Al-Risala · September 1981

عید الفطر

Al-Risala, September 1981, pp. 3–4

By Maulana Wahiduddin Khan

عید الفطر کے لفظی معنی ہیں افطار کی عید یعنی روزہ ختم کرنے اور کھانے پینے کی عید ۔ اسلام کا سالانہ تہوار ہے جو رمضان کے مہینے کے فوراً بعد شوال کی پہلی تاریخ کو منایا جاتا ہے۔ ایک سادہ تہوار ہے اس میں کوئی چیز بھی بطور فرض یا لازم کے نہیں ہے، جو کچھ بھی ہے وہ سنت یا مستحب ہے۔ یہ تو لازم کیا گیا ہے کہ عید الفطر کے دن کوئی شخص روزہ نہ رکھے مگر یہ لازم نہیں کیا گیا ہے کہ وہ فلاں فلاں عمل ضرور کرے ، گویا کہ عید الفطر مکمل آزادی کا دن ہے۔

عید الفطر کے دن مسلمان صبح اٹھ کر نہاتے دھوتے ہیں۔ نیا کپڑا پہنتے ہیں۔ خوشبو لگاتے ہیں۔ پسند کی میٹھی چیز (مثلاً سویاں) کھاتے ہیں۔ اور پھر اجتماعی عبادت کے لئے مسجد کی طرف روانہ ہوتے ہیں۔ وہاں وہ دو رکعت نماز پڑھتے ہیں۔ اس نماز میں اللہ اکبر (اللہ سب سے بڑا ہے) کا لفظ عام نمازوں سے کچھ زیادہ بار دہرایا جاتا ہے۔ نماز کے بعد سب مل کر خدا سے دعائیں کرتے ہیں۔ مسجد جاتے ہوئے اور مسجد سے واپس ہوتے ہوئے راستہ میں یہ کہتے جاتے ہیں : اللہ اکبر اللہ اکبر لا الہ الا اللہ واللہ اکبر اللہ اکبر وللہ الحمد (اللہ سب سے بڑا ہے اللہ سب سے بڑا ہے اس کے سوا کوئی معبود نہیں، اللہ سب سے بڑا ہے اللہ سب سے بڑا ہے اور اسی کے لئے ہے ساری تعریف) یہ بات پسندیدہ ہے کہ بستی کے سارے مسلمان ایک مقام پر اکٹھا ہو کر نماز ادا کریں، مرد، عورت اور بچے سب وہاں حاضر ہوں اور گھر سے مسجد آنے اور جانے کا راستہ بدل دیں۔ یہ سب اس لئے ہے تاکہ خدا پرست گروہ کی شوکت کا زیادہ سے زیادہ مظاہرہ ہو۔ نماز کے بعد آپس میں ملنے اور ایک دوسرے کو مبارک باد دینے کا پروگرام ہوتا ہے۔ وہ لوگ اپنے رشتہ داروں اور دوستوں کے گھر جاتے ہیں۔ چھوٹے اپنے بڑوں کو سلام کرتے ہیں اور بڑے اپنے چھوٹوں کو تحفے اور عیدی پیش کرتے ہیں۔ اس طرح سارا دن خوشیاں منانے اور کھانے پینے میں گزر جاتا ہے۔ یہ عید الفطر عام معنوں میں محض ایک قومی تہوار نہیں ہے ، اس کی بہت خاص معنویت ہے اور زندگی کے اسلامی تصور سے اس کا بہت گہرا تعلق ہے۔ اسلامی عقیدہ کے مطابق عید اس دن کی علامت یا تمثیل ہے جب کہ ساری بڑائی صرف ایک خدا کے لئے ہوگی ۔ ہر قسم کی شان وشوکت صرف ان لوگوں کو ملے گی جو موجودہ امتحان کی دنیا میں خدا کے وفادار بن کر رہے تھے۔ جب خدا پرستوں کے لئے مشکلوں اور مصیبتوں کے دن ختم ہو جائیں گے اور ان کا خدا ان کو خوشیوں اور راحتوں کی ابدی دنیا میں داخل کر دے گا جہاں سے کبھی نکلنا نہ ہوگا۔

