سنت رسول
Al-Risala, October 1981, pp. 3–5
By Maulana Wahiduddin Khan
سنت عربی زبان میں طریقہ کو کہتے ہیں۔ اس سے مراد خدا کا وہ پسندیدہ طریقہ ہے جو رسول کے ذریعہ انسان کو بتایا گیا۔ قرآن میں یہ لفظ شریعت خداوندی کے تمام طریقوں کے لئے آیا ہے۔ کے احکام بیان کرتے ہوئے ارشاد ہوا ہے :
يُرِيدُ اللَّهُ لِيُبَيِّنَ لَكُمْ وَيَهْدِيَكُمْ سُنَنَ اللہ چاہتا ہے کہ تمھارے واسطے بیان کرے اور تم کو الَّذِينَ مِنْ قَبْلِكُمْ وَيَتُوبَ عَلَيْكُمْ ۖ وَاللَّهُ عَلِيمٌ ان لوگوں کا طریقہ بتا دے جو تم سے پہلے تھے اور تمھارے حكيم (نساء ۲۶) اوپر توجہ کرے اور اللہ جاننے والا حکمت والا ہے۔
اللہ نے جب دنیا بنائی تو اسی وقت یہ بھی طے کر دیا کہ اس دنیا کی کارکردگی کے لئے اس کا پسندیدہ طریقہ کیا ہوگا۔ اس طریقہ کو خدا نے بقیہ دنیا میں بزور اس طرح نافذ کر دیا کہ کوئی چیز اس سے ذرا بھی ہٹ نہیں مگر انسان کو خدا نے اس کا پابند نہیں کیا۔ انسان کو سوچنے اور کرنے کی آزادی دے کر فرمایا کہ تم میں سے جو لوگ اپنی آزاد مرضی سے میرے پسندیدہ طریقہ پر چلیں گے ان کے لئے میرے یہاں جنت کے باغ ہیں اور جو لوگ اس سے انحراف کریں گے ان کے لئے دوزخ کی آگ۔
خدا کے اسی پسندیدہ طریقہ کو انسانوں کے سامنے واضح کرنے کے لئے خدا کے رسول آئے ۔ نے زبانی بھی بتایا اور ہر ت کر عملاً بھی دکھا دیا کہ خدا کی پسند کے مطابق زندگی گزارنے کا صحیح طریقہ کیا ہے۔ یہی وہ چیز ہے جس کو رسول کی سنت کہا جاتا ہے۔ رسول کی سنت کا تعلق مسواک اور غسل جیسے معاملات سے بھی ہے اور ملی تعمیر اور اجتماعی اصلاح جیسے معاملات سے بھی۔ جو لوگ اللہ کے یہاں اس کے مقبول بندوں میں شامل ہونا چاہتے ہیں ان کے لئے ضروری ہے کہ اپنے تمام معاملات میں رسول کی سنت کی پیروی اپنی زندگی کے کسی معاملہ کو اس سے آزاد یا غیر متعلق نہ سمجھیں۔
رسول کی اجتماعی سنتوں میں سے ایک سنت تدریج یا حقیقت پسندی ہے۔ یعنی نظریاتی معیاروں کے نفاذ میں حقیقی حالات و واقعات کی رعایت ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اجتماعی اصلاح کے تمام معاملات میں ہمیشہ تدریجی حکمت کے مطابق عمل کیا ہے۔ آج کل کی زبان میں کہہ سکتے ہیں کہ آپ کا طریقہ انقلابی (Revolutionary) نہیں تھا بلکہ ارتقائی (Evolutionary) تھا۔ حضرت عائشہ رض ایک روایت میں اسی بات کو اس طرح بتاتی ہیں :
انما نزل اول ما نزل سورة من المفصل قرآن میں سب سے پہلے مفصل سورتیں اتریں جن میں
فيها ذكر النة والنار حتى اذا تاب الناس جنت اور جہنم کا تذکرہ ہے۔ یہاں تک کہ جب لوگوں الى الاسلام نزل الحلال والحرام ولو کے دل اسلام کے لئے ہموار ہو گئے تو حرام و حلال کی نزل اول ما نزل لا تشربوا الخمر لقالوا آیتیں اتریں۔ اگر پہلے ہی یہ اترتا کہ شراب نہ پیو تو لا ندع الخمر ابدا ولو نزل لا تزنوا لوگ کہتے کہ ہم کبھی شراب نہ چھوڑیں گے۔ لقالوا لا ندع الزنا ابدا (بخاری باب تالیف القرآن)
رمضان ۸ھ میں مکہ فتح ہوا۔ اس کے بعد عرب کا مرکز قیادت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قبضہ میں آگیا۔ مگر تاریخ بتاتی ہے کہ آپ نے بیت اللہ سے متعلق شرعی احکام کا فوری نفاذ نہیں فرمایا۔ جو کچھ کرنا تھا تدریج کے ساتھ کیا۔ فتح مکہ کے بعد اسلامی اقتدار قائم ہونے کے باوجود ۸ھ میں حج ہوا وہ بدستور قدیم جاہلی رواج کے مطابق ہوا۔ اس کے بعد ۱۰ھ میں اسلامی دور کا دوسرا ج حج اس طرح کیا گیا کہ مسلمانوں نے اپنے طریقہ پر حج کیا اور مشرکین نے اپنے طریقہ پر۔ پھر جب ۹ھ میں تیسرا حج آیا تو آپ کے حکم کے مطابق اس کو خالص اسلامی طریقہ پر انجام دیا گیا۔ یہی دور اسلامی کا تیسرا حج ہے جو اسلامی تاریخ میں حجۃ الوداع کے نام سے مشہور ہے۔
