Al-Risala · September 1981

Dead men tell no tales, but their ashes may

Al-Risala, September 1981, pp. 14–27

By Maulana Wahiduddin Khan

انسان ظلم کرتا ہے اور "ریکارڈ" جلا کر سمجھتا ہے کہ اس نے اپنے عمل کا ثبوت مٹا دیا۔ وہ برائی کرتا ہے اور اپنی ہوشیاری اور طاقت سے اس پر پردہ ڈال کر یقین کر لیتا ہے کہ اس نے اپنی برائی کو ہمیشہ کے لئے چھپا دیا ہے مگر وہ بھول جاتا ہے کہ وہ اپنی بنائی ہوئی دنیا میں نہیں ہے بلکہ خدا کی بنائی ہوئی دنیا میں ہے ۔ اور خدا نے اپنی دنیا کو اس طرح بنایا ہے کہ یہاں ہر عمل وجود میں آتے ہی کائناتی صفحہ پر اس طرح ثبت ہو جاتا ہے کہ اس کے بعد اس کو مٹانا کسی کے لئے ممکن نہیں رہتا۔ ہر آدمی عمل کرنے کے لئے آزاد ہے مگر وہ اپنے عمل کا نشان مٹانے کے لئے آزاد نہیں۔ آدمی اگر اپنی اس بے بسی کو جان لے تو وہ ظلم اور برائی کے قریب بھی نہ جائے ۔

جب تم ابنے رب سے فریاد کر رہے تھے تو اس نے تمھاری فریاد سنی کہ میں تمھاری مدد کے لئے ایک ہزار فرشتے لگاتار بھیج رہا ہوں۔ اور یہ اللہ نے صرف اس لئے کیا کہ تمھارے لئے خوش خبری ہو اور تاکہ تمھارے دل اس سے مطمئن ہو جائیں ۔ اور مدد تو اللہ ہی کے پاس سے آتی ہے۔ یقیناً اللہ زبردست ہے حکمت والا ہے۔ نے تم پر اونگھ ڈال دی اپنی طرف سے تمھاری تسکین کے لئے اور آسمان سے تمھارے اوپر پانی اتارا کہ اس کے ذریعہ سے تمھیں پاک کرے اور تم سے شیطان کی نجاست کو دور کر دے اور تمھارے دل کو مضبوط کر دے اور اس سے قدموں کو جما دے ۔ جب تیرے رب نے فرشتوں کو حکم بھیجا کہ میں تمھارے ساتھ ہوں، تم ایمان والوں کو میں کافروں کے دلوں میں رعب ڈال دوں گا۔ پس تم ان کی گردن کے اوپر مارو اور ان کے پور پور پر یہ اس سبب سے کہ انھوں نے اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت کی۔ اور جو کوئی اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت کرتا ہے تو اللہ سزا دینے میں سخت ہے۔ یہ تو اپ چکھو اور جان لو کہ منکروں کے لئے آگ کا عذاب ہے۔

بو کی لڑائی بڑے نازک حالات میں ہوئی۔ تقریباً ایک ہزار مسلح دشمنوں کے مقابلہ میں مسلمانوں کی تعداد صرف ۳۱۳ تھی۔ ان کے پاس ہتھیار بھی کم تھے۔ دشمنوں نے مقام جنگ (بدر) پر پہلے پہنچ کر وہاں اچھی جگہ اور پانی کے چشمے پر قبضہ کر لیا۔ اس قسم کے حالات دیکھ کر مسلمانوں کے دل میں یہ وسوسہ آنے لگا کہ جس مشن کے لئے وہ اپنا زندگی ویران کر رہے ہیں اس کے ساتھ شاید خدا کی مدد شامل نہیں۔ اگر وہ حق ہوتا تو ایسے نازک موقع پر خدا کیوں ان کا ساتھ نہ دیتا، کیوں اسباب کے تمام سرے ان کے ہاتھ سے نکل کر دشمنوں کی طرف چلے جاتے۔ اس وقت اللہ تعالیٰ نے بدر کے علاقہ میں زور کی بارش برسائی۔ مسلمانوں نے حوض بنا کر بارش کا پانی جمع دشمن نے مسلمانوں کو زمین کے پانی سے محروم کیا تھا، خدا نے ان کے لئے آسمان سے پانی کا انتظام کر دیا۔ طرح خدا نے یہ غیر معمولی انعام فرمایا کہ مسلمانوں کے اوپر نیند طاری کر دی ۔ سونا آدمی کے تازہ دم ہونے کے لئے بہت مگر میدان جنگ کے حالات اس قدر وحشت ناک ہوتے ہیں کہ آدمی کی نیند اڑ جاتی ہے۔ باوجود اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کی یہ خصوصی مدد فرمائی کہ جنگ کے دن سے پہلے والی رات کو ان پر نیند طاری کر دی ۔ وہ رات کو ذہنی بوجھ سے فارغ ہو کر سو گئے اور صبح کو پوری طرح تازہ دم ہو کر اٹھے ــــــــ جو حالات مسلمانوں کے اندر وسوسہ پیدا کرنے کا سبب بن رہے تھے، انھیں حالات کے اندر خدا نے ایسے امکانات پیدا کر دیئے کہ ان کے اندر نیا یقین در اعتماد ابھر آیا۔

مقابلہ کے وقت اہل حق سے جو چیز مطلوب ہے وہ ثابت قدمی ہے۔ انھیں کسی حال میں بددل نہیں ہونا اس ثابت قدمی کا نقد انعام خدا کی طرف سے یہ ملتا ہے کہ دشمنان حق کے دلوں میں رعب ڈال دیا جاتا ہے۔ جو گروہ اپنے حریف سے مرعوب ہو جائے اس کو کوئی چیز شکست سے نہیں بچا سکتی۔

