Al-Risala · September 1981

وہ رسول اللہ کے فیصلے سے ہٹنا نہیں جانتے تھے

Al-Risala, September 1981, p. 41

By Maulana Wahiduddin Khan

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی حیات کے آخری دنوں میں رومیوں سے مقابلہ کے لئے ایک لشکر تیار فرمایا تھا۔ تین ہزار کے اس لشکر میں بڑے بڑے صحابہ شامل تھے۔ ان کے اوپر اسامہ بن زید کو امیر مقرر فرمایا تھا جو نسبتاً ایک نوجوان شخص تھے۔ حسن بن ابی الحسن کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد جب ابو بکر رضی اللہ عنہ خلیفہ مقرر ہوئے تو جیش اسامہ ابھی راستہ میں تھا۔ اسامہ بن زید رض نے حضرت عمر سے کہا کہ آپ خلیفہ رسول کے پاس جائیں اور ان سے کہیں کہ ہم کو مدینہ لوٹنے کی اجازت دے دیں۔ ضرورت ہے کہ اس وقت سب سے پہلے مرتدین کا مقابلہ کیا جائے جو مدینہ کے لئے خطرہ بنتے جارہے ہیں۔ حضرت عمر چلے اور حضرت ابوبکر کے پاس آئے۔ انھوں نے آپ کو حضرت اسامہ کا پیغام پہنچایا۔ حضرت ابوبکر نے کہا: اگر کتے اور بھیڑیے مجھ کو پھاڑ کھائیں تب بھی میں اس فیصلہ کو بدلنے والا نہیں جس کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود کیا ہے۔ حضرت عمر نے کہا: انصار نے مجھ سے کہا ہے کہ میں ان کا یہ پیغام آپ تک پہنچا دوں کہ وہ ایک ایسا امیر چاہتے ہیں جو عمر میں اسامہ سے زیادہ ہو۔ حضرت ابوبکر اس وقت بیٹھے ہوئے تھے یہ سن کر جھپٹ پڑے اور حضرت عمر کی داڑھی پکڑ کر کہا: اے خطاب کے لڑکے! تیری ماں تجھ کو گم کرے اور معدوم کرے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو امیر مقرر کیا ہے اور تم مجھ سے کہتے ہو کہ میں ان سے امارت چھین لوں (ثکلتک امك وعدمتك يا ابن الخطاب، استعمله رسول الله صلى الله عليه وسلم وتا مرنى ان انزعہ، ، البدایه والنہایہ جلد 6)

Printed page