تبصرہ
Al-Risala, October 1981, pp. 18–31
By Maulana Wahiduddin Khan
پچھلی صدیوں میں یہ سمجھ لیا گیا تھا کہ خدا کا وجود محض ایک ذاتی عقیدہ کی چیز ہے۔ اس کا علمی طرز فکر سے کوئی تعلق نہیں۔ مگر دوسری جنگ عظیم کے بعد مسلسل ایسے شواہد مل رہے ہیں کہ انسان یہ ماننے پر مجبور ہورہا ہے کہ خدا کا وجود ایک علمی و عقلی نظریہ ہے نہ کہ محض ایک بے دلیل عقیدہ ۔
مگر سائنسی مطالعہ آدمی کو صرف اس مجرد حقیقت تک پہنچا رہا ہے کہ خدا کا وجود ہے۔ اس کے آگے یہ سوال ہے کہ خدا جب ہے جو اس کا انسان سے کیا تعلق ہے۔ مگر سائنس اس کے بارے میں ہمیں کوئی معلومات نہیں دیتی اور نہ دے سکتی ۔ یہ دراصل وہ مقام ہے جہاں سے مذہب کی سرحد شروع ہو جاتی ہے۔ اصولی طور پر تمام مذاہب اس سوال کا جواب ہیں ۔ مگر مذاہب کی موجودہ صورت بتاتی ہے کہ اسلام کے سوا کوئی مذہب اپنی اصلی حالت میں محفوظ نہیں ۔ کوئی مذہب اس لئے باطل قرار پاتا ہے کہ اس میں سرے سے خدا کا تصور ہی موجود نہیں۔ کسی کا حال یہ ہے کہ وہ کئی خداؤں کا مدعی ہے۔ حالاں کہ تمام علوم یہ ثابت کر رہے ہیں کہ خدا اگر ہو سکتا ہے تو ایک ہو سکتا ہے ۔ کئی خدا کا ہونا ممکن نہیں۔ کسی مذہب کے نظام میں ایسے نظریات جگہ پا گئے ہیں جن کو انسانی ضمیر کبھی قبول نہیں کر سکتا۔ مثلاً انسانوں کے درمیان رنگ اور نسل کی بنا پر فرق۔ طرح دوسری باتیں ۔
علمی حقائق انسان کو خدا تک پہنچارہے ہیں اور خدا کو ماننے کے بعد اسلام کو ماننے کے سوا کوئی چارہ جب علمی مطالعہ یہ بتا رہا ہو کہ اس دنیا کا ایک خدا ہے تو بے خدا مذہب اپنے آپ باطل ثابت ہو جاتے ہیں۔ جب کائناتی تحقیق یہ بتائے کہ اس کا پورا نظام ایک وحدت کے تحت چل رہا ہے تو ایسے مذاہب بے معنی ہو جاتے ہیں جو کائنات کے کئی خدا مانتے ہوں ۔ ایسی حالت میں آدمی مجبور ہے کہ وہ اسلام کو اپنا مذہب بنائے تو نہ صرف خدا کے صحیح تصور پر مبنی ہے بلکہ واضح طور پر یہ بھی بتاتا ہے کہ خدا اور انسان کے درمیان کس قسم کا تعلق ہونا چاہئے ۔
اور اگر تم دیکھتے جب کہ فرشتے ان منکرین کی جان قبض کرتے ہیں، مارتے ہوئے ان کے چہروں اور ان کی پیٹھوں پر، اور بے کہتے ہوئے کہ اب جلنے کا عذاب چکھو۔ یہ بدلہ ہے اس کا جو تم نے اپنے ہاتھوں آگے بھیجا تھا اور اللہ ہرگز بندوں پر ظلم کرنے والا نہیں۔ فرعون والوں کی طرح اور جو ان سے پہلے تھے کہ انہوں نے اللہ کی نشانیوں کا انکار کیا پس اللہ نے ان کے گناہوں پر ان کو پکڑ لیا۔ یہ شک اللہ قوت والا ہے، سخت سزا دینے والا ہے۔ یہ اس وجہ سے ہوا کہ اللہ اس انعام کو جو وہ کسی قوم پر کرتا ہے اس وقت تک نہیں بدلتا جب تک وہ اس کو نہ بدل دیں جو ان کے نفسوں اور بے شک اللہ سننے والا جاننے والا ہے۔ فرعون والوں کی طرح اور جو ان سے پہلے تھے کہ انہوں نے اپنے رب کی نشانیوں کو جھٹلایا پھر ہم نے ان کے گناہوں کے سبب سے ان کو ہلاک کر دیا اور ہم نے فرعون والوں کو غرق کر دیا اور یہ سب لوگ ظالم تھے۔