اے ایمان والو، جب تمھارا مقابلہ منکرین سے میدان جنگ میں ہو تو ان سے پیٹھ مت پھیرو۔ اور جس نے ایسے موقع پر پیٹھ پھیری، سوائے اس کے کہ جنگی چال کے طور پر ہو یا دوسری فوج سے جاننے کے لیے، تو اللہ کے غضب میں آ جائے گا اور اس کا ٹھکانا جہنم ہے اور وہ بہت ہی برا ٹھکانا ہے ۱۶ - ۱۵ اسلام اور غیر اسلام کا ٹکراؤ جب جنگ کے میدان تک پہنچ جائے تو یہ گویا دونوں فریقوں کے لیے آخری فیصلہ کا وقت ہوتا ہے۔ ایسے نازک لمحہ میں اگر کوئی شخص یا گروہ ایسا کرے کہ عین معرکہ کے وقت وہ میدان چھوڑ کر بھاگے تو اس نے بدترین جرم کیا۔ ایک طرف اس نے حق کو بچانے کے مقابلہ میں اپنے آپ کو بچانے کو زیادہ اہم سمجھا، اس نے اپنے مقصد کے مقابلہ میں اپنی ذات کو ترجیح دی۔ اور یہ سب کچھ اس نے اس وقت کیا جب کہ اس حق کی زندگی کی بازی لگی ہوئی تھی جس کو اعلیٰ ترین صداقت قرار دے کر وہ اس پر ایمان لایا تھا۔ دوسرے یہ کہ ایسے نازک موقع پر اکثر ایک چھوٹا سا واقعہ بہت بڑے واقعہ کا سبب بن جاتا ہے۔ یا ایک گروہ کا میدان چھوڑ کر بھاگنا پوری فوج کا حوصلہ توڑ دیتا ہے۔ ایک شخص کی جھگڑ بالا خر عام جھگڑے کی صورت اختیار کر لیتی ہے ۔ اور ہنگامی حالات میں جب کسی مجمع میں عام جھگڑا شروع ہو جائے تو وہ اپنی آخری حد پر پہنچنے سے پہلے کہیں نہیں رکتی۔

اس سے مستثنیٰ صرف وہ صورت ہے جب کہ کوئی سپاہی یا سپاہیوں کا کوئی دستہ کسی جنگی تدبیر کے لیے پیچھے ہٹتا ہے یا وہ اپنے ایک مورچہ سے ہٹ کر کسی دوسرے مورچہ کی طرف سمٹنا چاہتا ہے۔ فرار کے طور پر اگر وہ کوئی پیچھے ہٹتا ہے تو وہ بلاشبہ ناقابل معافی جرم کرتا ہے۔ مگر جو پیچھے ہٹنا تدبیر جنگ سے تعلق رکھتا ہو وہ جائز ہے ۔ اس کے لئے آدمی پر کوئی الزام نہیں۔

مذکورہ حکم اصلاً جنگ سے متعلق ہے۔ تاہم دوسری مشابہ صورتیں بھی درجہ بدرجہ اسی کے ذیل میں آسکتی ہیں، مثلاً ایک شخص بے آمیز اسلام کے خاموش اور تعمیری عمل کی طرف لوگوں کو پکارے۔ مگر کچھ عرصہ کے بعد جب وہ دیکھے کہ اس کی دعوت لوگوں میں زیادہ مقبول نہیں ہو رہی ہے تو وہ بے صبری کا شکار ہو جائے اور خاموش تعمیر کے محاذ کو چھوڑ کر ایسے اسلام کی طرف دوڑ پڑے جس کے ذریعہ عوام میں بہت جلد شہرت اور مرتبہ حاصل کیا جاسکتا ہے۔ جنگ کے میدان سے بھاگنا شعور اور ارادہ کے تحت ہوتا ہے۔ مگر جنگی میدان کے باہر جو معرکہ جاری ہے اس سے ”بھاگنا‘‘، ایک غیر شعوری واقعہ ہے۔ آدمی طبعی طور پر نتیجہ پسند واقع ہوا ہے۔ وہ اپنے کام کا اعتراف اس کا یہ مزاج غیر شعوری طور پر اس کو ان کاموں سے ہٹا دیتا ہے جن میں فوری نتیجہ نکلتا ہوا نظر نہ آتا ہو۔ وہ اپنے اندر کام کرنے والے غیر شعوری اثرات کے تحت ان چیزوں کی طرف کھنچ اٹھتا ہے جن میں بظاہر یہ امید ہو کہ فوراً عزت و کامیابی حاصل ہو جائے گی ۔ اس قسم کا انحراف اپنی حقیقت کے اعتبار سے اسی نوعیت کی چیز ہے جس کو مذکورہ آیت میں میدان مقابلہ سے بھاگنا کہا گیا ہے۔

پس ان کو تم نے قتل نہیں کیا بلکہ اللہ نے قتل کیا۔ اللہ جب تو نے ان پر خاک پھینکی تو تم نے نہیں پھینکی بلکہ اللہ نے پھینکی تاکہ اللہ اپنی طرف سے ایمان والوں پر خوب احسان کرے۔ بے شک اللہ سننے والا جاننے والا ہے۔ یہ تو ہو چکو۔ اور بے شک اللہ منکرین کی تمام تدبیریں بے کار کر کے رہے گا۔ اگر تم فیصلہ چاہتے تھے تو فیصلہ تمھارے سامنے آگیا۔ اور اگر تم باز آجاؤ تو یہ تمھارے حق میں اور اگر تم پھر وہی کرو گے تو ہم بھی پھر وہی کریں گے اور تمھارا جتھا تمھارے کچھ کام نہ آئے گا خواہ وہ کتنا ہی زیادہ اور بے شک اللہ ایمان والوں کے ساتھ ہے (۱۹ - ۱۹-۱۷ روایات میں آتا ہے کہ جب بدر کا معرکہ گرم ہوا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان سے دعا کرتے ہوئے یہ الفاظ نکلے: یارب ان تھلک ھذہ العصابة فلن تعبد في الارض ابداً (اے میرے رب، اگر یہ جماعت ہلاک ہو گئی تو کبھی زمین پر تیری پرستش نہ ہوگی پھر آپ نے اپنے ہاتھ میں مٹھی بھر خاک لی اور اس کو مشرکین کی طرف پھینکتے ہوئے کہا شاھت الوجوہ (چبہرے بگڑ جائیں) اس کے بعد کافروں کے لشکر کا یہ حال ہوا جیسے سب کی آنکھوں میں ریت چنانچہ مسلمانوں نے نہایت آسانی سے جس کو چاہا قتل کیا اور جس کو چاہا گرفتار کر لیا۔ یہ اللہ تعالی کا قاعدہ ہے کہ وہ اہل ایمان کی مدد کرتا ہے۔ ان کے دشمن خواہ کتنی ہی سازشیں کریں وہ ان کی سازشوں کو اپنی تدبیروں سے بے اثر کر دیتا ہے۔ وہ ان کا مغلوب کر کے اہل ایمان کو ان کے اوپر غالب کر دیتا ہے۔ ایسا کب ہوتا ہے۔ ایسا اس وقت ہوتا ہے جب کہ اہل ایمان اپنے ارادہ کو خدا کے ارادہ میں اس طرح ملا دیں کہ خدا کی منشا اور اہل ایمان کی منشا دونوں ایک ہو جائے۔ جب بندہ اس طرح اپنے آپ کو خدا کے مطابق کر لیتا ہے تو جو کچھ خدا کا ہے وہ اس کا ہو جاتا ہے کیونکہ جو کچھ اس کا ہے وہ خدا کو دے چکا ہوتا ہے۔

