Al-Risala · January 1981

قناعت

Al-Risala, January 1981, pp. 41–42

By Maulana Wahiduddin Khan

مولاناحمیدالدین فراہی (۱۸۶۳-۱۹۳۰) ایک مخلص عالم تھے۔ ابتدا وہ علی گڑھ اور حیدر آباد کی یونیورسٹیوں میں استاد رہے۔ آخر عمر میں وہ مدرسۃ الاصلاح (سرائے میر اعظم گڑھ) میں مقیم ہوگئے اور قرآن اور تعلیم دین کی خدمت کرتے ہوئے عمر گزار دی۔ مولانا عبد الماجد دریا بادی نے ان کی وفات کے بعد جو مضمون لکھا اس کا ایک ٹکڑا یہ تھا:

سادہ کھاتے ، سادہ پہنتے ، دنیا سے بہ قدر ضرورت لیتے کھانا کھا رہے ہیں، دسترخوان پر صرف دال اور روٹی ہے دال میں نمک کم ہے بلاکسی ناخوشی کے اوپر سے نمک ملایا اور چہرہ تک سے ناگواری نہ ظاہر ہونے دی۔ دوسرے دن پھر وہی کھانا آج نمک بہت زائد ہو گیا ہے اسی انداز سے اٹھے اور آج پانی ملا کر پھر اس ناخوش گوار کو خوش گوار بنا لیا شریک طالب علم کچھ جھنجلائے ، کچھ دنگ رہ گئے منھ سب نے بنایا فرمایا بھائی بات کچھ نہیں ایک چٹنی تیار رکھو بغیر پیسہ کوڑی کے خرچ سے تیار ہو جاتی ہے ۔ جس کھانے میں ملا لو گے ۔ مزہ دار ہو جائے گا۔ چٹنی کا نام ہے قناعت ! قناعت محض ایک درویشانہ عادت نہیں، وہ زندگی کی ایک زبر دست حقیقت ہے۔ اس پختہ مزاجی کا نام ہے کہ آدمی ان حالات کے ساتھ موافقت کر کے رہ سکے جن کو وہ بدل نہیں سکتا۔ دنیا میں اس مزاج کی ضرورت ایک عام آدمی کو بھی ہوتی ہے اور ایک بادشاہ کو بھی ۔ عام آدمی کو اگر یہ نعمت حاصل ہو جائے تو وہ اپنے بے مزہ سالن کو ہنسی خوشی کھا کر اپنے کام میں لگ جائے گا ، نہ کہ وہ اس پر غصہ ہو کر اپنے وقت اور اپنی طاقت کو خواہ مخواہ برباد کرے۔ اسی طرح اگر ’’ بادشاہ ‘‘ کو یہ نعمت مل جائے تو وہ عوام کے جمہوری رجحانات سے موافقت کر کے اپنی بادشاہت کو دیر تک باقی رکھ سکتا ہے۔ بجائے اس کے کہ وہ عوامی تقاضوں سے لڑنے لگے اور بالآخر اپنے تخت و تاج کو کھو دے۔ قناعت اکثر نفسیاتی امراض کا علاج ہے۔ امریکہ کے ایک شخص نے اندیشے (Fears) کے بارے میں معلومات جمع کیں بہت سے لوگوں سے مل کر اس نے پوچھا کہ آپ کو کس قسم کے اندیشے لاحق ہوئے اور ان کا انجام کیا رہا۔ تحقیق کے بعد اس نے پایا کہ بیشتر اندیشے ایسے تھے جو صرف اندیشے ثابت ہوئے ، وہ کبھی واقعہ نہیں بنے۔ حالاں کہ ان لوگوں نے اپنے ان امکانی اندیشوں کے غم میں اپنی صحتیں برباد کر لیں اور دوسرے بہت سے نقصانات کر ڈالے۔

" اندیشہ " ہر آدمی کا سب سے بڑا مسئلہ ہے۔ ہر آدمی اپنے حالات کے اعتبار سے طرح طرح کے اندیشوں میں