نعمت کا انحصار حالت استحقاق نعمت پر ہے۔ قومی سطح پر کسی کو جو نعمتیں ملتی ہیں وہ ہمیشہ اس استحقاق کے بقدر ہوتی ہیں جو نفسی حالت کے اعتبار سے اس کے یہاں پایا جاتا ہے۔ یہ "نفس" چونکہ فرد کے اندر ہوتا ہے اس لئے اس بات کو دوسرے لفظوں میں یوں کہا جاسکتا ہے کہ اجتماعی انعامات کا انحصار انفرادی حالات پر ہے۔ افراد کی سطح پر قوم جس درجہ میں ہو اسی کے بقدر اس کو اجتماعی انعامات دئے جاتے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ کوئی گروہ اگر خدا کے اجتماعی انعامات کو پانا چاہتا ہے تو اس کو اپنے افراد کی نفسی اصلاح پر اپنی طاقت صرف کرنا اسی طرح کوئی قوم اگر اپنے کو اس حال میں دیکھے کہ اس سے اجتماعی نعمتیں چھن گئی ہیں تو اس کو خود نعمتوں کے پیچھے دوڑنے کے بجائے اپنے افراد کے پیچھے دوڑنا چاہئے ۔ کیونکہ افراد ہی کے بگڑنے سے اس کی نعمتیں چھنی ہیں اور افراد ہی کے بننے سے دوبارہ دہا سے مل سکتی ہیں۔
جب کوئی قوم عدل کے بجائے ظلم اور تواضع کے بجائے سرکشی کا رویہ اختیار کرتی ہے تو خدا کی طرف سے اس کے سامنے سچائی کا اعلان کرایا جاتا ہے تاکہ وہ متنبہ ہو جائے۔ یہ اعلان کمالِ وضاحت کے اعتبار سے خدا کی ایک نشانی ہوتا ہے ۔ اس کو ماننا خدا کو ماننا ہوتا ہے اور اس کو نہ ماننا خدا کو نہ ماننا۔ خدا کی دعوت جب آیت (نشانی) کی حد تک برہنہ ہو کر لوگوں کے سامنے آجائے پھر بھی وہ اس کا انکار کریں تو اس کے بعد لازماً وہ سزا کے مستحق ہو جاتے ہیں۔ اس سزا کا آغاز اگرچہ دنیا ہی سے ہو جاتا ہے۔ تاہم دنیا کی سزا اس سزا کے مقابلہ میں بہت کم ہے جو موت کے بعد آدمی کے سامنے آنے والی ہے۔ فرشتوں کی مار، ساری مخلوق کے سامنے رسوائی اور جہنم کی آگ میں جلنا ۔ یہ سب اتنے ہولناک مراحل ہیں کہ موجودہ حالات میں ان کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا۔
انسان جب ظلم اور سرکشی کا رویہ اختیار کرتا ہے تو اولاً اس کے لئے تنبیہات ظاہر ہوتی ہیں۔ ان سے سبق نہ لے تو بالآخر وہ خدا کے فیصلہ کن عذاب کی زد میں آجاتا ہے۔
بے شک سب جانداروں میں بدترین اللہ کے نزدیک وہ لوگ ہیں جنہوں نے انکار کیا اور وہ ایمان نہیں لاتے۔ جن سے تم نے عہد لیا، پھر وہ اپنا عہد ہر بار توڑ دیتے ہیں اور وہ ڈرتے نہیں۔ پس اگر تم ان کو لڑائی میں پاؤ تو ان کو ایسی سزا دو کہ جو ان کے پیچھے ہیں وہ بھی دیکھ کر بھاگ جائیں، تاکہ انھیں عبرت ہو۔ اور اگر تم کو کسی قوم سے بد عہدی کا ڈر ہو تو ان کا عہد ان کی طرف پھینک دو، ایسی طرح کہ تم اور وہ برابر ہو جائیں۔ بے شک اللہ بدعہدوں کو پسند نہیں کرتا ٥۸ - ۵۵ مدینہ کے یہود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت کا انکار کر کے خدا کی نظر میں مجرم ہو چکے تھے۔ اس جرم پر مزید اضافہ ان کی بد عهدی تھی۔ ہجرت کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور یہود مدینہ کے درمیان یہ تحریری معاہدہ ہوا کہ دونوں ایک دوسرے کے معاملہ میں غیر جانب دار رہیں گے۔ مگر یہود خفیہ طور پر آپ کے دشمنوں (مشرکین) سے مل کر آپ کے خلاف سازشیں کرنے لگے۔ یہ کفر پر بد عہدی کا اضافہ تھا۔ یہ انکار کے ساتھ کمینگی کو جمع کرنا تھا۔ ایسے لوگوں کے لئے آخرت میں ہولناک عذاب ہے اور دنیا میں یہ حکم ہے کہ ان کے خلاف سخت کارروائی کی جائے تاکہ ان کی شرارتوں کا خاتمہ ہو اور ان کے ارادے پست ہو جائیں۔ اگر کسی قوم سے مسلمانوں کا عہد ہو اور مسلمان ان کی طرف سے بد عہدی کے اندیشہ کی بنا پر اس عہد کو توڑنا چاہیں تو ضروری ہے کہ وہ پہلے انھیں اس کی اطلاع دیں تاکہ دونوں پیشگی طور پر یہ جان لیں کہ اب دونوں کے درمیان عہد کی حالت باقی نہیں رہی۔ امیر معاویہ اور رومی حکراں میں ایک بار میعادی معاہدہ تھا۔ مدت قریب آئی تو امیر معاویہ نے اپنی فوجوں کو خاموشی کے ساتھ روم کی سرحد پر جمع کر تا شد روع کیا تا کہ معاہدہ کی تاریخ ختم ہوتے ہی اگلی صبح کو اچانک رومی علاقہ پر حملہ کر دیا جائے ۔ اس وقت ایک صحابی حضرت عمرو بن عنبسہ گھوڑے پر سوار ہو کر آئے ۔ وہ با آواز بلند کہہ رہے تھے الله اكبر الله اكبر وفاء لا غدر (اللہ اکبر، عہد پورا کرو، عہد کو نہ توڑو) انھوں نے لوگوں کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ حدیث سنائی: من کان بینه وبين قوم عهد فلا يحلن عقدة ولا يشد ها حتى ينقضي آمد ها او ينبذ اليهم على سواء (جس کا کسی قوم سے معاہدہ ہو تو کوئی گرہ نہ کھولی جائے اور نہ باندھی جائے یہاں تک کہ معاہدہ کی مدت پوری ہو جائے یا برابری کے ساتھ عہد اس کی طرف پھینک دیا جائے (تفسیر ابن کثیر) دوسری صورت وہ ہے جب کہ صرف اندیشہ کی بات نہ ہو بلکہ فریق ثانی کی طرف سے عملاً معاہدہ کی واضح خلاف ورزی ہو چکی ہو۔ ایسی صورت میں اجازت ہے کہ فریق ثانی کو مطلع کئے بغیر جوابی کارروائی کی جائے ۔ غزوہ مکہ اسی کی مثال ہے۔ قریش نے آپ کے حلیف (بنو خزاعہ) کے خلاف بنو بکر کی جارحانہ کارروائی میں شریک ہو کر معاہدہ حدیبیہ کی یک طرفہ خلاف ورزی کی تو آپ نے قریش کو پیشگی اطلاع دئے بغیر ان کے خلاف خاموش کارروائی فرمائی۔
اور انکار کرنے والے یہ نہ سمجھیں کہ وہ نکل بھاگیں گے، وہ ہرگز اللہ کو عاجز نہیں کر سکتے۔ اور ان کے لیے جس قدر تم سے ہو سکے تیار رکھو قوت اور پلے ہوئے گھوڑے کہ اس سے تمھاری ہیبت رہے اللہ کے دشمنوں پر اور تمھارے دشمنوں پر اور ان کے علاوہ دوسروں پر بھی جن کو تم نہیں جانتے۔ اللہ ان کو جانتا ہے۔ اور جو کچھ تم اللہ کی راہ میں خرچ کرو گے وہ تمھیں پورا کر دیا جائے گا اور تمھارے ساتھ کوئی کمی نہ کی جائے گی۔ وہ صلح کی طرف جھکیں تو تم بھی اس کے لیے جھک جاؤ اور اللہ پر بھروسہ رکھو۔ بے شک وہ سننے والا جاننے والا اور اگر وہ تم کو دھوکا دینا چاہیں گے تو اللہ تمھارے لیے کافی ہے۔ وہی ہے جس نے اپنی نصرت اور مومنین کے ذریعہ تم کو قوت دی۔ اور ان کے دلوں میں اتفاق پیدا کر دیا۔ اگر تم زمین میں جو کچھ ہے سب خرچ کر ڈالتے تب بھی ان کے دلوں میں اتفاق پیدا نہ کر سکتے۔ لیکن اللہ نے ان میں اتفاق پیدا کر دیا، بے شک وہ زور آور ہے حکمت والا ہے ۶۳ - ۵۹ اسلام کا اعتماد استعمال قوت سے زیادہ مظاہرہ قوت پر ہے۔ اسی لئے اہل اسلام کو قوت مہیا کرنے کرنے کا حکم دیا گیا، یعنی وہ چیزیں جو حریف کو اس قدر مرعوب کریں کہ وہ اقدام کا حوصلہ کھو دے۔ وقت کے معیار کے مطابق اپنے کو طاقت ور بناتا ہے، مگر لازماً لڑنے کے لئے نہیں۔ بلکہ اس لئے تاکہ اس کے دشمنوں پر اس کی دھاک قائم رہے اور وہ اس کے خلاف جارحانہ کارروائی کی ہمت نہ کریں۔ وقت کے معیار کے مطابق فکری اور عملی اعتبار سے طاقت ور بنانے میں جو لوگ اپنی کمائی خرچ کریں گے وہ کئی گنا زیادہ مقدار میں اس کا بدلہ اپنے رب کے یہاں پائیں گے۔
اسلام کی فتح کاراز اصلاً جنگی مقابلوں میں نہیں بلکہ اس کے اصولوں کی تبلیغ میں ہے۔ حکم ہوا کہ جب بھی فریق ثانی صلح کی پیش کش کرے تو ہر اندیشہ کو نظر انداز کرتے ہوئے اس کو قبول کر لو ۔ کیونکہ اندیشہ بہرحال یقینی نہیں اور جنگ بندی کا یہ فائدہ یقینی ہے کہ پر امن فضا میں اسلام کا دعوتی عمل شروع ہو جائے اور اس طرح جنگ کا رکنا اسلام کی نظریاتی توسیع کا سبب بن جائے۔
اسلام خود اپنی ذات میں سب سے بڑی طاقت ہے۔ خدا اور آخرت کا عقیدہ اگر پوری طرح کسی گروہ کے افراد میں پیدا ہو جائے تو ان کے اندر سے وہ تمام نفسیاتی خرابیاں نکل جاتی ہیں جو نا اتفاقی اور باہمی ٹکراؤ کا باعث ہوتی ہیں۔ اس کے بعد لازماً ایسا ہوتا ہے کہ وہ سب کے سب باہم جڑ کر ایک ہو جاتے ہیں۔ اور یہ ایک حقیقت ہے کہ اتحاد سب سے بڑی طاقت ہے۔ متحد گروہ اگر تعداد میں کم ہو تب بھی وہ اپنے سے زیادہ تعداد رکھنے والے گروہ پر غالب آ جائے گا۔
باہمی اتفاق سب سے زیادہ مشکل چیز ہے کسی گروہ کے نصرت یافتہ ہونے کی ایک پہچان یہ ہے کہ اس کے . افراد باہم متحد رہیں، کوئی بھی چیز ان کے اتحاد کو توڑنے والی ثابت نہ ہو۔
تمہارے لیے اللہ کافی ہے اور وہ مومنین جنہوں نے تمہارا ساتھ دیا ہے۔ اے نبی مومنین کو لڑائی اگر تم میں بیس آدمی ثابت قدم ہوں گے تو دوسو پر غالب آئیں گے اور اگر تم میں سو ہوں گے تو منکروں پر غالب آئیں گے ، اس واسطے کہ وہ لوگ سمجھ نہیں رکھتے۔ اب اللہ نے تم پر سے بوجھ ہلکا کر دیا اور اس نے جان لیا کہ تم میں کچھ کمزوری ہے۔ پس اگر تم میں سو ثابت قدم ہوں گے تو دو سو پر غالب آئیں گے اور اگر ہزار ہزار ہوں گے تو اللہ کے حکم سے دو ہزار پر غالب آئیں گے ، اور اللہ ثابت قدم رہنے والوں کے ساتھ ہے ۶۵-۶۶ اہل ایمان کی کم تعداد غیر اہل ایمان کی زیادہ تعداد پر غالب آنے کی وجہ یہ بتائی کہ اہل ایمان کے اندر فقہ ہوتی ہے جب کہ غیر اہل ایمان فقہ سے محروم ہیں۔ فقہ کے لفظی معنی سمجھ کے ہیں۔ اس سے مراد وہ بصیرت اور شعور ہے جو ایمان کے نتیجہ میں ایک شخص کو حاصل ہوتا ہے۔ خدا پر ایمان کسی آدمی کے لئے وہی معنی رکھتا ہے جو اندھیرے کمرے میں بجلی کا بلب جل جانا۔ بلب پورے کمرے کو اس طرح روشن کر دیتا ہے کہ اس کی ہر چیز واضح طور پر دکھائی دینے لگے۔ اسی طرح ایمان آدمی کو ایک ربانی شعور عطا کرتا ہے جس کے بعد وہ تمام حقیقتوں کو ان کی اصلی صورت میں دیکھنے لگتا ہے۔
