ظالم کا دل ہل گیا
Al-Risala, September 1981, pp. 12–13
By Maulana Wahiduddin Khan
ساتویں صدی ہجری میں تاتاری قبائل نے اسلامی سلطنت پر حملہ کیا اور عراق ، ایران ، ترکستان میں مسلم تہذیب و سلطنت کو زیرو زبر کر ڈالا ۔ مگر اس کے بعد اللہ نے ان کے دلوں کو نرم کیا اور تقریبا پوری کی پوری قوم مسلمان ہو کر اسلام کی پاسبان بن گئی ۔ اس زمانہ کے دعوتی واقعات میں سے ایک واقعہ یہ ہے کہ شیخ جمال الدین ایرانی کہیں جا رہے تھے۔ اتفاق سے انہی دنوں ایک تاتاری شہزادہ تغلق تیمور شکار کے لئے نکلا ہوا یہ شہزادہ تاتاریوں کی چغتائی شاخ کا ولی عہد تھا جو ایران پر حکومت کر رہی تھی۔ شیخ جمال الدین ایرانی چلتے ہوئے اس علاقہ میں پہنچ گئے جہاں شہزادہ شکار کھیل رہا تھا۔ تاتاری اس زمانہ میں ایرانیوں کو منحوس سمجھتے شہزادہ کے سپاہیوں نے شکار گاہ میں ایک ایرانی کی موجودگی کو برا فال سمجھا اور ان کو پکڑ لیا۔ اس کے بعد وہ اس گستاخ ایرانی کو شہزادہ کے پاس لے گئے۔ شہزادہ ان کو دیکھ کر سخت برہم ہوا۔ غصہ کی حالت میں اس کی زبان سے نکلا : تم ایرانیوں سے تو ایک کتا اچھا ہے۔ شیخ جمال الدین تاتاری کے اس نفرت انگیز سوال کو سن کر سنجیدہ انداز میں بولے: اگر ہم کو سچا دین نہ ملا ہوتا تو یقیناً ہم کتے سے بھی زیادہ برے ہوتے۔ تاتاری اگر چہ وحشی تھے مگر ان میں فطری مردانگی کا جو ہر موجود تھا۔ وہ منافقت سے خالی تھے۔ ہے کہ شیخ کا یہ جواب تغلق تیمور کے لئے سخت جھنجھوڑنے والا ثابت ہوا۔ اس نے حکم دیا کہ جب میں شکار سے فارغ ہو جاؤں تو اس ایرانی کو میری خدمت میں حاضر کرو۔ شیخ جمال الدین جب حاضر کئے گئے تو وہ ان کو تنہائی میں لے گیا اور ان سے پوچھا کہ یہ دین کیا ہے ۔ شیخ جمال الدین نے نڈر ہو کر اس کے سامنے اسلام کی تعلیمات پیش کیں۔ اس گفتگو نے تاتاری شہزادہ کا دل ہلا دیا۔ بے دینی کی حالت میں مرنا اسے بڑا خطرناک معلوم ہونے لگا ۔ وہ اس پر آماده ہو گیا کہ اسلام قبول کرلے۔ تاہم ابھی وہ ولی عہد تھا، بادشاہ نہ تھا۔ اس نے کہا کہ اس وقت اگر میں اسلام قبول کرتا ہوں تو میں اپنی رعایا کو اسلام کے دین پر نہیں لاسکتا۔ اس نے شیخ جمال الدین سے کہا : اچھا اس وقت جب تم سنو کہ میری تاج پوشی ہوئی ہے اور میں تخت پر بیٹھ گیا ہوں تو اس وقت تم میرے پاس آنا۔ شیخ جمال الدین اپنے گھر واپس آگئے اور اس وقت کا انتظار کرنے لگے جب کہ تغلق تیمور کی تخت نشینی کی خبر انھیں معلوم ہو۔ مگر یہ وقت ان کی زندگی میں نہیں آیا۔ یہاں تک کہ وہ مرض الموت میں مبتلا ہو گئے۔ انھوں نے اپنے لڑکے شیخ رشید الدین کو بلایا اور تاتاری شہزادہ کا قصہ بتا کر کہا کہ دیکھو میں ایک مبارک گھڑی کا انتظار کر رہا تھا۔ مگر اب ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اس کا آنا میری زندگی میں مقدر نہیں۔ اس لئے میں تم کو وصیت کرتا ہوں کہ جب تم سنو کہ تغلق تیمور کی تاج پوشی ہوئی ہے تو تم وہاں جانا اور اس کو میرا سلام کہنا