بدر کے لئے روانگی سے پہلے مکہ کے سردار بیت اللہ گئے اور کعبہ کے پردہ کو پکڑ کر یہ دعا کی: خدایا اس کی مدد کر جو دونوں لشکروں میں سب سے اعلیٰ ہو، جو دونوں گروہوں میں سب سے معزز ہو، جو دونوں قبیلوں میں سب سے بہتر ہو۔ (اللھم انصر اعلی الجندين واكرم الفئتين وخير القبيلتين) بدر کی لڑائی میں سرداران مکہ کو کامل شکست اور اہل ایمان کو کامل فتح ہوئی۔ اس طرح خود سرداران مکہ کے معیار کے مطابق یہ ثابت ہو گیا کہ خدا کے نزدیک اعلیٰ واشرف گروہ وہ نہیں ہیں بلکہ اہل اسلام ہیں۔ اس کے باوجود انھوں نے اسلام قبول نہیں کیا۔ ایسا کریں ان کے لئے آخرت میں سخت ترین عذاب ہے اور اسی کے ساتھ دنیا میں بھی۔

دونوں میں جو سب سے اعلیٰ اور سب سے اشرف ہو اس کو فتح دے‘‘ یہ بظاہر دعا تھی مگر حقیقتاً وہ اپنے قلبی میں پر فخر اعتماد کا اظہار تھا۔ اس کے پیچھے ان کی یہ نفسیات کام کر رہی تھی کہ ہم کعبہ کے پاسبان ہیں، ہم ابراہیم واسماعیل سے نسبت رکھنے والے ہیں۔ جب ہمارے ساتھ اتنی بڑی فضیلتیں جمع ہیں تو جیت ہر حال ہماری ہونی چاہئے۔ مگر خدا کے یہاں ذاتی عمل کی قیمت ہے نہ کہ خارجی انتسابات کی۔ خارجی انتساب خواہ وہ کتنا ہی بڑا ہو آدمی کے کچھ کام آنے والا نہیں۔

اے ایمان والو، اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرو اور اس سنے روگردانی نہ کرو حالاں کہ تم سن رہے ہو۔ ان لوگوں کی طرح نہ ہو جاو جنھوں نے کہا کہ ہم نے سنا حالاں کہ وہ نہیں سنتے۔ یقیناً اللہ کے نزدیک بدترین جانور وہ بہرے گونگے لوگ ہیں جو عقل سے کام نہیں لیتے۔ اور اگر ان میں کسی بھلائی کا علم اللہ کو ہوتا تو وہ ضرور انھیں سننے کی توفیق دیتا اور اگر اب وہ انھیں سنوا دے تو وہ ضرور روگردانی کریں گے بے رخی کرتے ہوئے۲۰-۲۳ آدمی کے سامنے جب حق بات پیش کی جائے تو ایک صورت یہ ہے کہ وہ اس کو ان تمام صلاحیتوں کو استعمال کرتے ہوۓ سنے جو خدا نے اس کو بحیثیت انسان عطا کی ہیں۔ وہ اس پر پوری طرح دھیان دے۔ وہ اس کی صداقت کے وزن کو محسوس کرلے۔ اور پھر اپنی زبان سے وہ صحیح جواب پیش کرے جو ایک حق کے مقابلہ میں انسان کی فطرت کو پیش کرنا چاہئے۔ جو شخص ایسا کرے اس نے گویا پیش کی ہوئی بات کو انسان کی طرح سنا۔ دوسری صورت یہ ہے کہ وہ اس کو اس طرح سے جیسے کہ اس کے پاس سننے کے لئے کان نہیں ہیں۔ اس کے سمجھنے کی صلاحیت اس کی سچائی کو پکڑنے سے عاجز رہ جائے۔ وہ اپنی زبان سے وہ صحیح جواب پیش نہ کر سکے جو اس کو از روئے واقعہ پیش کرنا چاہئے۔ ایسا کرے اس نے گویا پیش کی ہوئی بات کو جانور کی طرح سنا۔

کوئی بات خواہ وہ کتنی ہی برحق ہو اس کی حقانیت صرف اسی شخص پر کھلتی ہے جو دل کی آمادگی کے ساتھ اس کو اس کے برعکس جو شخص حسد، کبر، مصلحت اندیشی اور ظاہر پرستی کا مزاج اپنے اندر لئے ہوئے ہو وہ سچائی کو قابل غور نہیں سمجھے گا، وہ اس کو سنجیدگی کے ساتھ نہیں سنے گا، اس لئے وہ اس کی صداقت کو پانے میں بھی یقینی طور پر ناکام رہے گا۔

