Al-Risala · September 1981

ذرہ سے پہاڑ تک

Al-Risala, September 1981, pp. 34–35

By Maulana Wahiduddin Khan

ایک پرانی کہاوت ہے : "اگر تم پہاڑ کو سر کرنا چاہتے ہو تو پہلے ذروں کو سر کرنا سیکھو" آدمی اگر یکبارگی پہاڑ کو اپنی جگہ سے ہٹانا چاہے تو وہ اس کو نہیں ہٹا سکتا۔ لیکن اگر وہ اس راز کو جان لے کہ پہاڑ بہت سے چھوٹے چھوٹے ذروں سے مل کر بنا ہے تو وہ ذروں سے اپنا عمل شروع کرکے یقیناً ایک روز پہاڑ تک پہنچ جائے گا۔ ذروں کو پکڑتے پکڑتے کوئی بھی شخص پہاڑ کو پکڑ سکتا ہے۔ مگر جو آدمی پہلے ہی دن پہاڑ کو پکڑنا چاہے وہ کبھی اپنے مقصد میں میاب نہیں ہو سکتا۔

زندگی میں کوئی چیز ناممکن نہیں۔ ناممکن صرف یہ ہے کہ ممکن چیز کو ناممکن طریقہ سے حاصل کرنے کی کوشش کی جائے ۔ آپ ایک ایک اینٹ رکھ کر یقینی طور پر اپنے لئے ایک مکان تیار کرسکتے ہیں۔ لیکن اگر آپ چاہیں کہ یکایک پورا مکان آپ کے سامنے کھڑا ہو جائے تو ایسا مکان کبھی آپ کے لئے تیار نہ ہوگا۔ دنیا کے بنانے والے نے اس دنیا کو اس طرح بنایا ہے کہ یہاں جزر سے کل تک پہنچنے کا قانون رائج ہے۔ آدمی کو قدرت کے اسی قانون کی پیروی کرنی اس دنیا میں اس کے سوا کوئی در طریقہ کا کامیابی حاصل کرنے کا نہیں۔

اکثر لوگوں کی ناکامی کی وجہ یہ ہوتی ہے کہ وہ "ذرہ" سے اپنا کام شروع کرنا نہیں چاہتے بلکہ پورے "پہاڑ" کو یکبارگی اپنی جگہ سے ہٹا دینا چاہتے ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ ایک ایک ذرہ سے نٹنے میں تو بہت دیر لگے گی ، کیوں نہ پورے پہاڑ کو اکٹھے ہی سر کر لیا جائے ۔ مگر یہ بہت بڑی بھول ہے ۔ ذرہ ذرہ سے چلنے والے کے لئے تو کسی نہ کسی دن پہاڑ کی منزل آ جائے گی۔ مگر جو شخص پورے پہاڑ پر بیک وقت قابو پانا چاہے گا وہ کبھی اپنے ارادہ میں کامیاب نہ ہوگا ، خواہ اس میں وہ کروڑوں سال بتا دے۔

ایک مقام پر دو بھائی تھے۔ ایک بھائی فوری طور پر شرا فاندہ چاہتا تھا۔ وہ اکثر کہا کرتا "دے مولا چھین کر اور کی چوتھائی" پہلے وہ ایک عرصہ تک عملیات اور مسخر کار در شیں کرتا رہا تاکہ جن کو قبضہ میں کرے اور ان کے ذریعہ سے اچانک کوئی بڑا خزانہ حاصل کرلے۔ مگر سالہا سال کی محنت کے باوجود وہ کسی جن کو تسخیر نہ کر سکا۔ اس کو نہ کوئی جن ملا اور نہ کوئی خزانہ ۔ اس کے بعد اس نے لاٹری اور مرنے کا تجربہ شروع کیا ۔ سارے مہینہ اس کا یہ مشغلہ رہتا کہ لاٹری کے ٹکٹ خریدتا اور مٹھے پھیر کر روانہ کر دیتا۔ اس میں بھی کتنے سال گزر گئے ۔ مگر چھپر پھاڑ کر دولت اس کے اوپر نہیں برسی۔ مایوسی کے عالم میں ایک روز اس کا انتقال ہو گیا۔

دوسری طرف اس کے دوسرے بھائی نے یہ کیا کہ پہلے انھوں نے کتابت سیکھی۔ ایک عرصہ تک وہ اخباروں اور رسالوں میں کتابت کا کام کرتے رہے۔ اس کے بعد انھوں نے ایک پر نٹنگ پریس میں ملازمت کرلی۔ جب چھپائی کا کام اچھی طرح آگیا تو انھوں نے ایک چھوٹا سا ہینڈ پریس خرید لیا۔ اب وہ مزید ترقی کرکے ایک بڑا چھاپہ خانہ کامیابی کے ساتھ چلا اس میں وہ اور ان کے سب بچے لگے ہوئے ہیں۔ وہ عزت کی زندگی گزار رہے ہیں اور ان کی سب ضرورتیں

فراغت کے ساتھ پوری ہورہی ہیں ــــــــ ایک بھائی نے بیک وقت پورے پہاڑ کو قبضہ میں لینا چاہا ، وہ ناکام دوسرا بھائی ذرہ ذرہ کو سنبھالتے ہوئے آگے بڑھا ، وہ کامیاب رہا ۔

اسماعیل میرٹھی اردو کے مشہور شاعر اور ادیب گزرے ہیں ۔ ان کا ایک شعر ہے :

یوں ہی پھولوں پھولوں بھرے جھیل تال یوں ہی کوڑی کوڑی ہوا جمع مال یہ شعر ایک ایسی حقیقت بیان کر رہا ہے جو زندگی کے تمام معاملات میں صد فی صد درست ہے ۔ گنگا یا اور کوئی بڑا دریا میدانی علاقہ میں سمندر کا ایک پھیلا ہوا منظر ہوتا ہے ۔ لیکن اگر آپ اس کو اس پہاڑی مقام پر دیکھیں ، جہاں سے وہ شروع ہوتا ہے تو آپ پائیں گے کہ میدان کا عظیم دریا پہاڑ کا معمولی چشمہ ہے ۔ یہاں سی برفانی بلندی پر آپ کو بالکل دوسرا منظر دکھائی دے گا ۔ پہاڑ کی چوٹیوں پر پانی کی چھوٹی چھوٹی بے شمار دھاریں بہہ بہہ کر نیچے ایک مقام پر آکر ملتی ہیں ۔ یہاں ان کے ملنے سے دریا بنتا ہے ۔ یہ دھاریں الگ الگ بس پانی کی سوت سی ہوتی ہیں ۔ مگر ان کے یک جا ہونے سے ایک بڑا دھارا بہتا ہے جو آگے میدانی علاقہ میں پہنچ کر دریا کہلاتا ہے ۔ اگر کوئی شخص چاہے کہ پہاڑ کی چوٹی سے پہلے ہی قدم پر ایک گنگا بہادے تو ایسا گنگا کبھی وجود میں نہ آئے گا ۔ گنگا پانی کی بہت سی چھوٹی چھوٹی سوتوں سے مل کر بنتا ہے نہ کہ اچانک پانی کا سمندر بہہ پڑنے سے ۔

Printed page