مبتلا رہتا ہے جو اس کے سکون کو غارت کرتے رہتے ہیں۔ آدمی کے اندر اگر قناعت کا مزاج آجائے تو اس کو خود بخود اس قسم کی پیشگی اندیشوں سے نجات مل جائے گی ۔ جب آدمی کا حال یہ ہو کہ اس کو جو مل جائے اسی پر وہ راضی رہے تو اندیشوں کی بنیاد پر پریشان ہونے کی کیا ضرورت۔ قناعت کا ہر شخص کو یہ پیغام ہے ــــ۔ نقصان کا غم نہ کرو۔ اگر وہ ہو چکا ہے تو وہ ایک ہونے والی بات تھی ہو ہوئی۔ اور اگر وہ صرف ایک اندیشہ ہے تو بہت سے اندیشے ایسے ہیں کہ آدمی ان کے لئے اپنے آپ کو پریشان کرتا ہے حالاں کہ وہ کبھی واقع نہیں ہوتے۔ قناعت کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ وہ آدمی کو دنیا کے مسائل میں غیر ضروری طور پر الجھنے سے بچاتی ہے اور اس طرح اس کو موقع دیتی ہے کہ وہ اپنے وقت اور اپنی قوت کو زیادہ سے زیادہ آخرت کے کاموں میں لگا آخرت کے مسافر کے لئے قناعت اتنی ہی ضروری ہے جتنا دنیا کے مسافر کے لئے حرص ۔ جس آدمی کے اندر حرص نہ ہو وہ متاع دنیا کا مالک نہیں بن سکتا۔ اسی طرح جس کے اندر قناعت نہ ہو وہ متاع آخرت کو پانے سے محروم رہے گا۔

قناعت کی اسی اہمیت کی بنا پر دین میں اس کی بڑی فضیلت آئی ہے۔ عبداللہ بن عمر و بن العاص رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : وہ شخص کامیاب ہو گیا جس نے اپنے آپ کو اللہ کے سپرد کر دیا، جس کو بقدر ضرورت رزق ملا اور اللہ نے اس کو جو کچھ دیا اس پر اس نے قناعت کیا قد ا فلح من اسلم و رزق کفافاً وقنعہ اللہ بما آتا ہ ، اخرجہ مسلم والترمذی)

انسان کی خواہشیں لا محدود ہیں اور دنیا کی چیزیں محدود۔ آدمی دنیا کی چیزیں خواہ کتنی ہی زیادہ حاصل کرلے وہ اس کی تسکین کے لئے ہمیشہ ناکافی ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ زیادہ پانے والا بھی اس دنیا میں اتناہی پریشان رہتا ہے جتنا کم پانے والا۔ اس لئے اس دنیا میں اگر کوئی چیز آدمی کی تسکین کا ذریعہ بن سکتی ہے تو وہ کیونکہ قناعت تو ہر حد پر مطمئن ہو جاتی ہے جب کہ حرص کسی حد پر مطمئن نہیں ہوتی ۔ قناعت دراصل حقیقت پسندی کا دوسرا نام ہے۔ ہم ایک ایسی دنیا میں ہیں جہاں مختلف وجوہ سے ہماری مرضی کے خلاف واقعات پیش آتے ہیں۔ کہیں دوسرے کو زیادہ مل جاتا ہے اور ہم کو کم۔ کہیں خود اپنی حاصل شدہ چیز کو پوری طرح استعمال کرنا ممکن نہیں ہوتا۔ کہیں ایسا ہوتا ہے کہ ہم جو کچھ پاتے ہیں وہ اس سے بہت کم ہوتا ہے جو ہم اپنے اندازہ کے مطابق اپنے لئے چاہتے تھے۔ کہیں کوئی ناگہانی حادثہ پیش آکر ہمارے بنے بنائے معاملہ کو بگاڑ دیتا ہے۔ ایسے تمام مواقع پر ضرورت ہوتی ہے کہ نقصان کے بعد نقصان کے غم سے اپنے کو بچایا جائے ۔ اور قناعت آدمی کی زندگی میں یہی اہم خدمت انجام دیتی ہے۔ قناعت آدمی کو بے صبری سے بچاتی ہے۔ وہ تلخ یادوں کو بھلاتی ہے ۔ وہ زندگی کی ناخوش گواریوں کو خوش گوار بنا دیتی ہے ۔

Printed page