ایمان بظاہر ایک قول ہے۔ مگر اپنی حقیقت کے اعتبار سے وہ ایک انسانی فیصلہ ہے۔ ایمان محض شہادت کے الفاظ کی تکرار نہیں بلکہ اپنی معنوی حالت کا لفظی اظہار ہے۔ اگر آدمی کی حالت فی الواقع وہی ہو جس کا وہ ان الفاظ کے ذریعہ اعلان کر رہا ہے تو وہ خدا کی نظر میں حقیقی مومن ہے۔ مومن سنجیوہ ترین انسان ہے اور سنجیدہ انسان کبھی ایسا نہیں کر سکتا کہ اس کی اندرونی حالت کچھ ہو اور بولے ہوئے الفاظ میں وہ اپنے کو کچھ ظاہر کرے۔ جس آدمی کا ایمان اپنی اندرونی حقیقت کے اعلان کے ہم معنی ہو وہ ایمان کا اقرار کرتے ہی عملاً خدا کو اپنا معبود بنا لے گا اور اپنی زندگی کے تمام معاملات میں اس کی پیروی کرنے والا بن جائے گا۔ زبان سے ایمان کا اقرار اس کے لئے اپنی سمت سفر بتانے کے ہم معنی ہوگا نہ کہ کسی قسم کے لسانی تلفظ کے ہم معنی۔ اس کے برعکس حالت اس شخص کی ہے جس نے بات سنی۔ وہ اس کے دلائل کے مقابلہ میں لاجواب بھی ہوگیا۔ مگر وہ اس کی روح میں نہیں اتری۔ دہ اس کے دل کی دھڑکنوں میں شامل نہیں ہوئی ۔ تاہم اوپری طور پر اس نے زبان سے کہہ دیا کہ ہاں ٹھیک ہے۔ مگر اس کی واقعی زندگی اس کے بعد بھی ویسی ہی رہی جیسی کہ وہ اس سے پہلے تھی۔ یہ دوسری صورت نفاق کی صورت ہے اور خدا کے یہاں ایسے منافقانہ ایمان کی کوئی قیمت نہیں۔

اے ایمان والو، اللہ اور رسول کی پکار پر لبیک کہو جب کہ رسول تم کو اس چیز کی طرف بلا رہا ہے جو تم کو زندکہ دینے والی اور جان لو کہ اللہ آدمی اور اس کے دل کے درمیان حائل ہو جاتا ہے ۔ اور یہ کہ اسی کی طرف تمھارا اکٹھا ہونا اور ڈرو اس فتنے سے جو خاص تمھیں لوگوں پر واقع نہ ہوگا جو تم میں سے ظلم کے مرتکب ہوئے ہیں ۔ اور جان لو کہ اللہ سخت سزا دینے والا ہے ۲۵ - ۲۴ "زندگی کی پکار" سے مراد یہاں جہاد کی پکار ہے۔ یعنی حق کو دوسروں تک پہنچانے کی جدوجہد۔ یہ جد وجہد ابتداؤ زبان و قلم کے ذریعہ تلقین کی صورت میں شروع ہوتی ہے۔ مگر مدعو کا مخالفانہ رد عمل اس کو مختلف مراحل تک پہنچا دیتا ہے، حتیٰ کہ ہجرت اور جنگ تک بھی۔

آدمی انفرادی سطح پر اپنے خیال کے مطابق ایک دینی زندگی بناتا ہے۔ اس زندگی کو وہ اپنے حالات سے اس طرح مطابق کر لیتا ہے کہ وہ اس کو عافیت کا جزیرہ معلوم ہونے لگتی ہے۔ اس کو ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اگر وہ دوسروں کی اصلاح کے لئے اٹھا تو اس کا بنا بنایا آشیانہ اجڑ جائے گا ۔ اس کی لگی بندھی زندگی بے ترتیب ہو کر رہ جائے گی۔ اس کے وقت اور اس کے مال کا وہ نظام باقی نہ رہے گا جو اس نے اپنے ذاتی تقاضوں کے تحت بنا رکھا ہے۔ اس قسم کے اندیشے اس کے لئے دعوت واصلاح کی جدوجہد میں نکلنے اور اس کی راہ میں جان و مال پیش کرنے کے لئے رکاوٹ بن جاتے ہیں ۔ مگر یہ سراسر نادانی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ آدمی جس عافیت کدہ کو اپنے لئے زندگی سمجھ رہا ہے وہ اس کا قبرستان ہے۔ اور جس قربانی میں اس کو اپنی موت نظر آتی ہے اسی میں اس کی زندگی کا راز چھپا ہوا ہے ۔ دعوت واصلاح کا عمل، بشرطیکہ وہ آخرت کے لئے ہو نہ کہ دنیوی مقاصد کے لئے، انتہائی اہم عمل ہے۔ آدمی کے مردہ دین کو زندہ دین بناتا ہے۔ وہ اعلیٰ ترین سطح پر انسان کو خدا سے جوڑتا ہے۔ وہ ان قیمتی دینی تجربات سے آدمی کو آشنا کرتا ہے جو انفرادی خول میں رہ کر کبھی حاصل نہیں ہوتے۔ خدا کی طرف سے اتنی اہم پکار کو سن کر جو لوگ اس کے بارے میں بے توجہ رہیں وہ یہ خطرہ مول لے رہے ہیں کہ ان کے اور حق کے درمیان ایک نفسیاتی آڑ کھڑی ہو جائے ان کی یہ فطری صلاحیت ہمیشہ کے لئے کند ہو جائے گی وہ حق کی پکار کو سنیں اور اس کی طرف دوڑ کر اپنے رب کو پالیں ۔ انسان کی زندگی ایک سماجی زندگی ہے۔ کوئی شخص اس کے اندر اپنا انفرادی جزیرہ بنا کر نہیں رہ سکتا۔ ایک شخص ذاتی دین داری پر قانع ہے تو وہ ہر وقت اس اندیشے میں ہے کہ اجتماعی بگاڑ کے نتیجہ میں کوئی عمومی آگ پھیلے اور وہ خود بھی اس کی لپیٹ میں آجائے۔ اصلاحی جدوجہد اصلاح کے ساتھ عبارت بھی ہے۔ اگر آدمی اپنی ہر بات پیش کرنے میں ناکام رہے تو خدا اس کے معاملہ کو کیوں دوسروں سے الگ کرے گا۔