ایمان کے نتیجہ میں یہ ہوتا ہے کہ آدمی زندگی اور موت کی حقیقت کو سمجھ لیتا ہے۔ وہ جان لیتا ہے کہ اصل چیز حیات دنیا نہیں بلکہ حیات آخرت ہے۔ یہ چیز اس کو بے پناہ حد تک نڈر بنا دیتی ہے۔ وہ موت کو اس نظر سے دیکھنے لگتا ہے کہ وہ اس کے لئے جنت میں داخلہ کا دروازہ ہے۔ مومن شہادت کو جنت کا مختصر راستہ سمجھتا ہے۔ اللہ کی راہ میں جان دینا اس کے لئے مطلوب چیز بن جاتا ہے، جب کہ غیر مومن کی جنت یہی موجودہ دنیا ہے۔ وہ زندہ رہنا چاہتا ہے تاکہ اپنی جنت کا لطف اٹھا سکے۔ غیر مومن قومی شعور کے تحت لڑتا ہے اور مومن جنتی شعور کے تحت، اور قومی شعور والا کبھی اتنی بے جگری کے ساتھ نہیں لڑ سکتا۔ مومن خدا سے ڈرنے والا ہوتا ہے ، وہ آخرت کی فکر کرنے والا ہوتا ہے ، یہ مزاج اس کو ہر قسم کے منفی جذبات سے پاک کرتا ہے۔ وہ ضد، نفرت، تعصب، انتقام اور گھمنڈ جیسی چیزوں سے اوپر اٹھ جاتا ہے۔ طرف غیر مومن کا معاملہ سراسر اس کے برعکس ہوتا ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ غیر مومن کے اقدامات منفی نفسیات کے تحت ہوتے ہیں اور مومن کے اقدامات ایجابی نفسیات کے تحت۔ غیر مومن جذباتی انداز سے عمل کرتا ہے اور مومن حقیقت پسندانہ انداز سے۔ غیر مومن انسانوں کا دشمن ہوتا ہے اور مومن صرف انسانوں کی برائی کا۔ تنگ ظرفی کے ساتھ معاملہ کرتا ہے اور مومن وسعت ظرف کے ساتھ۔
ہزار کے مقابلہ میں سو اور دو ہزار کے مقابلہ میں ایک ہزار کے الفاظ بتاتے ہیں کہ قتال کا حکم جماعت اور فوج کے لئے ہے۔ ایسا کرنا صحیح نہ ہوگا کہ ایک دو آدمی ہوں تب بھی وہ لڑنے کے لئے کھڑے ہو جائیں۔
کسی نبی کے لئے لائق نہیں کہ اس کے پاس قیدی ہوں جب تک وہ زمین میں اچھی طرح خوں ریزی نہ کرلے۔ تم دنیا کے اسباب چاہتے ہو اور اللہ آخرت کو چاہتا ہے۔ اور اللہ زبر دست ہے، حکمت والا ہے۔ اللہ کا ایک لکھا ہوا پہلے سے موجود نہ ہوتا تو جو طریقہ تم نے اختیار کیا اس کے باعث تم کو سخت عذاب پہنچ جاتا۔ پس جو مال تم نے لیا ہے اس کو کھاؤ، تمھارے لئے حلال اور پاک ہے اور اللہ سے ڈرو، بے شک اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔
بدر کی لڑائی میں مسلمانوں نے ستر بڑے بڑے کافروں کو قتل کیا۔ اس کے بعد جب ان کے پاؤں اکھڑنے لگے تو ان کے ستر آدمیوں کو گرفتار کر لیا۔ ان گرفتار ہونے والوں میں اکثر سردار تھے۔ جنگ کے بعد مشورہ ہوا کہ ان قیدیوں کے ساتھ کیا کیا جائے۔ صحابہ کی اکثریت نے یہ رائے دی کہ ان کو فدیہ لے کر چھوڑ دیا اس وقت اسلام دشمنوں نے مسلسل حالت جنگ برپا کر رکھی تھی۔ مگر مسلمانوں کے پاس مال نہ ہونے کی وجہ سے سامانِ جنگ کی بہت کمی تھی۔ یہ خیال کیا گیا کہ فدیہ سے جو رقم ملے گی اس سے سامانِ جنگ خریدا جا سکتا ہے۔ حضرت عمر بن خطاب اور حضرت سعد بن معاذ اس رائے کے خلاف تھے۔ حضرت عمر نے کہا: اے خدا کے رسول یہ قیدی کفر کے امام اور مشرکین کے سردار ہیں۔ یعنی اس وقت دشمنوں کی اصل طاقت ہماری مٹھی میں آگئی ہے ، ان کو قتل کر کے اس مسئلہ کا ہمیشہ کے لئے خاتمہ کر دیا جائے۔ تا ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلی رائے پر عمل فرمایا۔
