ارتقاءءءءءءءء سائنس نہیں
Al-Risala, January 1981, pp. 43–24
By Maulana Wahiduddin Khan
ارتقا (Evolution) کا نظریہ ایک حیاتیاتی سائنس سمجھا جاتا ہے۔ یہ نظریہ بتاتا ہے کہ زمین پر جو مختلف قسم کے جان دار پھیلے ہوئے ہیں وہ کس طرح وجود میں آئے اور کس طرح اپنے آپ بڑھتے بڑھتے موجودہ حالت تک پہنچ گئے۔ ان کے نزدیک یہ سب کچھ ایک خود کار طبیعی عمل کے تحت ہوا ہے نہ کہ کسی خالق کے ارادہ ارتقا کے حامیوں کا دعویٰ ہے کہ ان کا یہ نظریہ ایک سائنسی حقیقت (Scientific Fact) ہے۔ یعنی وہ اسی طرح قطعی دلائل سے ثابت ہو گیا ہے جس طرح طبیعی سائنس کی دوسری حقیقتیں ثابت ہوئی ہیں۔ دلائل کے انبار، کا جائزہ لینے سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ یہ محض ایک دعویٰ ہے جس کے حق میں کوئی واقعی دلیل
سائنس جو ہے پر بحث کرتی ہے اور نظریہ ارتقاء جو ہوا ، پر سائنس حال کا علم ہے اور ارتقاء گزرے ہوئے ماضی کا علم۔ یہی فرق ارتقا کو سائنس سے جدا کر دیتا ہے۔ سائنس اپنے محدود موضوع کی بنا پر اس پوزیشن میں ہوتی ہے کہ وہ اپنے دعوے کا عملی مشاہدہ کرا سکے۔ سائنس میں جب کسی چیز کو ثابت شدہ مانا جاتا ہے تو اس کا بنیادی عنصر یہ ہوتا ہے کہ اس کو دہرایا جا سکتا ہے اور اس کے نتائج کا ہر وقت مشاہدہ کیا جا سکتا ہے : The key element of scientific proof is that you can repeat something and observe the results ارتقا کے حامی ایسا نہیں کر سکتے۔ وہ نہ اپنے مفروضہ کو دہرا سکتے ہیں اور نہ اس کا مشاہدہ کرا سکتے ہیں۔ ان کا یہ کہنا محض مغالطہ ہے کہ ارتقا ایک سائنسی حقیقت ہے۔
ارتقا کا نظریہ یہ ہے کہ دنیا میں جتنی بھی زندہ چیزیں ہیں سب کی سب ایک ہی زندہ چیز سے نکلی ہیں اور یہ ابتدائی زندہ چیز خود ایک غیر زندہ مادہ سے نکلی تھی:
Evolution is the idea that all the living forms in the world have arisen from a single source which itself came from an inorganic form G. Kerkut, Implications of Evolutions, P. 157 اس طرح ارتقا کا اصول دو مفروضوں پر قائم ہے۔ اول یہ کہ زندگی (Life) بے زندگی (Nonlife) سے پیدا ہوئی۔ دوسرے یہ کہ پہلی بار زندگی پیدا ہو کر بڑھتی اور پھیلتی رہی، یہاں تک کہ اسی سے زندگی کی وہ تمام قسمیں وجود میں آگئیں جن کو آج ہم زمین پر دیکھتے ہیں۔ مگر ان دونوں مفروضوں میں سے کوئی بھی ایسا نہیں جس کو آج دہرایا جا سکتا ہو۔ نہ بے زندگی سے زندگی کا نکلنا کہیں دکھایا جا سکتا ہے اور نہ ایک نوع سے بہت سی نوعوں کا وجود میں آنا۔ اس لئے یہ تمام تر ایک ذہنی قیاس ہے نہ کہ کوئی مشاہداتی واقعہ، جیسا کہ سائنسی مسلمات کے معاملہ
میں ہوتا ہے ۔