کوئی برائی ہمیشہ چھوٹی سطح سے شروع ہوتی ہے اور پھر بڑھتے بڑھتے بڑی بن جاتی ہے ۔ اگر ایسا ہو کہ برائی جب اپنی ابتدائی حالت میں ہو اسی وقت کچھ لوگ اس کے خلاف اٹھ جائیں تو وہ آسانی کے ساتھ اسے کچل دیں گے ۔ لیکن جب برائی پھیل چکی ہو تو اس کی جڑیں اتنی گہری ہو جاتی ہیں کہ پھر اس کو ختم کرنا ممکن نہیں رہتا۔

اور یاد کرو جب کہ تم تھوڑے تھے اور زمین میں کمزور سمجھے جاتے تھے۔ رتے تھے کہ لوگ اچانک تم کو اچک نہ لیں۔ نے تم کو رہنے کی جگہ دی اور اپنی نصرت سے تمھاری تائید کی اور تم کو پاکیزہ رزق دی تاکہ تم شکر گزار بنو۔ اے ایمان والو، خیانت نہ کرو اللہ اور رسول کی اور خیانت نہ کرو اپنی امانخودں میں حالانکہ تم جانتے ہو۔ اور جان لو کہ تمھارے مال اور تمھاری اولاد ایک آزمائش ہیں۔ اور یہ کہ اللہ ہی کے پاس ہے بڑا اجر ۔ ۲۸ - ۲۶ مکہ میں مسلمان بالکل بے بسی کی حالت میں تھے۔ ہر وقت یہ اندیشہ لگا رہتا کب ان کو اکھاڑ کر پھینک دیا جائے۔ وہ ایسے کمزور کی مانند تھے جس کو ہر طرح دبایا جاتا ہے اور اس کے جائز حقوق بھی اس کو نہیں دئے جاتے، بالآخر ان کے لئے مدینہ کا راستہ کھلا، ان کو یہ موقع دیا گیا کہ وہ مدینہ جاکر اپنا مرکز بنائیں اور وہاں کے ماحول میں آزادی اور عزت کے ساتھ رہیں۔

مشکل کے بعد آسانی فراہم کرنے کا یہ معاملہ اس لئے کیا جاتا ہے تاکہ آدمی کے اندر شکر کا جذبہ ابھرے۔ کے حالات جب اس حد پر پہنچ جاتے ہیں جہاں وہ اپنے آپ کو بے بس محسوس کرنے لگتا ہے، اس وقت اچانک خدا کی مدد ظاہر ہو کر حالات کو بدل دیتی ہے۔ ایسا اس لئے ہوتا ہے تاکہ آدمی یقین کرے کہ جو کچھ ہوا وہ خدا کی طرف اس احساس کی بنا پر وہ خدا کے انعامات کے جذبہ سے سرشار ہو جائے۔

آدمی خدا اور اس کے رسول پر ایمان لاتا ہے۔ اس طرح وہ عہد کرتا ہے کہ وہ خدا اور رسول کے راستہ پر چلے گا۔ مگر جب ایمانی طریقہ کو اختیار کرنے میں اس کے مال واولاد کے تقاضے حائل ہوتے ہیں تو وہ ایمان کے تقاضے کو چھوڑ کر مال واولاد کے تقاضے کو پکڑ لیتا ہے۔ یہ ایمانی عہد کے ساتھ کھلی غداری ہے۔ اس غداری کی شناعت اس وقت اور بڑھ جاتی ہے جب یہ دیکھا جائے کہ آدمی جس چیز کی خاطر خدا کے ساتھ غداری کا معاملہ کر رہا ہے وہ بھی تو خدا کا ایک

آدمی کا مال اور اس کی اولاد کیا ہے ، وہ خدا ہی کا دیا ہوا تو ہے، وہ بندہ کے پاس خدا کی امانت ہے۔ اس امانت کا اگر کوئی سب سے بہتر مصرف ہو سکتا ہے تو وہ یہ ہے کہ جب دینے والا اس کو مانگے تو اس کو خوشی اس کے حوالے کر دیا جائے۔ مگر جب خدا کہتا ہے کہ میرے دین کے لئے اٹھو اور اس میں اپنی قوتیں لگاؤ تو آدمی اسی امانت کو اپنے لئے عذر بنا لیتا ہے جس کو خدا کے دین کی راہ میں دے کر اسے خدا سے کئے ہوئے عہدِ ایمان کو پورا کرنا تھا۔ کامیابی کے کنارے پہنچ کر اپنے کو ناکاموں کی فہرست میں لکھوا لیتا ہے۔

کوئی فعل خدا کے یہاں جرم اس وقت بنتا ہے جب کہ یہ جانتے ہوئے اس پر عمل کیا جائے کہ وہ غلط ہے۔ شخص پر اگر اس کے ایک کام کی غلطی واضح ہو جاتی ہے اور اس کے بعد بھی وہ اس کا ارتکاب کرتا ہے تو وہ بہت بڑی ذمہ داری اپنے سرلے رہا ہے۔ کیونکہ غلطی کو غلطی جاننے کے بعد اس کو دہرانا ڈھٹائی ہے اور ڈ ڈھٹائی خدا کے یہاں قابل معافی نہیں۔