بعد کو جب وہ آیتیں اتریں جن میں جنگ پر تبصرہ تھا تو اللہ تعالی نے فدیہ کی رقم کو جائز ٹھہراتے ہوئے اس روش پر اپنی ناراضگی کا اظہار فرمایا۔ جنگی قیدیوں کو فدیہ لے کر چھوڑنا اگر چہ بظاہر رحمت و شفقت کا معاملہ تھا۔ مگر وہ اللہ کے دور رس منصوبہ کے مطابق نہ تھا۔ اللہ کا اصل منصوبہ کفر و شرک کی جڑ اکھاڑنا تھا۔ اس مقصد کے لئے اللہ تعالی نے قریش کے تمام لیڈروں کو (ابولہب اور ابو سفیان کو چھوڑ کر) بدر کے میدان میں جمع کر دیا اور ایسے حالات پیدا کئے کہ وہ پوری طرح مسلمانوں کے قابو میں آگئے۔ اگر ان لیڈروں کو اس وقت ختم کر دیا جاتا تو کفر و شرک کی مزاحمت بدر کے میدان ہی میں پوری طرح دفن ہو جاتی۔ مگر لیڈروں کو چھوڑنے کا نتیجہ یہ ہوا کہ وہ منظم ہو کر دوبارہ اپنی مزاحمت کی تحریک جاری رکھنے کے قابل ہو گئے۔ یہ فیصلہ جنگی مصلحت کے خلاف تھا۔ وہ مسلمانوں کے لئے عذاب عظیم (سخت مصیبتوں) کا باعث بن جاتا۔ یہ لیڈر اپنے عوام کو ساتھ لے کر اسلام کے سارے معاملہ کو تہس نہس کر دیتے مگر اللہ نے آخری رسول اور آپ کے اصحاب کے لئے پہلے سے مقدر کر دیا تھا کہ وہ لازما غالب رہیں گے، ان کو زیر کرنے میں کوئی کامیاب نہ ہو سکے گا۔ یہی وجہ ہے کہ جنگی تدبیر میں اس کوتاہی کے با وجود قریش اہل ایمان کے اوپر غالب نہ آ سکے۔ اور بالآخر وہی ہوا جس کا ہونا پہلے سے خدا کے یہاں لکھا جا چکا تھا، یعنی مسلمانوں کی فتح اور اسلام کا غلبہ۔
اے نبی تمبارے ہاتھ میں جو قید ہیں ان سے کہہ دو کہ اگر اللہ تمہارے دلوں میں کوئی بھلائی پائے گا تو جو کچھ تم سے لیا گیا ہے اس سے بہتر وہ تمہیں دیدے گا اور تم کو بخش دے گا اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔ اگر یہ تم سے بدعہدی کریں گے تو اس سے پہلے انھوں نے خدا سے بدعہدی کی تو خدا نے تم کو ان پر قابو دے دیا اور اللہ علم والا حکمت والا ہے۔ ۷۱ - ۷۰ بدر کے قیدیوں کو فدیہ لے کر چھوڑنا مسلمانوں کے لئے ایک جنگی غلطی تھی۔ مگر خود قیدیوں کے حق میں یہ ایک نئی زندگی فراہم کرنے کے ہم معنی تھا۔ اس کا مطلب یہ تھا کہ وہ لوگ جو اپنی مخالفت حق کے نتیجہ میں ہلاکت کے مستحق ہوچکے تھے ان کو ایک ہار اور موقع مل گیا کہ وہ اسلام کی دعوت اور اس کے مقابلہ میں اپنی بے جاروش پر دوبارہ غور کر سکیں۔ اس مہلت نے ان کے لئے اپنی اصلاح کا نیا دروازہ کھول دیا۔ اب ایک صورت یہ تھی کہ ان قیدیوں کے دل میں شکست کی بنا پر انتقام کی آگ بھڑکے۔ فدیہ دینے کی وجہ سے ان کو جو ذلت اور نقصان ہوا ہے اس کا بدلہ لینے کے لئے وہ بے چین ہو جائیں۔ ایسی صورت میں وہ پھر اسی غلطی کو دہرائیں گے جس کے نتیجہ میں وہ خدا کی پکڑ کے مستحق بن گئے تھے۔ وہ اپنی قوتوں کو اسلام کی مخالفت میں صرف کریں گے جس کا انجام دنیا میں ہلاکت ہے اور آخرت میں عذاب۔
