اسلام کی زمین
Al-Risala, September 1981, pp. 32–33
By Maulana Wahiduddin Khan
قدیم عربوں میں انسان کے اعلیٰ کردار کو بتانے کے لئے دو لفظ خاص طور پر بہت اہمیت رکھتے تھے ۔ مروة اور عرض ۔ مروۃ کا لفظ مرد سے بنا ہے ۔ اس کے لفظی معنی ہیں مردانگی ۔ قدیم عرب کے ذہن میں مردہ (یا مروت) کا لفظ ان تمام خصوصیات کا جامع تھا جو ایک سچے مرد کے اندر ہونی چاہئیں ۔ مثلاً حوصلہ، بہادری، فیاضی، عالی ظرفی، قول کا پکا ہونا، کمزوروں کی حمایت ، اختلاف اور شکایت کے باوجود بہتر سلوک وغیرہ ۔ جاہلی دور کا ایک شاعر کہتا ہے :
اذا المرء اعيته المرؤة ناشئا فمطلبها كهلاً عليه شديد آدمی اگر جوانی میں مروۃ کے درجہ تک پہنچنے سے عاجز رہے تو بڑھاپے میں اس کو حاصل کرنا اس کے لئے بہت
دوسرا لفظ عرض ہے ۔ عرض کے معنی ہیں آبرو، عزت ۔ یعنی آدمی میں یہ جوہر ہو تاکہ وہ کچھ اخلاقیات کو اپنے لئے عزت کا سوال سمجھے اور ہر حال میں اس کو کرے خواہ اس کے کرنے میں کتنی ہی مشکل پیش آئے اور اسی طرح کچھ خلاف اخلاق باتوں کو وہ اپنی عزت اور آن کے خلاف سمجھے اور کسی حال میں اس کے قریب نہ جائے ۔ جاہلی شاعر کہتا ہے :
اذا المرء لم يدنس من اللوم عرضه فكل رداء يرتديه جميل آدمی اگر ذلیل حرکت سے اپنی عرض کو داغدار نہ کرے تو جو چادر بھی وہ اوڑھے وہ اس کے لئے اچھی ہے ۔ یہ مردانگی اور آن عربوں میں کمال درجہ میں تھی ۔ ان کے قول و فعل میں کوئی فرق نہ تھا ۔ وہ جو کہتے تھے وہی کرتے تھے اور جو کرتے تھے وہی کہتے تھے ۔ وہ وعدہ سے پھرنا نہیں جانتے تھے ۔ وہ اپنے دشمن کے ساتھ بھی کوئی پست حرکت نہیں کر سکتے تھے ۔ کوئی مظلوم جب ان کو پکارتا تھا تو اس کی پکار پر دوڑ نا وہ اپنے لئے فرض سمجھتے تھے ۔ سے کوئی شخص عالی ظرفی سے کم درجہ کے سلوک کی امید نہیں کر سکتا تھا ۔ وہ اپنے مخالف کے بارے میں بھی کبھی کوئی ایسی بات نہیں کہہ سکتے تھے جو واقعہ کے خلاف ہو۔ وہ جس بات کو حق سمجھ لیتے تھے اس سے ہٹنا ان کے لئے نا ممکن تھا خواہ اس کی خاطر انھیں کتنی ہی قربانی دینی پڑے ۔ وہ جس معیار سے اپنے آپ کو دیکھتے تھے اسی معیار سے دوسروں کو بھی دیکھتے تھے ۔ وہ شرافت اور عالی ظرفی کو اپنی آن کا مسئلہ سمجھتے تھے اور اس کی خاطر مر مٹنے کے لئے تیار ہو جاتے تھے ۔
یہی انسانی کردار وہ ابتدائی بنیاد ہے جس پر اسلام کی بلند عمارت کھڑی ہوتی ہے ۔ جن لوگوں میں یہ اعلیٰ اوصاف ہوں وہی خدا کے دین کا بوجھ اٹھا سکتے ہیں ۔ جو لوگ ان ابتدائی خصوصیات سے خالی ہوں وہ گویا