اے ایمان والو، اگر تم اللہ سے ڈرو گے تو وہ تمھارے لئے فرقان بھی پہنچائے گا اور تم سے تمھارے گناہوں کو دور کر دے گا اور تم کو بخش دے گا اور اللہ بڑے فضل والا ہے، اور جب کافر تمھاری نسبت تدبیریں سوچ رہے تھے کہ تم کو قید کر دیں یا قتل کر ڈالیں یا جلا وطن کر دیں۔ وہ اپنی تدبیریں کر رہے تھے اور اللہ اپنی تدبیریں کر رہا تھا اور اللہ بہترین تدبیر والا ہے۔ فرقان کے معنی ہیں فرق کرنے والی چیز۔ یہاں فرقان سے مراد حق و باطل کے ومیان فرق کرنے کی صلاحیت ہے۔ آدمی اگر اللہ سے ڈرے، وہ وہی کرے جس کا اللہ نے حکم دیا ہے اور اس سے بچے جس سے اللہ نے منع کیا ہے تو اس کو اس بات کی توفیق ملتی ہے کہ وہ حق اور باطل کو ایک دوسرے سے الگ کر کے دیکھ سکے (من اتقی بفعل او امرہ وترك نواجرہ و دقت لمعرفة الحق من الباطل، ابن کثیر)

انسانی صلاحیتوں کو بیدار کرنے والی سب سے بڑی چیز ڈر ہے۔ جس معاملہ میں انسان کے اندر ڈر کی نفسیات پیدا ہو جائے اس معاملہ میں وہ حد درجہ حقیقت پسند بن جاتا ہے۔ ڈر کی نفسیات اس کے ذہن کے تمام پردوں کو اس طرح ہٹا دیتی ہے کہ اس بارہ میں وہ ہر قسم کی غفلت یا غلط فہمی سے بلند ہو کر صحیح ترین رائے قائم کر سکے۔ اس بندہ خدا کے ساتھ پیش آتا ہے جس کو رب العالمین کے ساتھ تقویٰ (ڈر) کا تعلق پیدا ہو گیا ہو۔ یہ فرقان تقریباً وہی چیز ہے جس کو معرفت یا بصیرت کہا جاتا ہے۔ بصیرت کسی آدمی میں وہ اندرونی روشنی پیدا کرتی ہے کہ وہ ظاہری پہلوؤں سے دھوکا کھائے بغیر ہر بات کو اس کے اصل روپ میں دیکھ سکے، جب بھی کوئی آدمی کسی معاملہ میں اپنے کو اتنا زیادہ شامل کرتا ہے کہ وہ اس کی پروا کرنے لگے، وہ اس کے بارے میں اندیشہ ناک رہتا ہو تو اس کے بعد اس کے اندر ایک خاص طرح کی حساسیت پیدا ہوتی ہے جو اس کو اس معاملہ کے موافق اور مخالف پہلوؤں کی پہچان کرا دیتی ہے۔ یہ فرقانی معاملہ ہر ایک کے ساتھ پیش آتا ہے خواہ وہ ایک مذہبی آدمی ہو یا ایک تاجر اور ڈاکٹر اور کوئی بھی آدمی جب اپنے کام سے تقوی (کھٹک) کی حد تک اپنے کو وابستہ کرتا ہے تو اس کو اس معاملہ کی ایسی معرفت ہو جاتی ہے کہ ادھر ادھر کے مغالطوں میں الجھے بغیر وہ اس کی حقیقت تک پہنچ جائے۔ کسی آدمی کے اندر یہ خدائی بصیرت (فرقان) پیدا ہونا اس بات کی سب سے بڑی ضمانت ہے کہ وہ برائیوں سے بچے، وہ خدا کے ساتھ اپنے تعلق کو درست کرے اور بالآخر خدا کے فضل کا مستحق بن جائے۔ یہ فرقان (حق در باطل کی نفسیاتی تمیز) پیدا ہو جانا اس بات کا ثبوت ہے کہ آدمی اپنے آپ کو حق کے ساتھ اتنا زیادہ وابستہ کر چکا ہے کہ اس میں اور حق میں کوئی فرق نہیں رہا۔ وہ اور حق دونوں ایک دوسرے کا ثمنیٰ بن چکے ہیں۔ اس کے بعد اس کا بچایا جانا اتنا ہی ضروری ہو جاتا ہے جتنا حق کو بچایا جانا۔ ایسے لوگ براہ راست خدا کی پناہ میں آجاتے ہیں۔ اب ان کے خلاف تدبیریں کرنا خود حق کے خلاف تدبیریں کرنا بن جاتا ہے۔ اور خدا کے خلاف تدبیر کرنے والا ہمیشہ ناکام رہتا ہے خواہ اس نے کتنی ہی بڑی تدبیر کر رکھی ہو۔

اور جب ان کے سامنے ہماری آیتیں پڑھی جاتی ہیں تو کہتے ہیں ہم نے سن لیا۔ اگر ہم چاہیں تو ہم بھی ایسا ہی کلام پیش کر دیں یہی تو بس اگلوں کی کہانیاں ہیں۔ اور جب انھوں نے کہا کہ اے اللہ اگر یہ حق ہے تیرے پاس سے تو ہم پر آسمان سے پتھر برسا دے یا کوئی درد ناک عذاب ہم پر لے آ۔ اور اللہ ایسا کرنے والا نہیں کہ ان کو عذاب دے اس حال میں کہ تم ان میں موجود ہو اور اللہ ان پر عذاب لانے والا نہیں جب کہ وہ استغفار کر رہے ہوں۔ اور اللہ ان کو کیوں نہ عذاب دے گا حالاں کہ وہ مسجد حرام سے دوکتے ہیں جب کہ وہ اس کے متولی نہیں۔ اس کے متولی تو صرف اللہ سے ڈرنے والے ہو سکتے ہیں۔ مگر ان میں سے اکثر اس کو نہیں جانتے۔ اور بیت اللہ کے پاس ان کی نماز سیٹی بجانے اور تالی پیٹنے کے سوا اور کچھ نہیں۔ پس اب چکھو عذاب اپنے کفر کا ۳۵ - ۳۱ ہم بھی ایسا کلام بنا سکتے ہیں، ہم تالق پر ہیں تو ہمارے اوپر پتھر کیوں نہیں برستا یہ سب گھمنڈ کی آدمی جب دنیا میں اپنے کو محفوظ حیثیت میں پاتا ہے، جب وہ دیکھتا ہے کہ حق کا انکار کرنے یا اس کو نظر انداز کرنے سے اس کا کچھ نہیں بگڑا تو اس کے اندر جھوٹے اعتماد کی نفسیات پیدا ہو جاتی ہے۔ وہ سمجھتا ہے کہ میں جو کچھ کر رہا ہوں وہ بالکل درست ہے۔ اس کا یہ احساس اس کی زبان سے ایسے کلمات نکلواتا ہے جو عام حالات میں کسی کی زبان سے نہیں نکلتے۔ اس قسم کے لوگوں میں یہ دلیری خدا کے قانون مہلت کی وجہ سے پیدا ہوتی ہے۔ خدا یقیناً مجرموں کو سزا دیتا ہے مگر خدا کی سنت یہ ہے کہ وہ آدمی کو ہمیشہ اس وقت پکڑتا ہے جب کہ اس کے اوپر حق و باطل کی وضاحت کا کام مکمل طور پر انجام دے دیا گیا ہو۔ اس کام کی تکمیل سے پہلے کسی کو ہلاک نہیں کیا جاتا۔ نیز یہ کہ دعوتی عمل کے درمیان اگر ایک ایک دو رو آدمی اس سے متاثر ہو کر اپنی اصلاح کر رہے ہوں تب بھی سزا کا نزول رکا رہتا ہے تاکہ یہ عمل اس حد تک مکمل ہو جائے کہ جتنی سعید روحیں ہیں سب اس سے باہر آ چکی ہوں۔