دوسری صورت یہ تھی کہ وہ بدر کے میدان میں پیش آنے والے غیر معمولی واقعہ پر غور کریں کہ مسلمانوں کو کم تر اسباب کے باوجود اتنی کھلی ہوئی فتح کیوں نصیب ہوئی۔ اس کا صاف مطلب یہ ہے کہ خدا مسلمانوں کے دین کے ساتھ ہے نہ کہ قریش کے دین کے ساتھ۔ یہ دوسرا ذہن اگر پیدا ہو جائے تو وہ ان کو آمادہ کرے گا کہ وہ اپنی سابقہ روش کو بدلیں اور جس دین کو پہلے اختیار نہ کر سکے اس کو اب سے اختیار کر لیں۔ اور اس طرح دنیا و آخرت میں خدا کے انعام کے مستحق بنیں۔
تاریخ بتاتی ہے کہ قریش کے لوگوں میں ایک تعداد ایسی نکلی جن کے دل میں مذکورہ سوال جاگ اٹھا اور جلد یا بدیر وہ اسلام میں داخل ہو گئے۔ حضرت عباس بن عبدالمطلب نے زمانہ قیدی ہی میں اسلام قبول کر لیا۔ دوسرے لوگ بعد کو اسلام کے حلقہ میں آگئے۔ یہ لوگ اگرچہ گروہی تعصب کی نظریں ذلیل ہوئے مگر انھوں نے خدا کی نظر میں عزت حاصل کرلی۔ دنیا کا نقصان اٹھا کر وہ آخرت کے فائدے کے مالک بن گئے ۔ قیدیوں کو چھوڑنے کی وجہ سے مسلمانوں کو یہ اندیشہ تھا کہ وہ اس کو احسان سمجھ کر اس کا اعتراف نہیں کریں گے بلکہ پہلے کی طرح دوبارہ سازش اور تخریب کاری کا راستہ اختیار کر کے اسلام کی راہ میں رکاوٹ بن جائیں گے۔ مگر قرآن نے اس اندیشہ کو اہمیت نہ دی۔ کیونکہ خالص حق کے لئے جو تحریک اٹھتی ہے وہ عام طرز کی انسانی تحریک نہیں ہوتی۔ وہ ایک خدائی معاملہ ہوتا ہے۔ اس کی پشت پر خود خدا ہوتا ہے اور خدا سے لڑنا کسی کے بس کی بات نہیں۔
جو لوگ ایمان لائے اور جنہوں نے ہجرت کی اور اللہ کی راہ میں اپنے جان و مال سے جہاد کیا، اور وہ لوگ جنہوں نے پناہ دی اور مدد کی، وہ لوگ ایک دوسرے کے رفیق ہیں اور جو لوگ ایمان لائے مگر انہوں نے ہجرت نہیں کی، توان سے تمہارا رفاقت کا کوئی تعلق نہیں، جب تک کہ وہ ہجرت کر کے نہ آجائیں۔ اور وہ تم سے دین کے معاملہ میں مدد مانگیں تو تم پر ان کی مدد کرنا واجب ہے، الا یہ کہ مدد کسی ایسی قوم کے خلاف ہو جس کے ساتھ تمہارا معاہدہ ہے ۔ اور جو کچھ تم کرتے ہو اللہ اس کو دیکھ رہا ہے۔ اور جو لوگ منکر ہیں، وہ ایک دوسرے کے اگر تم ایسا نہ کرو گے تو زمین میں فتنہ پھیلے گا اور بڑا فساد ہو گا۔ عام طور پر جب ایک آدمی دوسرے کی مدد کرتا ہے تو اس کی وجہ یہ ہوتی ہے کہ وہ آدمی اس کے اپنے خاندان کا ہے، اس سے گروہی اور جماعتی تعلق ہے۔ مگر ہجرت کے بعد مدینہ میں جو اسلامی معاشرہ قائم ہوا، وہ ایسا معاشرہ تھا جس میں گھر والوں نے اپنے گھر ایسے لوگوں کو دے دیں جن سے تعلق کی بنیاد صرف دین تھی۔ اپنے وطن کو چھوڑ کر مدینہ آئے، وہ بھی اللہ کے لئے اور آخرت طلبی کے لئے آئے، اور جنہوں نے ان اجنبی لوگوں کو اپنے مال اور اپنی جائداد میں شریک کیا، وہ بھی صرف اس لئے تاکہ ان کا خدا ان سے خوش ہو اور آخرت میں انھیں جنتوں میں داخل کرے۔