ارتقاءء بجائے خود کوئی مشاہداتی چیز نہیں ۔ وہ صرف ایک نتیجہ (Conclusion) ہے جس کو ایک آدمی کچھ واقعات کو دیکھ کر اخذ کرتا ہے ۔ مگر ارتقا کے پاس ایسی کوئی دلیل نہیں جو دوسرے متبادل مفروضات کو رد کرتی مثلاً زمین کی کھدائی سے زندہ اجسام کے پتھریلے ڈھانچے (Fossils) برآمد ہوئے ہیں۔ یہ ڈھانچے نیچے اوپر کی تہوں میں ہیں ، اس طرح ان سے زمین پر حیوانات کے بسنے کی تاریخ معلوم ہوتی ہے ۔ ان سے پتہ چلتا ہے کہ زمین پر تمام حیوانات بیک وقت موجود نہ تھے بلکہ ایک کے بعد ایک آباد ہوئے ۔ پہلے ادنیٰ حیوانات اور اس کے بعد دھیرے دھیرے اعلیٰ حیوانات یہاں تک کہ آخر میں انسان آباد ہوا۔ اس سے ارتقا کے حامی یہ نظریہ اخذ کرتے ہیں کہ پچھلی حیاتیاتی قسموں سے اگلی حیاتیاتی قسمیں بطریق تناسل برآمد ہوتی رہیں اور انھیں میں سے ایک نوع ترقی ترقی کرتے کرتے انسان بن گئی ۔
یہ ترتیب تخلیقی تاریخ کے طور پر صحیح ہو سکتی ہے ۔ تاہم اس کا کوئی براہ راست ثبوت نہیں ہے کہ ایک نوع سے دوسری نوع توالد و تناسل کے ذریعہ وجود میں آئی ۔ اس سے زیادہ سے زیادہ جو چیز ثابت ہوتی ہے وہ آباد کاری میں زمانی فرق ہے نہ کہ ایک کے پیٹ سے دوسرے کا نکلنا ۔ یہاں یکساں قوت کے ساتھ یہ دوسرا نظریہ پیش کیا جا سکتا ہے کہ ہر نوع الگ الگ زمانی ترتیب کے ساتھ وجود میں آئی یعنی پہلے ایک نوع ، پھر دوسری نوع ، پھر تیسری نوع ، مثلاً یہ ممکن ہے کہ واحد الخلیہ جاندار پہلے پیدا کئے گئے ہوں ۔ اور پھر تر تیب وار دوسرے جانوروں کی تخلیق عمل میں اس ضمن میں کم از کم ایک معلوم واقعہ ایسا ہے جو اس نظریہ کی تائید کرتا ہے ۔ اور وہ ہے مادی دور کے بعد پہلے ذی حیات کی پیدائش ۔
زمین پر آج مختلف قسم کے جان داروں کا ہونا یہ ثابت کرتا ہے کہ کبھی کوئی پہلا جان دار تھا ۔ آج کے جانداروں کی موجودگی ہی پہلے جان دار کا وجود ثابت کرنے کے لئے کافی ہے ۔ اس طرح خصوصی تخلیق (Special Creation) کا نظریہ ، کم از کم پہلے جان دار کی حد تک ، اپنے آپ ثابت ہے ۔ اس کے لئے کسی مزید ثبوت کی ضرورت نہیں ۔ تک واقعاتی طور پر یہ ثابت نہ ہو جائے کہ بے جان مادہ سے اپنے آپ ایک زندہ جسم وجود میں آتا ہے اس وقت تک ہم یہ ماننے پر مجبور ہیں کہ پہلا ذی حیات مستقلاً پیدا ہوا۔ وہ نہ کسی دوسرے ذی حیات سے وجود میں آیا اور نہ اب تک کے کسی ثبوت کے مطابق بے جان مادہ سے ۔ اس لئے ہمارے واسطے اس کے سوا کوئی چارہ نہیں کہ پہلے ذی حیات کو خصوصی طور پر پیدا شدہ مانیں اور پہلے ذی حیات کے بارے میں خصوصی تخلیق ماننے کے بعد ہمارے پاس کوئی بنیاد نہیں رہتی کہ ہم کیوں دوسرے انواع حیات کے بارے میں خصوصی تخلیق کو نہ مانیں ۔ اگر پہلا جان دار خصوصی طور پر پیدا ہو سکتا ہے تو بعد کے جان دار کیوں خصوصی طور پر پیدا نہیں ہو سکتے ۔