امتوں میں بگاڑ آتا ہے تو ایسا نہیں ہوتا کہ ان کے درمیان سے دین کی صورتیں مٹ جائیں۔ بگاڑ کے زمانہ میں ہمیشہ یہ ہوتا ہے کہ خوف خدا اور الدین جاتا رہتا ہے اور اس کی جگہ دھوم دھام والا دین آجاتا ہے۔ اب قوم کے پاس عمل نہیں ہوتا بلکہ ماضی کی شخصیتیں اور ان کے نام پر قائم شدہ گدیاں ہوتی ہیں۔ لوگ ان شخصیتوں اور ان گدیوں سے وابستہ ہو کر سمجھتے ہیں کہ ان کو وہی عظمت حاصل ہو گئی ہے جو تاریخی اسباب سے خود ان شخصیتوں اور گدیوں کو حاصل ہے۔ لوگ اندر سے خالی ہوتے ہیں مگر بڑے بڑے ناموں پر نمائشی اعمال کر کے سمجھتے ہیں کہ وہ بہت بڑا دینی کارنامہ انجام دے رہے ہیں۔

مکہ کے لوگ اسی قسم کی نفسیات میں مبتلا تھے ۔ ان کو فخر تھا کہ وہ بیت اللہ کے وارث ہیں ۔ اسماعیل جیسے جلیل القدر پیغمبروں کی امت ہیں، ان کو کعبہ کے خادم ہونے کا شرف حاصل ہے۔ ان کا خیال تھا کہ جب ان کو اتنے دینی اعزازات حاصل ہیں اور وہ اتنے بڑے بڑے دینی کارنامے انجام دے رہے ہیں تو کیسے ممکن ہے کہ خدا ان کو جہنم میں ڈال دے۔

جن لوگوں نے انکار کیا وہ اپنے مال کو اس لئے خرچ کرتے ہیں کہ لوگوں کو اللہ کی راہ سے روکیں۔ وہ اس کو خرچ کرتے رہیں گے پھر یہ ان کے لئے حسرت بنے گا پھر وہ مغلوب کئے جائیں گے۔ اور جنہوں نے انکار کیا ان کو جہنم کی طرف اکٹھا کیا جائے گا۔ تاکہ اللہ ناپاک کو الگ کر دے پاک سے اور ناپاک کو ایک پر ایک رکھے پھر اس ڈھیر کو جہنم میں ڈال دے، یہی لوگ ہیں خسارہ میں پڑنے والے ۳۶-۳۷ انسانوں میں کچھ پاک ہیں اور کچھ ناپاک۔ کچھ روحوں کی غذا وہ چیزیں ہوتی ہیں جو خدا کو پسند ہیں اور کچھ روحوں کو ان چیزوں میں لذت ملتی ہے جو ان کے نفس کو یا شیطان کو مرغوب ہیں ۔

عام حالات میں یہ دونوں قسم کے لوگ ایک دوسرے سے ملے رہتے ہیں۔ بظاہر ان میں کوئی فرق دکھائی اس لئے اللہ تعالیٰ لوگوں کے درمیان حق و باطل کی کش مکش برپا کرتا ہے تاکہ دونوں قسم کے لوگ ایک دوسرے سے الگ ہو جائیں اور یہ معلوم ہو جائے کہ کون کیا تھا اور کون کیا تھا۔

اس کش مکش کے دوران کھل جاتا ہے کہ کون حق کے سامنے آنے کے بعد فوراً اس کو مان لیتا ہے اور کون وہ ہے جو اس کا انکار کر دیتا ہے۔ کون دوسروں کے ساتھ معاملہ کرنے پر انصاف کی حد پر قائم رہتا ہے اور کون بے انصافی پر اتر آتا ہے۔ کون خدا کی زمین میں متواضع بن کر رہتا ہے اور کون سرکش بن کر۔ کون سچائی کی راہ میں اپنا مال خرچ کرنے والا ہے اور کون تعصب اور نمائش کی راہ میں۔

جو لوگ حق کو چھوڑ کر دوسری راہوں میں اپنی کوششیں صرف کرتے ہیں ان کے اس عمل کو شیطان ان کی نظر میں اس طرح حسین بنا تار ہتا ہے کہ وہ سمجھتے ہیں کہ وہ اعلیٰ کارنامے انجام دے رہے ہیں، وہ شان دار مستقبل کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ مگر اس غلط فہمی کی عمر بہت تھوڑی ہے۔ بہت جلد آدمی پر وہ وقت آجاتا ہے جب کہ وہ جان لیتا ہے کہ اس نے جو کچھ کیا وہ صرف اپنی قوت اور اپنے مال کو ضائع کرنا تھا، وہ جس مستقبل کی طرف بڑھ رہا تھا وہ حسرت اور مایوسی کا مستقبل تھا ، اگر چہ جھوٹی خوش فہمی کے تحت وہ اس روشن مستقبل کی طرف سفر کے ہم معنی سمجھتا رہا تھا۔