اسلام کے نزدیک آدمی کی زندگی کے دو مرحلے ہیں۔ ایک موت سے پہلے اور دوسرا موت کے بعد۔ موت سے پہلے کا مرحلہ عمل کرنے کا مرحلہ ہے اور موت کے بعد کا مرحلہ اپنے عمل کا انجام پانے کا مرحلہ ۔ موت سے پہلے پابند اور ذمہ دار زندگی گزارنا ہے اور موت کے بعد اس کے انعام کے طور پر ایسی زندگی ملے گی جس میں آدمی ہر طرح آزاد اور خوش حال ہوگا۔ روزہہ کا مہینہ موت سے پہلے کی زندگی کی علامت ہے اور عید الفطر کا دن موت کے بعد کی زندگی کی علامت۔

موت سے پہلے کی زندگی میں آدمی کو جو کچھ کرنا ہے وہ یہ کہ وہ خدا کی مرضی کا پابند ہو کر زندگی وہ جو کچھ کرے جائز دائرہ میں کرے، خدا کے منع کئے ہوئے دائرہ میں داخل نہ ہو۔ مثلاً وہ سچ بولے اور جھوٹ نہ بولے ۔ وہ محنت کی کمائی کھائے اور لوٹ کھسوٹ کے طریقوں سے بچے ۔ کے ساتھ معاملہ کرنے میں وہ ہمیشہ انصاف برتے اور بے انصافی کا طریقہ کبھی اختیار نہ کرے۔ دل میں لوگوں کے لئے محبت اور خیر خواہی ہو نہ کہ بغض اور حسد۔

روزہ اسی پابند زندگی کی مشق ہے، وہ آدمی کو یاد دلاتا ہے کہ اس دنیا میں اس کو ذمہ دارانہ زندگی گزارنا ہے نہ کہ غیر ذمہ دارانہ زندگی ۔ روزہ میں آدمی خدا کے حکم سے کھانا پانی چھوڑ دیتا ہے ۔ معمولات کو بدل دیتا ہے، اپنی خواہشوں پر روک لگاتا ہے۔ اپنی مرضی پر چلنے کے بجائے اپنے آپ کو خدا کی مرضی کا پابند بناتا ہے ۔ اس طرح مسلسل ایک ماہ تک وہ اپنے آپ کو ایک پر مشقت کورس سے گزارتا یہ روزہ کی صورت میں اس پابند زندگی کا ایک علامتی سبق ہے جو آدمی کو موجودہ دنیا میں اپنی زندگی میں نباہنا ہے۔ رمضان میں ایک مہینہ تک اس قسم کی پابند زندگی گزارنے کے بعد یکم شوال کو عید الفطر کا دن آتا ہے جب کہ ساری پابندیاں ختم کردی جاتی ہیں اور آدمی آزاد ہوتا ہے کہ وہ خوشیوں اور راحتوں کا دن منائے۔ روزہ کے مہینہ میں اگر اس کو موت سے پہلے کی زندگی کا سبق دیا گیا تھا تو عید الفطر کے دن اس کو موت کے بعد کی زندگی کی جھلک دکھائی جاتی ہے۔ روزہ مسلمان کی دنیوی زندگی کی تمثیل ہے اور عید الفطر مسلمان کی آخرت کی زندگی کی تمثیل۔

روز کا مہینہ اور اس کے فوراً بعد عید الفطر آدمی کو یاد دلاتے ہیں کہ اگر اس نے موجودہ دنیا میں خدا کے حکموں کے مطابق پابند زندگی گزاری تو اگلی دنیا میں اس کو خوشی اور آزادی کی پر بہار جنتوں میں داخل کیا اس کے بعد نہ اس پر کوئی پابندی ہوگی اور نہ کسی قسم کی تکلیف۔

نوٹ: یہ تقریر ۳ اگست ۱۹۸۱ کو آل انڈیا ریڈیو نئی دہلی سے نشر کی گئی۔

Printed page