Al-Risala · September 1981

اللہ کا نام آتے ہی گردن جھکا دیتا

Al-Risala, September 1981, pp. 41–42

By Maulana Wahiduddin Khan

عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے حجرے میں تھے۔ اتنے میں آپ نے تیز تیز آوازیں سنیں۔ دروازہ کے باہر دو آدمی جھگڑا کر رہے تھے۔ ایک نے دوسرے کو قرض دیا تھا جس کے ذمہ قرض تھا وہ کہہ رہا تھا

کہ قرض کمی مقدار میں کچھ کی کر دو۔ مگر قرض دینے والا اس کو نہیں مان رہا تھا۔ اس نے غصہ میں آ کر کہا: «واللہ لا افعل (خدا کی قسم میں ایسا نہیں کروں گا) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نکل کر ان کے پاس گئے اور فرمایا: کون ہے قسم کھانے والا جو اللہ پر قسم کھا کر کہتا ہے کہ میں نیکی نہیں کروں گا؟ “ آپ کی زبان سے یہ سنتے ہی وہ شخص نرم پڑ گیا اور بولا: وہ شخص میں ہوں اے خدا کے رسول ، اب اس کے لئے وہی ہے جو وہ پسند کرے (انا یا رسول اللہ، فلہ ای ذٰلک أَحبَّ ) متفق علیہ)

نجات ان کے لئے جو رسول اور اصحاب رسول کے نمونے پر چلیں ان اليهود اختلفوا على احدى وسبعين فرقة یہود اکتہر فرقوں میں بٹ گئے اور نصاری تہتر فرقوں میں وان النصارى اختلفوا علی اثنتين وسبعين فرقة بٹ گئے اور یہ امت بہتر فرقوں میں بٹ جائے گی سب وستفترق ہذہ الامة على ثلاث وسبعين کے سب آگ میں جائیں گے سو ایک کے لوگوں نے پوچھا فرقة كلها في النار الا واحدة ۔ قالوا من هم وہ کون ہیں اے اللہ کے رسول، فرمایا: وہ جس پر میں يارسول اللہ قال: ما انا عليه واصحابی اور میرے اصحاب ہیں۔

مختصر تفسیر ابن کثیر جلد ثالث صفحہ ۶۶)

Printed page