تذکیر القرآن | الانفال
Al-Risala, September 1981, pp. 28–31
By Maulana Wahiduddin Khan
اور جان لو کہ جو کچھ مال غنیمت تمھیں حاصل ہو اس کا پانچواں حصہ اللہ اور رسول کے لئے اور رشتہ داروں اور یتیموں اور مسکینوں اور مسافروں کے لئے ہے، اگر تم ایمان رکھتے ہو اللہ پر اور اس چیز پر جو ہم نے اپنے بندے (محمد) پر اتاری فیصلہ کے دن، جس دن کہ دونوں جماعتوں میں مڈبھیڑ ہوئی اور اللہ ہر چیز پر قادر ہے ام غنیمت عربی زبان میں اس مال کو کہتے ہیں جو میدانِ جنگ میں دشمن سے لڑ کر حاصل کیا گیا ہو۔ میں یہ رواج تھا کہ جنگ کے بعد دشمن کی جو چیز جس کے ہاتھ لگے وہ اسی کی سمجھی جائے۔ اسلام نے یہ اصول مقرر کیا کہ ہر ایک کو جو کچھ ملا ہو وہ سب کا سب لا کر امیر کے پاس جمع کرے، کوئی شخص سوئی کا دھاگا تک چھپا کر نہ
اس طرح سارا مال غنیمت اکٹھا کرنے کے بعد اس میں سے پانچواں حصہ خدا کا ہے جس کو رسول نیابت کے طور پر وصول کر کے پانچ جگہ اس طرح خرچ کرے گا کہ ــــــــ ایک حصہ اپنی ذات پر، پھر اپنے ان رشتہ داروں پر جنہوں نے رشتہ کی بنیاد پر مشکل وقتوں میں آپ کے دینی مشن میں آپ کا ساتھ دیا، اور یتیموں پر اور حاجت مندوں پر اور مسافروں پر ـــــ اس کے بعد بقیہ چار حصے کو تمام فوجیوں کے درمیان اس طرح تقسیم کیا جائے کہ سوار کو دو حصے ملے اور پیدل کو ایک حصہ۔
اسلام یہ ذہن بنانا چاہتا ہے کہ آدمی جو چیز پائے اس کو وہ خدا کی طرف سے ملی ہوئی چیز سمجھے۔ میں کسی واقعہ کو ظہور میں لانے کے لئے بے شمار اسباب کی بیک وقت موافقت ضروری ہے جو کسی بھی انسان کے بس بدر کی لڑائی میں ایک بے حد طاقت ور گروہ کے مقابلہ میں ایک کمزور گروہ کا فیصلہ کن طور پر غلبہ پانا اس بات کا ایک غیر معمولی ثبوت تھا کہ جو کچھ ہوا ہے وہ خدا کی طرف سے ہوا ہے۔ ایسی حالت میں فتح کے بعد ملی ہوئی چیز کو خدا کی طرف سے ملی ہوئی چیز سمجھنا عین اس حقیقت کو ماننا تھا جو واقعات کے نتیجہ میں فطری طور پر سامنے
مال غنیمت میں دوسرے مستحق بھائیوں کا حصہ رکھنا اس بات کا سبق ہے کہ اموال میں حق دار ہونے کی بنیاد صرف محنت اور وراثت نہیں بلکہ ایسی بنیادیں بھی ہیں جو محنت اور وراثت جیسی چیزوں کے دائرہ میں نہیں استحقاق کی ان دوسری مدوں کا اعتراف گویا اس واقعہ کا عملی اعتراف ہے کہ آدمی چیزوں کو خدا کی چیز سمجھتا ہے نہ کہ اپنی چیز۔
غنیمت کے اس قانون میں تیسرا زبر دست سبق یہ ہے کہ ملکیت کی بنیاد قبضہ نہیں بلکہ اصول ہے۔ محض اس بنا پر کسی چیز کا مالک نہیں بن جائے گا کہ وہ اتفاق سے اس کے قبضہ میں آگئی ہے۔ قبضہ کے باوجود آدمی کو چاہئے کہ اس چیز کو ذمہ دار افراد کے حوالے کرے اور اصولی اور قانونی بنیاد پر اس کو جتنا ملنا چاہئے اس کو لے کر اس پر راضی ہو جائے۔