اور بے خوفی کے ساتھ اس کو شکار کا واقعہ یاد دلانا جو میرے ساتھ پیش آیا تھا۔ شاید اللہ اس کا سینہ حق کے لئے کھول دے۔
اس کے بعد شیخ جمال الدین کا انتقال ہو گیا۔ باپ کی وصیت کے مطابق ان کے لڑکے شیخ رشید الدین تاتاری شہزادہ کی تخت نشینی کا انتظار کرنے لگے۔ جلدی ہی ان کو خبر ملی کہ تغلق تیمور تخت پر بیٹھ گیا ہے۔ اب وہ اپنے وطن سے روانہ ہوئے۔ منزل پر پہنچے تو دربانوں نے خیمہ کے اندر جانے سے روک دیا کیوں کہ ان کے پاس دربانوں کو بتانے کے لئے کوئی بات نہ تھی کہ وہ کیوں بادشاہ سے ملنا چاہتے ہیں۔ اس کے بعد انھوں نے یہ کیا کہ خیمہ کے قریب ایک درخت کے نیچے پڑاؤ ڈال کر ٹھہر گئے۔
ایک روز وہ فجر کے لئے اٹھے۔ اول وقت تھا اور فضا میں ابھی سناٹا چھایا ہوا تھا۔ انھوں نے بلند آواز سے اذان دینا شروع کیا۔ یہ آواز خیمہ کے اس حصہ تک پہنچ گئی جہاں شاہ تغلَق تیمور سورہا تھا۔ ایسے وقت میں یہ آواز بے معنی شور معلوم ہوئی۔ اس نے اپنے ملازموں سے کہا کہ دیکھو یہ کون پاگل ہے جو اس وقت ہمارے خیمہ کے پاس شور کر رہا ہے۔ اس کو پکڑ کر ہمارے پاس حاضر کرو۔ چنانچہ شیخ رشید الدین فوراً بادشاہ کی خدمت میں حاضر کر دئے گئے۔
اب بادشاہ نے ان سے سوال و جواب شروع کیا کہ تم کون ہو اور کیوں ہمارے خیمہ کے پاس شور کر رہے شیخ رشید الدین نے اپنے والد شیخ جمال الدین کی پوری کہانی سنائی اور کہا کہ آپ کے سوال کے جواب میں جب میرے والد نے کہا تھا کہ اگر ہم کو سچا دین نہ ملا ہوتا تو یقیناً ہم کتے سے بھی زیادہ برے ہوتے تو آپ نے کہا تھا کہ اس وقت میں کچھ نہیں کہتا مگر جب میری تخت نشینی ہو جائے تو تم میرے پاس آنا۔ مگر اس کے انتظار میں میرے والد کا آخری وقت آگیا۔ اب ان کی وصیت کے مطابق میں آپ کے پاس وہ بات یاد دلانے کے لئے حاضر
بادشاہ نے پورے قصہ کو غور کے ساتھ سنا۔ آخر میں بولا کہ مجھے اپنا وعدہ یاد ہے۔ انتظار میں تھا۔ اس کے بعد اس نے وزیر کو بلایا اور کہا کہ ایک راز میرے سینہ میں تھا جس کو آج اس ایرانی فقیر نے یاد دلایا ہے۔ میرا ارادہ ہے کہ میں اسلام قبول کرلوں، تمھاری کیا رائے ہے۔ وزیر نے کہا کہ میں بھی یہی راز اپنے سینہ میں لئے ہوئے ہوں۔ میں سمجھ چکا ہوں کہ سچا دین یہی ہے۔ اس کے بعد بادشاہ اور وزیر دونوں شیخ رشید الدین کے ہاتھ پر مسلمان ہو گئے۔ اس کے بعد بقیہ در باریوں نے بھی اسلام قبول کر لیا۔ بادشاہ کے قبول اسلام کے بعد پہلے ہی دن ایک لاکھ ساٹھ ہزار آدمیوں نے اسلام قبول کر لیا اور بالآخر ایران کی پوری تاتاری قوم نے بھی۔