طبعی طور پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات سخت ناپسند تھی کہ مشرکین بیت اللہ میں آئیں اور اپنے مشرکانہ رواج کے مطابق حج کے مراسم ادا کریں۔ مگر اقتدار حاصل ہونے کے باوجود آپ نے شریعت کے نفاذ میں جلدی نہیں کی۔ فتح مکہ کے بعد دو سال تک آپ حج کی ادائیگی کے لئے مکہ نہیں گئے۔ حج کا موسم آیا تو آپ نے فرمایا: مشرکین بیت اللہ میں آئیں گے اور ننگے ہو کر حج کریں گے۔ مجھے پسند نہیں کہ میں حج کروں جب تک یہ چیزیں ختم نہ ہو جائیں (انما يحضر المشركون فيطوفون عراة فلا احب ان احج حتى لا يكون ذلك ، تفسير ابن کثیر، سورہ توبہ)
فتح مکہ کے بعد پہلے سال (۸ھ) میں مسلمانوں نے حج کیا مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف نہیں لے گئے۔ دوسرے سال (۹ھ) میں آپ نے مسلمان حاجیوں کا قافلہ حضرت ابو بکر کی قیادت میں مدینہ سے مکہ روانہ کیا۔ اس کے بعد قرآن میں یہ حکم اترا کہ مشرکین نجس ہیں، اس سال کے بعد وہ مسجد حرام کے قریب نہ آئیں (توبہ ۲۸) چنانچہ آپ نے حضرت علی کو مکہ بھیجا اور حکم دیا کہ حج کے اجتماع میں گھوم گھوم کر یہ اعلان کر دیں کہ اس سال کے بعد کوئی مشرک حج کے لئے نہ آئے اور اب سے کوئی شخص ننگی حالت میں کعبہ کا طواف نہ کرے (لا يحج بعد العام مشرك ولا يطوف بالبيت عریان) اس طرح تیسرے سال
جب دھیرے دھیرے شرک کا خاتمہ کر دیا گیا اس وقت آپ نے مکہ جا کر حج ادا فرمای۱۔ یہی رسول اللہ علیہ وسلم کا آخری حج (حجۃ الوداع) تھا۔
اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے احکام کے نفاذ میں کس طرح تدریجی حکمت کا لحاظ فرمایا ہے، حتی کہ اقتدار پر قبضہ ملنے کے باوجود آپ نے تدریج کے اصول کو ترک نہیں کیا ۔ خدا کے پیغمبر نے اپنے آپ کو روک لیا مگر مشرکین کو وقت سے پہلے روکنے کے لئے اقدام نہیں فرمایا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت صرف وہی نہیں ہے جس کو عام طور پر لوگ "سنت" کے نام سے جانتے ہیں۔ اس کے سوا بھی رسول اللہ کی سنتیں ہیں۔ ان میں سے ایک سنت وہ ہے جس کو تدریج یا حقیقت پسندی کہا جا سکتا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ میں پیغمبر کی حیثیت سے ۱۳ سال رہے مگر آپ نے کبھی یہ نہ کیا کہ کعبہ کی بے حرمتی کے خلاف احتجاجی جلوس نکالیں، حتی کہ فتح و غلبہ حاصل ہونے کے بعد بھی آپ نے بیہودہ مراسم کے خاتمہ کے لئے جلد بازی نہیں کی۔ طاقتور ہونے کے باوجود آپ نے دو سال تک انتظار فرمایا اور تیسرے حج میں وہ تمام اصلاحات نافذ کیں جو آپ ملک میں نافذ کرنا چاہتے تھے۔ تدریجی ڈھنگ پر عمل کرنے میں بہت سے فائدے ہیں جو کسی اور طریقے سے حاصل نہیں کئے جا سکتے۔ اس کا ایک فائدہ یہ ہے کہ مطلوبہ نتیجہ تک پہنچنا یقینی ہو جاتا ہے۔ تدریجی طور پر آگے بڑھنا دوسرے لفظوں میں ایک ایک قدم کو سنبھالتے ہوئے اور مستحکم کرتے ہوئے آگے بڑھنا ہے۔ ایسا آدمی صرف جوش کے میدان میں نہیں کود پڑتا بلکہ خارجی اسباب کی رعایت کرتے ہوئے حسب حالات اپنے مقصد کی طرف پیش قدمی کرتا ہے۔ اور جو شخص اپنے سفر میں اس حکمت کو ملحوظ رکھے وہ ضرور منزل پر پہنچ کر رہے گا۔ اس کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ آدمی بے فائدہ نقصانات سے بچ جاتا ہے۔ جو شخص اچانک چھلانگ لگا کر مقصد تک پہنچنا چاہے اس کو غیر ضروری طور پر ایسی طاقتوں سے قبل از وقت لڑنا پڑ جاتا ہے جن سے مؤثر مقابلہ کے لئے وہ ابھی تیار نہیں ہو سکتا تھا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ جان و مال کے ایسے نقصانات بھگتنے پڑتے ہیں جن کی تلافی مدتوں بعد بھی نہ ہو سکے۔
تدریج کے ذریعہ روایات توڑے بغیر نظام تبدیل ہو جاتا ہے۔ سماجی زندگی میں روایات کی بے حد اہمیت ہے اور یہ روایات صدیوں میں بنتی ہیں کسی نے بجاطور پر کہا ہے کہ ایک چھوٹی سی روایت بننے کے لئے بہت بڑی تاریخ درکار ہوتی ہے :
It requires a lot of history to make a little tradition جلد انقلاب لانے کے لئے اگر سماج میں ایجی ٹیشن اور مار دھاڑ کا ماحول قائم ہو جائے تو دوبارہ کام کا مزاج اور ایک دوسرے کے احترام کی روایات پیدا کرنے کے لئے کئی نسل کی جدوجہد درکار ہوگی ۔