اور جب کہ تم وادی کے قریبی کنارے پر تھے اور وہ دور کے کنارے پر۔ اور قافلہ سے نیچے کی طرف تھا۔ تم اور وہ وقت مقرر کرتے تو ضرور اس تقرر کے بارے میں تم میں اختلاف ہو جاتا۔ لیکن جو ہوا وہ اس لئے ہوا تا کہ اللہ اُس امر کا فیصلہ کر دے جس کو ہو کر رہنا تھا، تاکہ جس کو ہلاک ہونا ہے وہ روشن دلیل کے ساتھ ہلاک ہو اور جس کو زندگی حاصل کرنا ہے وہ روشن دلیل کے ساتھ زندہ رہے۔ یقیناً اللہ سننے والا جاننے والا ہے۔ تمھارے خواب میں ان کو تھوڑا دکھاتا رہا۔ اگر وہ ان کو زیادہ دکھا دیتا تو تم لوگ ہمت ہار جاتے اور آپس میں جھگڑنے لگتے اس معاملہ میں ۔ لیکن اللہ نے تم کو بچایا۔ یقیناً وہ دلوں تک کا حال جانتا ہے۔ اور جب اللہ نے ان لوگوں کو تمھاری نظر میں کم کر کے دکھایا اور تم کو ان کی نظر میں کم کر کے دکھایا۔ تاکہ اللہ اس امر کا فیصلہ کر دے جس کا ہونا طے تھا اور سارے معاملات اللہ ہی کی طرف لوٹتے ہیں ۳۶-۴۲۔
اللہ تعالیٰ کو مطلوب ہے کہ حق کا حق ہونا اور باطل کا باطل ہونا لوگوں پر پوری طرح کھل جائے۔ کام ابتداء دعوت کے ذریعہ دلائل کی زبان میں ہوتا ہے۔ داعی طاقت ور اور عام فہم دلائل کے ذریعہ حق کا حق ہونا اور باطل کا باطل ہونا ثابت کرتا ہے۔ احقاق حق اور ابطال باطل کے اس کام کی تکمیل بالآخر غیر معمولی واقعات سے کی جاتی ہے، خواہ یہ غیر معمولی واقعہ کوئی آسمانی معجزہ ہو یا زمینی غلبہ۔ بدر کی جنگ میں یہی دوسرا واقعہ پیش آیا۔
قریش مکہ سے اس لئے نکلے کہ شام سے آنے والے اپنے تجارتی قافلہ کی مدد کریں۔ یہ مسلمان مدینہ سے اس لئے نکلے کہ تجارتی قافلہ پر حملہ کریں۔ تجارتی قافلہ معروف راستہ کو چھوڑ کر سمندری ساحل سے گزرا اور بچ گیا اور یہ دونوں فریق بدر پہنچ کر آمنے سامنے ہو گئے۔ یہ اللہ کی تدبیر سے ہوا۔ دونوں کو ایک دوسرے سے ٹکرا کر اہل ایمان کو فتح دی گئی۔ اس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے مشن کی صداقت لوگوں پر پوری طرح جو لوگ سچے طالب تھے ان پر آخری حد تک یہ بات واضح ہو گئی کہ یہی حق ہے۔ اور جو لوگ اپنے اندر کسی قسم کی نفسیاتی پیچیدگی لئے ہوئے تھے انھوں نے اس کے بعد بھی اپنے مسلک پر قائم رہ کر ثابت کر دیا کہ وہ اسی قابل ہیں کہ انھیں ہلاک کر دیا جائے۔
بدر میں قریش کی فوج کی تعداد زیادہ تھی۔ اگر مسلمان ان کی اصل تعداد کو دیکھتے تو کوئی کہتا کہ لڑو اور کوئی کہتا کہ نہ لڑو۔ اس طرح اختلاف پیدا ہو جاتا اور اصل کام ہونے سے رہ جاتا۔ خدا نے حسب موقع کبھی تعداد گھٹا کر دکھائی اور کبھی بڑھا کر۔ اس طرح ممکن ہو سکا کہ تمام مسلمان بے جگری کے ساتھ لڑیں۔ خدا کو جب کوئی کام مطلوب ہوتا ہے تو وہ اسی طرح اپنی مدبر بیچ کر اس کام کی تکمیل کا سامان کر دیتا ہے۔ عمل کے دوران جو حالات پیش آتے ہیں وہ خدا کی طرف سے ہوتے ہیں اور یہ دیکھنے کے لئے ہوتے ہیں کہ کس شخص نے اپنے حالات کے اندر کس قسم کا رد عمل پیش کیا۔
