رسالہ ستمبر ۱۹۸۱
Al-Risala, September 1981, p. 44
By Maulana Wahiduddin Khan
ایک شخص کے پاس ایک گدھا تھا۔ وہ اس گدھے پر سواری کرتا تھا۔ ایک روز آدمی اس پر چڑھا تو گدھے نے اس کو زمین پر پٹک دیا۔ آدمی کو سخت چوٹ آئی۔ مالک کی چوٹ دیکھ کر گدھا سنجیدہ ہوگیا اور اس کو دوبارہ اپنی پیٹھ پر بٹھاکر روانہ ہوا۔ مالک خاموش ہوگیا کہ دیکھیے گدھا کہاں جاتا ہے۔ گدھا اس کو لے کر سیدھا اسپتال پہنچا۔ آدمی کے محلہ والوں کو جب معلوم ہوا کہ گدھے نے اس کو پیٹھ سے گرا دیا تھا اور اس کے بعد اس کو اٹھاکر اسپتال لے گیا تو انھوں نے اس آدمی کو مبارک باد دی کہ تم بڑے خوش نصیب ہو کہ تم کو ایسا اچھا گدھا ملا ہے۔ آدمی نے کہا : ہاں گدھا تو اچھا ہے مگر وہ مجھ کو جہاں لے گیا وہ مویشیوں کا اسپتال تھا۔
یہ ایک تمثیل ہے جو یہ بتاتی ہے کہ اخلاص کے ساتھ عقل بھی ضروری ہے۔ آدمی اگر بے وقوف ہو تو اس کا اخلاص بھی ویسا ہی ہوگا جیسا مذکورہ گدھے کا اخلاص۔ وہ ایک آدمی کی تکلیف پر دکھی ہوگا اور اس کو اپنی پیٹھ پر لاد کر اسپتال لے جائے گا۔ مگر وہ جس اسپتال میں اس کو پہنچائے گا وہ "مویشیوں" کا اسپتال ہوگا نہ کہ "آدمیوں" کا اسپتال۔
بدقسمتی سے موجودہ زمانہ میں ہماری قوم اسی قسم کے مخلص نادانوں کی مہربانیوں کا شکار گاہ بنی ہر قائد نہایت اخلاص اور درد مندی کے ساتھ قوم کی خدمت میں لگا ہوا ہے۔ مگر وہ قوم کی اصلاح کے لئے ایسی تدبیریں کرتا ہے جو قوم کے مرض کو اور بڑھانے والی ہوں نہ کہ اس کو گھٹانے والی۔ ہماری جدید قومی تاریخ کا سب سے زیادہ الم ناک واقعہ یہ ہے کہ ہر قائد کو لاکھوں، بعض اوقات کروڑوں ساتھی اور بے شمار اسباب و وسائل ملے۔ ہر قائد اپنے مقررہ نشانہ کو حاصل کرنے میں غیر معمولی طور پر کامیاب رہا۔ مگر اس کے باوجود قوم کی مغلوبیت اور زبوں حالی میں کوئی کمی نہ ہوسکی۔ بلکہ مسائل کی پیچیدگیاں دن بدن بڑھتی چلی گئیں۔ شان دار کامیابیوں کے با وجود شان دار ناکامی کی وجہ دی مخلصانہ ہر قائد قوم کو اپنی پیٹھ پر لاد کر اسپتال پہنچارہا ہے۔ مگر وہ جس اسپتال میں پہنچاتا ہے وہ مویشیوں کا اسپتال ہے۔ اور ظاہر ہے کہ مویشیوں کے اسپتال کے علاج سے انسان کا مرض اچھا نہیں ہوسکتا ______ چھوٹی سی بات پر لڑ کر بڑے نقصان کو دعوت دینا، ایک معمولی مسئلہ کے نام پر ادھم مچا کر دوسرے ناقابل حل مسائل کھڑے کرلینا، جلسے جلوس کے تماشوں کو عہد ساز اور تاریخ آفریں بتا کر قوم کی بے حساب طاقت اس میں برباد کردینا، سب اسی نادانی کی مثالیں ہیں (۲۸ مئی ۱۹۸۱)