Al-Risala · September 1981

راکھ کی گواہی

Al-Risala, September 1981, p. 14

By Maulana Wahiduddin Khan

دہلی کا ایک محلہ ہے جس کا نام نبی کریم ہے۔ یہاں ایک نوجوان مزدور اشوک نام کا رہتا تھا۔ ۵ ستمبر ۱۹۸۰ء کو وہ اپنے گھر کے پاس مرا ہوا پایا گیا۔ ڈاکٹر نے اپنی رپورٹ میں بتایا کہ اچانک دل کی حرکت بند ہونے کی وجہ سے اس کا انتقال ہو گیا۔ اس واقعہ کی کوئی رپورٹ پولیس میں درج نہ ہو سکی۔ اگلے دن اشوک کی لاش جمنا کے کنارے لے جائی گئی اور اس کو جلا کر دریا میں بہا دیا گیا۔

بظاہر معاملہ ختم ہو چکا تھا، اور اگر اس میں کوئی مجرمانہ سازش ہو تو اس کا پتہ لگانے کا کوئی امکان اب باقی نہیں رہا تھا۔ مگر جلائی ہوئی لاش کی راکھ نے وہ بات بتا دی جو معروف ذرائع نہیں بتا سکے ۔ اشوک کی ماں جمیلی دیوی کو بعض وجوہ سے یہ شبہ ہوا کہ اشوک طبعی موت نہیں مرا ہے بلکہ اس کے ایک دوست سریش (۲۶ سال) نے اس کو شراب میں زہر دے کر اسے مارا ہے ۔ ماں نے ۲ ستمبر کو پولیس میں رپورٹ پولیس کے لئے اب واحد صورت یہ باقی تھی کہ وہ مردہ کی راکھ حاصل کر کے اس کی چھان بین کرے۔ رپورٹ کے بعد اسی دن ایک پولیس پارٹی لاش جلانے والے گھاٹ پر پہنچی۔ یہ ستمبر کی سات تاریخ تھی۔ خوش قسمتی سے شمشان بھومی کے مذکورہ پلیٹ فارم پر ابھی تک کوئی دوسری لاش نہیں جلائی گئی تھی۔ راکھ جمع کی اور اس جلی ہوئی راکھ کو سنٹرل فارنسک سائنس لیبوریٹری (آر کے پورم) میں جانچ کے لئے بھیج دیا۔ وہاں سے چھ ماہ بعد ۱۳ مارچ ۱۹۸۱ء کو رپورٹ آئی۔ رپورٹ نے تصدیق کر دی کہ مرنے والا طبعی موت نہیں مرا بلکہ زہر کے سبب سے مرا ہے ۔ ۱۶ مارچ کو سریش کو قتل کے جرم میں گرفتار کر لیا گیا (ہندوستان ٹائمس ۱۷ مارچ ۱۹۸۱) اخباری رپورٹر نے اس واقعہ کی روداد درج کرتے ہوئے یہ الفاظ لکھے ہیں : مرے ہوئے آدمی کوئی بات نہیں بتاتے مگر ان کی جلی ہوئی راکھ بتا سکتی ہے ۔

Printed page