اے ایمان والو! جب کسی گروہ سے تمہار ا مقابلہ ہو تو تم ثابت قدم رہو، اور اللہ کو بہت یاد کرو تاکہ تم کامیاب ہو۔ اور اطاعت کرو اللہ کی اور اس کے رسول کی اور آپس میں جھگڑا نہ کرو ورنہ تمھارے اندر کمزوری آ جائے گی اور تمھاری ہوا اکھڑ جائے گی اور صبر کرو، بے شک اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے، اور ان لوگوں کے سے نہ بنو جو اپنے گھروں سے اکڑتے ہوئے اور لوگوں کو دکھلاتے ہوئے نکلے اور جو اللہ کی راہ سے روکتے ہیں ۔ حالاں کہ وہ جو کچھ کر رہے ہیں اللہ ان کا احاطہ کئے ہوئے ہے ۔ ۴۵ - ۴۷ کامیابی خدا کی مدد سے آتی ہے۔ مگر خدا کی مدد ہمیشہ اسباب کے پروہ میں آتی ہے نہ کہ بے اسبابی کے حالات میں۔ مسلمان اگر اپنے ممکن اسباب کو جمع کردیں تو بقیہ کی خدا کی طرف سے پوری کر کے انھیں کامیاب کر دیا لیکن اگر وہ بے اسبابی کا مظاہرہ کریں تو خدا کبھی ایسا نہیں کر سکتا کہ بے اسبابی کے نقشہ میں ان کے لئے اپنی مدد بھیج دے۔
اسباب کیا ہیں۔ اسباب یہ ہیں کہ مسلمان اقدام میں پہل نہ کریں۔ وہ اپنی جڑوں کو مضبوط کرنے میں لگے رہیں تا آنکہ حریف خود چڑھائی کر کے ان سے لڑنے کے لئے آ جائے پھر جب ٹکراؤ کی صورت پیدا ہو جائے تو وہ اس کے مقابلہ میں پوری طرح جہاد کا ثبوت دیں۔ اللہ کی یاد، بالفاظ دیگر، مقصود اصلی کا مکمل استحضار رکھیں تاکہ ان کا قلبی حوصلہ باقی رہے۔ سردار کے حکم کے تحت پوری طرح منظم رہیں۔ کو نظر انداز کریں نہ یہ کہ اختلافات کو بڑھا کر ٹکڑے ٹکڑے ہو جائیں۔ وہ اپنے اتحاد سے حریف کو مرعوب کر دیں۔ وہ صبر کریں، یعنی جوش کے بجائے ہوش کو اپنائیں۔ جلد کامیابی کے شوق میں غیر پختہ اقدام نہ کریں۔ ان کی نظر ہمیشہ آخری منزل پر ہو نہ کہ وقتی مصالح اور منافع پر۔ انہی چیزوں کا نام اسباب ہے اور انھیں اسباب کے پردہ میں خدا کی مدد آتی ہے۔
موجودہ دنیا امتحان کی دنیا ہے۔ یہاں خدا "غیب" میں رہ کر اپنے تمام تصرفات انجام دیتا ہے، اسی لئے جب وہ مسلمانوں کی مدد کرتا ہے تو اسباب کے پردہ میں کرتا ہے۔ مسلمان اگر اسباب کا ماحول پیدا نہ کریں وہ بے حوصلگی کا ثبوت دیں، وہ ابتدائی تیاری کے بغیر اقدامات کرنے لگیں۔ وہ اختلاف و انتشار میں مبتلا ہوں، تو ان کو کبھی یہ امید نہ کرنی چاہئے کہ خدا غیب کا پردہ پھاڑ کر سامنے آ جائے گا اور بے اسبابی کا شکار ہونے کے باوجود مادرایے اسباب طریقوں سے ان کی مدد کر کے ان کے تمام کام بنا دے گا۔ مسلمان اگر اپنے حریف کے مقابلہ میں اپنے کو بہتر حالات میں پائیں تب بھی ایسا نہیں ہوتا چاہئے کہ وہ کافروں کی طرح اپنی طاقت پر گھمنڈ کریں، دہ فخر و نمائش کے جذبات میں مبتلا ہو جائیں۔ وہ بڑائی کے زُعْم میں اس حد تک آگے بڑھ جائیں کہ ایک شخص کے صرف اس لئے مخالف بن جائیں کہ وہ ایسے حق کی دعوت دے رہا ہے جس کی زد خود ان کی اپنی ذات پر بھی پڑ رہی ہے۔
