Al-Risala · September 1981

اسلام کی دو قسمیں

Al-Risala, September 1981, p. 37

By Maulana Wahiduddin Khan

کمیونزم ایک سماجی نظریہ ہے، اس کا تعلق آدمی کی اپنی ذات سے نہیں، بلکہ خارجی نظام سے ہے۔ کسی شخص کو جب کمیونزم کی دریافت ہوتی ہے تو اس کا مطلب یہ نہیں ہوتا کہ اس نے اپنے تزکیہ یا اپنی نجات کے ایک راستہ کو دریافت کیا ہے۔ اس کا مطلب صرف یہ ہوتا ہے کہ اس کو ایسا سماجی نظریہ ملا ہے جس سے وہ خارجی دنیا میں اپنے حوصلوں کو پورا کر سکتا ہے۔ ایک کمیونسٹ قربانی بھی دیتا ہے مگر یہ قربانی خارجی انقلاب کے لئے ہوتی ہے نہ کہ حقیقتہ کسی داخلی انقلاب کے لئے۔ اس کے برعکس ایک مومن کو جب تقویٰ کا تجربہ ہوتا ہے تو وہ اس کے لئے عکس طور پر ایک داخلی واقعہ ہوتا ہے۔ وہ اس کے لئے ایک اندرونی انقلاب کے ہم معنی بن جاتا ہے۔

اسی طرح اسلام کو پانے کی دو شقیں ہیں۔ ایک وہ اسلام ہے جس کو آدمی اپنے باہر باہر پاتا ہے۔ اسلام وہ ہے جو آدمی اپنے اندرون میں پاتا ہے۔ اسلام کو اپنے باہر کی سطح پر پانا ایسا ہی ہے جیسے کوئی شخص کمیونزم کو پالے۔ ایسا اسلام شکل کے اعتبار سے اسلام ہو سکتا ہے۔ مگر حقیقی اسلام سے اس کا کوئی تعلق نہیں، حقیقی اسلام وہ ہے جو اندر کی سطح پر ملے۔ جو پانی اور ہوا کی طرح آدمی کی غذا بن جائے۔ اسلام کو باہر کی سطح پر پانا یہ ہے کہ آدمی اسلام کو رسمی اعمال کی صورت میں پائے کسی شخصیت یا کسی ادارہ کی سطح پر اس کو اسلام ملا ہو کسی خارجی شور وغل کی صورت میں، اس نے اسلام کی تعبیر حاصل کی ہو۔ سے باہر کچھ بحثیں اور تقریریں ہوں جن کو اس نے اسلام سمجھ لیا ہو جلسوں اور مظاہروں میں مشغول ہونا اس کو اسلام نظر آتا ہو۔ اسلام کو اندر کی سطح پر پانا یہ ہے کہ اسلام آدمی کی اندرونی زندگی میں بھو نچال بن کر ایسے آدمی کو اسلام دل کی تڑپ کی صورت میں ملتا ہے۔ وہ اس کے لئے خدا اور آخرت میں گم ہونے کے ہم معنی ہوتا ہے۔ وہ اس کے لئے ایک اندرونی انقلاب کا پیغام بن جاتا ہے۔ پہلا اسلام، احتساب خویش کا جذبہ ابھارتا ہے اور دوسرا اسلام احتساب اغیار کا۔ اعتراف کا مزاج بناتا ہے اور دوسرا اسلام لا متناہی بحثوں کا۔ پہلے اسلام میں آدمی ہر مسئلہ کو اپنا مسئلہ سمجھتا ہے اور دوسرے اسلام میں ہر مسئلہ کو دوسروں کا مسئلہ۔ پہلے اسلام کو پا کر آدمی کی زبان بند ہو جاتی ہے اور دوسرے اسلام کو پا کر آدمی کی زبان ہمیشہ سے زیادہ تیز ہو جاتی ہے۔ پہلے اسلام میں آدمی کی سرگرمیاں آخرت کے میدان میں جاری ہوتی ہیں اور دوسرے اسلام میں دنیا کے میدان میں۔ پہلے اسلام میں آدمی ہمہ تن خدا کی طرف دوڑتا ہے اور دوسرے اسلام میں خدا کا نام لے کر خود اپنی طرف۔

Printed page