیادہ برا اور کوئی شخص نہیں ہوتا۔ مومن وہ ہے جس کے اندر یہي شدت احساس خود اپنی غلطیوں کے بارہ میں پیدا ہو جائے ۔ اس سے کوئی غلطی ہو تو فوراً وہ جان لے کہ مجھ سے غلطی ہوگئی۔ اپنی غلطیوں کو جاننے کے لئے وہ اتنا ہی حساس ہو جائے جتنا کوئی شخص دوسرے کی غلطیوں کو جاننے کے لئے ہوتا ہے۔ غلطی سرزد ہوتے ہی وہ تڑپ اٹھے کہ مجھ سے ایسا فعل ہو گیا جو مجھ کو خدا سے دور کر دینے جو مجھ کو آخرت میں بے قیمت بنا دینے والا ہے۔ اس کا یہ احساس اتنا شدید ہو کہ اپنا وجود اس کو اپنی نظر میں حقیر معلوم ہونے لگے۔ اپنے احتساب کے لئے وہ اس سے زیادہ بے رحم ہو جائے جتنا کوئی شخص اپنے دشمن کے احتساب کے لئے ہوتا ہے۔
ایسے ہی لوگ اللہ والے ہیں۔ یہی وہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنے آپ کو اللہ کے ہاتھ بیچ دیا تا کہ ان کے لئے اللہ کے یہاں جنت ہو۔ جو لوگ دنیا میں اس قسم کی متقیانہ زندگی کا ثبوت دیں وہی وہ لوگ ہیں جو آخرت کی دنیا میں جہنم سے دور رکھے جائیں گے۔ ان کا رب ان سے ملاقات کے عظیم دن کہے گا کہ آج تمھارے اوپر کوئی الزام نہیں۔ ان کے لئے جنت کے تمام دروازے کھول دیئے جائیں گے اور خدا کی طرف سے پکارنے والا پکارے گا : ابدی باغوں میں بنے ہوئے جنتی مکانات آج تمھاری وراثت میں دے دیئے گئے۔ جس دروازہ سے چاہو اس میں داخل ہو جاؤ۔ آج کے بعد نہ تمھارے لئے کوئی غم ہے اور نہ تکلیف۔
خدا کے دوست عن ابی هریرة رضی اللہ عنہ قال قال رسول الله صلى الله علیه وسلم :
ان الله تعالیٰ قال: ۔ من عادى لی ولیاً فقد آذنتہ بالحرب وما تقرب الی عبدی بشیئ احب الی مما افترضته علیه ولا یزال عبدی یتقرب الی بالنوافل حتى احبّه فاذا احببته كنت سمعه الذی یسمع به وبصره الذی یبصر به ویده التي یبطش بها ورجله التي یمشی بها ولئن سألنی لا عطینّه ولئن استعاذنی
اللہ تعالیٰ نے فرمایا: جو میرے کسی دوست کے ساتھ دشمنی کرے تو میں اس کے خلاف جنگ کا اعلان کر دیتا ہوں ۔ میری سب سے زیادہ محبوب چیز جس سے میرا بندہ میری قربت حاصل کرتا ہے وہ ہے جو میں نے اس کے اوپر فرض کی ہے۔ اور میرا بندہ نفل اعمال کے ذریعہ میرا قرب حاصل کرتا رہتا ہے۔ یہاں تک کہ میں اس سے محبت کرنے لگتا ہوں۔ پھر جب میں اس سے محبت کرتا ہوں تو میں اس کا کان بن جاتا ہوں جس سے وہ سنتا ہے۔ اس کی آنکھ بن جاتا ہوں جس سے وہ دیکھتا ہے۔ اس کا ہاتھ بن جاتا ہوں جس سے وہ پکڑتا ہے۔ اس کا پاؤں بن جاتا ہوں جس سے وہ چلتا ہے۔ اگر وہ مجھ سے مانگے تو میں ضرور اس کو دیتا ہوں اگر وہ میری پناہ چاہے تو میں ضرور اس کو پناہ دیتا ہوں۔
اللہ تعالی نے کچھ چیزیں بندوں کے اوپر فرض کی ہیں مثلاً پانچ وقت کی نماز، سال میں مقرر شرح سے زکوٰۃ، جائز حدود میں کمائی وغیرہ۔ مگر آدمی کا تعلق جب اللہ سے بڑھتا ہے تو اس کا عمل فرض کے دائرہ میں محدود نہیں رہتا۔ اللہ کی طرف بڑھی ہوئی توجہ اس کو مجبور کرتی ہے کہ وہ حد سے آگے بڑھ کر عمل کرے۔ وہ پانچ وقتوں کے علاوہ اوقات میں بھی اللہ کو یاد کرتا رہتا ہے۔ وہ مقررہ زکوٰۃ کے علاوہ بھی اللہ کی راہ میں خرچ کرتا ہے۔ وہ اللہ کے کام میں اتنا مشغول ہوتا ہے کہ جائز حدود میں کمائی کرنے کا موقع بھی اس کے لئے باقی نہیں رہتا۔ کوئی آدمی جب اپنے کو اللہ میں اس طرح شامل کرتا ہے تو اس کے بعد اس کا پورا وجود اللہ میں ڈھل جاتا ہے۔ وہ شعور کی اس سطح پر پہنچ جاتا ہے جہاں اس کا شعور اللہ کے شعور سے الگ نہیں رہتا۔ معاملات کا تجزیہ کرنا، معاملات کے بارے میں رائے قائم کرنا، معاملات میں تدبیریں اختیار کرنا، غرض اس کا ہر عمل سنت الہی کے مطابق ہو جاتا ہے۔ اللہ کا جو بندہ اپنے آپ کو اس طرح اللہ میں شامل کرلے وہ اللہ کا دوست بن جاتا ہے۔ اللہ اس کے ساتھ وہ معاملہ کرتا ہے جو دوست کے ساتھ کیا جاتا ہے۔ ایسا بندہ خدا خواہ بظاہر کمزور ہو مگر اس کی پشت پر خدا کھڑا ہوتا ہے اس سے لڑنا خدا سے لڑنے کے ہم معنی بن جاتا ہے۔ وہ اپنے فہم اور ذوق کے اعتبار سے ایسا بن جاتا ہے کہ خدا سے وہی چیز مانگے جو اس سے مانگنے کی ہے۔ اس لئے جب وہ مانگتا ہے تو خدا ضرور اس کی مانگ کو پورا کرتا ہے۔ وہ اس سے اسی چیز کی پناہ چاہتا ہے جس کی پناہ کے لئے خدا سے درخواست کرنا چاہئے، اس لئے جب وہ خدا سے پناہ مانگتا ہے تو خدا ضرور اس کو اپنی پناہ عطا کرتا ہے۔ ں سے چوبھی) ۔ ہرچند کہ اس