اور جب شیطان نے انہیں ان کے اعمال خوش نما بنا کر دکھائے اور ا کہ لوگوں میں سے آج کوئی تم پر غالب آنے والا نہیں اور میں تمہارے ساتھ ہوں۔ مگر جب دونوں گروہ آمنے سامنے ہوئے تو وہ الٹے پاؤں بھاگا اور کہا کہ میں تم سے بری ہوں، میں وہ کچھ دیکھ رہا ہوں جو تم لوگ نہیں دیکھتے۔ میں اللہ سے ڈرتا ہوں اور اللہ سخت سزا دینے والا ہے۔ جب منافق اور جن کے دلوں میں روگ ہے کہتے تھے کہ ان لوگوں کو ان کے دین نے دھوکے میں ڈال دیا ہے اور جو اللہ پر بھروسہ کرے تو اللہ بڑا زبردست اور حکمت والا ہے۔ مکہ کے مخالفین اپنے آپ کو برحق اور پیغمبر کے ساتھیوں کو برسر باطل سمجھتے تھے۔ اس پر ان کو اتنا یقین تھا کہ انھوں نے کعبہ کے سامنے کھڑے ہو کر دعا کی کہ خدایا، دونوں فریقوں میں سے جو فریق حق پر ہو تو اس کو کامیاب کر اور جو فریق باطل پر ہو تو اس کو ہلاک کر دے، تاہم ان کا یہ یقین جھوٹا یقین تھا۔ اس قسم کا یقین ہمیشہ شیطان کی تزئین کی وجہ سے پیدا ہوتا ہے۔
شیطان نے مکہ کے لوگوں کو سکھایا کہ تم تاریخ کے مسلمہ پیغمبروں (ابراہیم، اسماعیل) کے ماننے والے ہو جب کہ مسلمان ایک ایسے شخص کو مانتے ہیں جس کا پیغمبر ہونا ابھی ایک متنازعہ مسئلہ ہے۔ تم کعبہ کے وارث ہو جب کہ مسلمانوں کو کعبہ کی سرزمین سے نکال دیا گیا ہے۔ تم اسلاف کی روایتوں کو قائم رکھنے کے لئے لڑ رہے ہو جب کہ مسلمان اسلاف کی روایتوں کو توڑنے کے لئے اٹھے ہیں۔ شیطان نے مکہ والوں کے دلوں میں اس قسم کے خیالات ڈال کر ان کو جھوٹے یقین میں مبتلا کر دیا تھا۔ وہ سمجھتے تھے کہ ہم جو کچھ کر رہے ہیں بالکل درست کر رہے ہیں اور خدا کی مدد بہر حال میں حاصل ہوگی۔
مکہ کے مخالفین ایک طرف اپنے جھوٹے یقین کو اس قسم کی چیزوں کی بنا پر سچا یقین سمجھ رہے تھے۔ دوسری طرف جب وہ دیکھتے کہ پیغمبر کے ساتھی ان سے بھی زیادہ یقین اور سر فروشی کے جذبے کے ساتھ اسلام کے محاذ پر اپنے آپ کو لگائے ہوئے ہیں تو وہ ان کے سچے یقین کو یہ کہہ کر بے اعتبار ثابت کرتے تھے کہ یہ محض ایک مذہبی جنون ہے۔ وہ ایک شخص (پیغمبر) کی خوبصورت باتوں سے جوش میں آکر دیوانے ہو رہے ہیں۔ ان کے یقین اور قربانی کی اس سے زیادہ اور کوئی حقیقت نہیں۔
مگر جب دونوں گروہوں میں مقابلہ ہوا اور مسلمانوں کے لئے اللہ کی مدد اتری تو شیطان مخالفین اسلام کو چھوڑ کر بھاگا۔ ایک طرف خدا کی مدد سے مسلمانوں کے دل اور زیادہ قوی ہو گئے کہ دوسری طرف مخالفین کا جھوٹا یقین بے ولی اور پست ہمتی میں تبدیل ہو گیا ۔ کیونکہ ان کا اعتماد شیطان پر تھا اور شیطان اب ان کو چھوڑ کر بھاگ چکا تھا۔
جو لوگ اللہ پر بھروسہ کریں اللہ ضرور ان کی مدد کرتا ہے۔ مگر اللہ کی مدد ہمیشہ اس وقت آتی ہے جب کہ اہل ایمان اللہ پر یقین کا اتنا بڑا ثبوت دے دیں کہ بے یقین لوگ کہہ اٹھیں کہ یہ مجنون ہو گئے ہیں۔