Al-Risala · October 1981

سر پرست

Al-Risala, October 1981, pp. 11–12

By Maulana Wahiduddin Khan

مولانا وحید الدین خان لوگ جہنمٰی انگاروں میں کودتے ہیں اور سمجھتے یہ ہیں کہ ـ وہ رقصِ کھولوار سر کھیل رہے ہیں وہ وہ بے ضرر پھولوں سے رہیں رہے ہیں، قیمت فی پرچہ ۔

جمعية بلڈنگ ، قاسم جان اسٹریٹ، دھلی ٦ (انڈیا)

بسم الله الرحمن الرحيم کر کے دل کی دنیا کو آباد گاوہ میں دی ہے کھا کا مکہ ہنس کر کہے کوئی آپ کو کوئی آدمی ایسا نہیں ملے گا جو خریداری کے کام کو صرف اس لئے چھوڑ دے کہ چیزوں کی قیمت میں اضافہ ہو گیا ہے۔ چیزوں کے دام بڑھ رہے ہیں۔ مگر بازار میں خریداروں کی بھیڑ میں کوئی کمی نہیں ہوتی۔ تاہم ایسے لوگ ہیں جنہوں نے صرف اس لئے الرسائلہ کی خریداری بند کر دی ہے کہ اس کی قیمت میں گرانی کے سبب سے ایک روپیہ کا اضافہ کر دیا گیا ہے۔

ید ہوگا کہ اس کی گرانی کے سبب سال کا اضافہ کر دیا گیا ہے ۔

ایسے لوگوں سے ہم کہیں گے کہ الرسالہ کا خریدنا کوئی بازار کا سودا خریدنے کا معاملہ نہیں ہے۔ یہ دعوت حق کی مہم میں اپنے آپ کو شریک کرنا ہے۔ اسلام کی ایک تاریخ وجود میں آ رہی ہے۔ اب جو شخص چاہے اس تاریخ کا جز بن جائے ۔ اور جو شخص اس کا جز بننے کے لئے تیار نہ ہو وہ خود سوچ لے کہ جس مہنگائی کو وہ اپنے دنیا کے معاملات میں پوری طرح گوارا کئے ہوئے تھا اسی مہنگائی کو آخرت کے معاملہ میں گوارا نہ کرنے کے لئے اس کے پاس خدا کے یہاں کیا جواب ہوگا ۔

زر تعاون سالانہ ۳۶ روپیہ • خصوصی تعاون سالانہ دوسوروپے • بیرونی ممالک ۲۰ ڈالر امریکی

Printed page