اس بنیادی سے محروم ہیں جس کے اوپر دین کی بلند و بالا عمارت قائم ہوتی ہے۔ یہی حقیقت ہے جو ایک روایت میں ان الفاظ میں بیان کی گئی ہے ۔
تجدون الناس معادن، لمعادن الذھب تم لوگوں کو مڈن کانوں کے پاؤ گے جیسے سونے چاندی کی والفضة) خيارهم في الجاهلية خيارهم کانیں ہوتی ہیں) ان میں جو لوگ قبل از اسلام بہتر تھے في الا سلام اذا فقھرا - وتجدون خیر وہی اسلام میں بھی بہتر ثابت ہوں گے جبکہ وہ دین کی سمجھ الناس في هذا الشان، اشد ھم لھا كراھية پیدا کر لیں۔ اور تم اس چیز (عہدہ) کے معاملہ میں سب حتى يقع فیه - وتجدون شر الناس سے بہتر اس شخص کو پاؤ گے جو اس سے انتہائی بے رغبت ہو ذا لوجهين الذي ياتي هؤلاء بوجہہ، و اور تم لوگوں میں سب سے برا اس شخص کو پاؤ گے جو دو منھ والا هوؤلاء بوجهہ (بخاری و مسلم) ہو ۔ وہ ایک کے پاس ایک منھ لے کر جائے اور دوسرے کے پاس دوسرا منھ۔
زمین میں طرح طرح کی معدنی کانیں ہیں ۔ کسی سے کوئلہ جیسی معمولی چیز نکلتی ہے اور کسی سے سونے چاندی جیسی قیمتی دھاتیں ۔ یہی حال انسان کا ہے۔ انسان بھی طرح طرح کی صلاحیتوں کے ہیں۔ ہر آدمی گویا ایک کان ان میں سے کوئی شخص ایسا ہے کہ اس کو کھودا جائے تو اس کے اندر سے کوئلہ اور کنکر جیسی چیزیں نکلیں گی ۔ اور کوئی ایسا ہے کہ اس کو کھودے تو اس کے اندر سے سونے جیسا قیمتی کردار برآمد ہوگا۔ اسلام میں آدمی کے مقام کو متعین کرتی ہے ۔ جو آدمی اپنے اندر مرکز در عمل اور سطحی نفسیات لئے ہوئے ہو وہ جب اسلام میں آئے گا تو یہاں بھی اس سے کمزوری اور سطحیات کا مظاہرہ ہوگا۔ اس کے برعکس جو شخص اپنی فطرت میں طاقت ور ارادہ اور اعلیٰ جذبات کا خزانہ چھپائے ہوئے ہو وہ جب اسلام کی صف میں آئے گا تو اس سے طاقت ور کردار اور بر تر سلوک جیسی چیزوں کا اظہار ہوگا۔
حدیث میں بغرض وضاحت دونوں قسم کے انسانوں کی ایک ایک مثال دی گئی ہے۔ ایک انسان وہ ہے جو سونا انسان ہے اور دوسرا انسان وہ ہے جو کوئلہ انسان ہے ۔ " سونا انسان " کی ایک خصوصیت یہ ہے کہ وہ جاہ اور اقتدار سے انتہائی حد تک بے رغبت ہوتا ہے ۔ وہ خدا کی بڑائی میں جیتا ہے ، اس لئے اس کے دل میں یہ تمنا جگہ نہیں پکڑتی کہ وہ اپنی بڑائی کا مینار قائم کرے ۔ اس کے برعکس " کوئلہ انسان " کی ایک صفت یہ ہے کہ وہ موقع پرست ہوتا ہے ۔ وہ حالات کے لحاظ سے کلام کرتا ہے۔ جہاں جیسے لوگوں سے سابقہ پڑتا ہے وہاں اس کے مطابق الفاظ بول دیتا ہے ۔ پہلی قسم کے لوگ بہترین لوگ ہیں اور دوسری قسم کے لوگ بدترین لوگ ۔