ایک پرانی یاد
Al-Risala, September 1981, p. 1
By Maulana Wahiduddin Khan
جمعیۃ بلڈنگ ، قاسم جان اسٹریٹ، دھلی ۶ (انڈیا)
آپ کو کوئی آدمی ایسا نہیں ملے گا جو خریداری کے کام کو صرف اس لئے چھوڑ دے کہ چیزوں کی قیمت میں اضافہ ہوگیا ہے۔ چیزوں کے دام بڑھ رہے ہیں۔ مگر بازار میں خریداروں کی بھیڑ میں کوئی کمی نہیں ہوتی۔ تاہم ایسے لوگ ہیں جنھوں نے صرف اس لئے الرسالہ کی خریداری بند کر دی ہے کہ اس کی قیمت میں گرانی کے سبب سے ایک روپیہ کا اضافہ کر دیا گیا ہے۔
ایسے لوگوں سے ہم کہیں گے کہ الرسالہ کا خریدنا کوئی بازار کا سودا خریدنے کا معاملہ نہیں ہے۔ یہ دعوتِ حق کی مہم میں اپنے آپ کو شریک کرنا ہے۔ اسلام کی ایک تاریخ وجود میں آرہی ہے۔ اب جو شخص چاہے اس تاریخ کا جزو بن جائے۔ اور جو شخص اس کا جزو بننے کے لئے تیار نہ ہو وہ خود سوچ لے کہ جس مہنگائی کو وہ اپنے دنیا کے معاملات میں پوری طرح گوارا کئے ہوئے تھا اسی مہنگائی کو آخرت کے معاملہ میں گوارا نہ کرنے کے لئے اس کے پاس خدا کے یہاں کیا جواب ہوگا۔
زر تعاون سالانہ ۳۶ روپیہ • خصوصی تعاون سالانہ دوسوروپئے • بیرونی ممالک ۲۰ ڈالر امریکی