بے آمیز حق کی دعوت اٹھتی ہے تو وہ تمام لوگ اپنے اوپر اس کی زد پڑتی ہوئی محسوس کرتے ہیں جو طلائی دین کی بنیاد پر سرداری قائم کئے ہوئے تھے۔ وہ اس روایتی ڈھانچہ کی حفاظت میں اپنی ساری طاقت خرچ کر دیتے ہیں جس کے اندر انھیں بڑائی کا مقام حاصل ہے۔ مگر ایسے لوگ بے آمیز حق کے مقابلہ میں لازماً ناکام ہوتے ہیں، کبھی دلیل کے میدان میں اور کبھی اسی کے ساتھ عمل کے میدان میں بھی۔

موجودہ دنیا کے ہنگامے صرف اس لئے جاری کئے گئے ہیں کہ پاک روحوں اور ناپاک روحوں کو ایک دوسرے سے الگ کر دیا جائے ۔ یہ چھانٹنے کا عمل جب پورا ہو جائے گا تو خدا پاک روحوں کو جنت میں داخل کر دے گا اور ناپاک روحوں کو ایک ساتھ جمع کر کے جہنم میں دھکیل دے گا۔

انکار کر لے والوں سے کہو کہ اگر وہ باز آ جائیں تو جو کچھ ہو چکا ہے وہ انہیں معاف کر دیا جائے گا اور اگر وہ پھر وہی کریں گے تو ہمارا معاملہ اگلوں کے ساتھ گزر چکا ہے ۔ اور ان سے لڑو یہاں تک کہ فتنہ باقی نہ رہے اور دین سب اللہ کے لئے ہو جائے ۔ پھر اگر وہ باز آ جائیں تو اللہ دیکھنے والا ہے ان کے عمل کا۔ اور اگر انھوں نے اعراض کیا تو جان لو کہ اللہ تمھارا مولیٰ ہے اور کیا ہی اچھا مولیٰ ہے اور کیا ہی اچھا مددگار ۳۰ - ۳۸ اسلام کا اصول یہ ہے کہ جو شخص جیسا عمل کرے اس کے مطابق وہ اپناید لیا جائے۔ تاہم اللہ تعالیٰ نے اس عام اصول میں اپنی رحمت سے ایک خاص استثناء رکھا ہے ۔ وہ یہ کہ آدمی جب توبہ کرنے تو اس کے بعد اس کے پچھلے اعمال پر اس کو کوئی سزا نہیں دی جائے گی ۔ ایک شخص خدا سے دوری کی زندگی گزار رہا تھا۔ پھر اس کو ہدایت کی روشنی ملی ۔ اس نے سچا مومن بن کر صالح زندگی اختیار کر لی تو اس سے پہلے اس نے جو برائیاں کی تھیں وہ سب معاف کر دی جائیں گی ۔ اس کے پچھلے گناہوں کی بنا پر اس کو نہیں پکڑا جائے گا۔

ٹھیک یہی اصول اجتماعی اور سیاسی معاملے میں بھی ہے کسی مقام پر حق اور باطل کی کش مکش برپا ہوتی ہے آپس میں ٹکراؤ ہوتا ہے ، اس ٹکراؤ کے دوران میں باطل کے علم بردار حق کے لئے اٹھنے والوں پر ظلم کرتے ہیں۔ جنگ کا فیصلہ ہوتا ہے ۔ حق پرست غالب آجاتے ہیں اور ناحق کے علم دار مغلوب ہو کر زیر کر دئے جاتے ہیں، اس معاملے میں بھی اسلام کا اصول وہی ہے جو اوپر مذکور ہوا یعنی فتح کے بعد پچھلے ظلم و ستم پر کسی کو سزا نہیں دی جائے گی ۔ البتہ جو شخص فتح کے بعد کوئی ایسی حرکت کرے جو اسلامی قانون میں جرم قرار دی گئی ہو تو ضروری کارروائی کے بعد اس کو وہ سزا ملے گی جو شریعت نے ایسے ایک مجرم کے لئے مقرر کی ہے ۔

فتنہ کا مطلب ستانا (Persecution) ہے ۔ قدیم زمانہ میں سرداری اور حکومت شرک کی بنیاد پر قائم ہوتی تھی۔ آج حکومت کرنے والے عوام کا نمائندہ بن کر حکومت کرتے ہیں ، ماضی میں خدا یا خدا کے شریکوں کا نمائندہ بن کر لوگ حکومت کیا کرتے تھے۔ اس کے نتیجہ میں شرک کو قدیم سماج میں با اقتدار حیثیت حاصل ہوگئی تھی ۔ اہل شرک اہل توحید کو ستاتے رہتے تھے ۔ اللہ نے اپنے رسول اور آپ کے ساتھیوں کو حکم دیا کہ شرک اور اقتدار کے باہمی تعلق کو توڑ دو تا کہ مشرکین اہل توحید کو ستانے کی طاقت سے محروم ہو جائیں ۔ چنانچہ آپ کے ذریعہ جو عالمی انقلاب آیا اس نے ہمیشہ کے لئے شرک کا رشته سیاسی نظام سے ختم کر دیا۔ اب شرک ساری دنیا میں صرف ایک مذہبی عقیدہ ہے نہ کہ وہ سیاسی نظریہ جس کی بنیاد پر حکومتوں کا قیام عمل میں آتا ہے ۔

تاہم جہاں تک عرب کا تعلق ہے وہاں یہ مقصد دہرا صورت میں مطلوب تھا، یہاں شرک اور مشرکین دونوں کو ختم کرنا تھا تا کہ حرمین کے علاقہ کو ابدی طور پر خالص توحید کا مرکز بنا دیا جائے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ جزیرہ عرب سے مشرکین کو نکال دو۔ یہ کام رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں شروع ہوا اور حضرت عمر فاروق کی خلافت کے زمانہ میں اپنی تکمیل کو پہنچا۔

Printed page