یہ ایک ایسا سماج تھا جس میں اہم چیز خاندان اور نسب نہیں بلکہ ایمان واسلام تھا۔ وہ ایک دوسرے کی مدد کرتے تھے، مگر دنیوی فائدے کے لئے نہیں، بلکہ آخرت کے فائدے کے لئے۔ وہ ایک دوسرے کو دیتے تھے، مگر پانے والے سے کسی بدلہ کی امید میں نہیں، بلکہ اللہ سے انعام کی امید میں۔ وہی معاشرہ حقیقۃً اسلامی معاشرہ ہے جہاں تعلقات خاندانی رشتوں اور گروہی عصبیتوں پر قائم نہ ہوں، بلکہ حق کی بنیاد پر قائم ہوں۔ جہاں لوگ ایک دوسرے کے حامی و ناصر اس بنیاد پر ہوں کہ وہ ان کے دینی بھائی ہیں، نہ کہ اس بنیاد پر کہ دنیوی مصلحتوں میں سے کوئی مصلحت ان کے ساتھ وابستہ ہے۔
ایک مسلمان جب دوسرے مسلمان سے حق کے معاملہ میں مدد طلب کرے تو اس وقت اس کی مدد کرنا بالکل لازم اگر مسلمانوں میں باہمی مدد کی یہ روح باقی نہ رہے تو یہ ہوگا کہ شریر لوگ کمزور مسلمانوں پر دلیر ہو جائیں گے اور ان کی زندگی اور ان کے ایمان کا محفوظ رہنا سخت مشکل ہو جائے گا۔ حق کے مخالفین اپنے ساتھیوں کی مدد کے لئے انتہائی متعصب ہوتے ہیں، پھر حق کے ماننے والے اپنے ساتھیوں کی مدد میں کیوں نہ سرگرم ہوں ۔ استثنا صرف اس وقت ہے جب کہ معاملہ بین الاقوامی ہو اور مسلمانوں کی مدد کرنا بین الاقوامی پیچیدگیاں پیدا کرنے کے ہم معنی سمجھا جائے۔
"ہجرت" جنت میں داخلہ کا دروازہ ہے۔ ایک بندہ جب خدا کے ناپسندیدہ مقام سے نکل کر خدا کے پسندیدہ مقام کی طرف جاتا ہے تو دراصل وہ غیر جنت کو چھوڑ کر جنت میں داخل ہوتا ہے۔
اور جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے ہجرت کی اور اللہ کی راہ میں جہاد کیا اور جن لوگوں نے پناہ دی اور مدد کی، یہی لوگ سچے مومن ہیں۔ ان کے لئے بخشش ہے اور بہترین رزق ہے۔ اور جو لوگ بعد میں ایمان لائے اور ہجرت کی اور تمھارے ساتھ مل کر جہاد کیا وہ بھی تم میں سے ہیں۔ اور خون کے رشتہ دار ایک دوسرے کے زیادہ حق دار ہیں اللہ کے نوشتہ میں۔ بے شک اللہ ہر چیز کا جاننے والا ہے ٧٥۔ خدا پر ایمان لانا خدا کے لئے زندگی گزارنے کا فیصلہ کرنا ہے۔ ایسے لوگ اکثر ان لوگوں کے درمیان اجنبی بن جاتے ہیں جو خدا کے سوا کسی اور چیز کی خاطر زندگی گزار رہے ہوں۔ یہ اجنبیت کبھی اتنی بڑھتی ہے کہ ہجرت کی نوبت آجاتی ہے۔ ماحول کی مخالفت کے نتیجہ میں پوری زندگی جدوجہد اور جاں فشانی کی زندگی بن کر رہ جاتی ہے۔ یہی لوگ ہیں جو خدا کے نزدیک سچے مومن ہیں۔ اس کے بعد سچا ایمان ان لوگوں کا ہے جو اسلام کی خاطر برباد ہو جانے والے اس قافلہ کے پشت پناہ بنیں وہ ان کو جگہ دیں اور ان کی ہر ممکن مدد کے لئے کھڑے ہو جائیں۔ جن کی زندگیاں کہیں لٹی ہیں وہ اپنا اثاثہ ان لوگوں کے حوالے کر دیں جن کی زندگیاں اسلام کی راہ میں لٹ گئی ہیں۔ اس سے معلوم ہوا کہ حقیقی مسلم بننے کے لئے آدمی کو دو میں سے کم از کم ایک چیز کا ثبوت دینا ہے۔ آدمی یا تو اپنے آپ کو اسلام کے ساتھ اس طرح وابستہ کر کے کہ اگر اس کو اپنی بنی بنائی دنیا اجاڑ دینی پڑے تو اس سے بھی دریغ نہ کرے، آرام کی زندگی کو بے آرامی کی زندگی بنا دینا پڑے تو اس کو بھی گوارا کر لے۔ پھر یہ کہ اسلام کی خاطر جب کچھ لوگ اپنا اثاثہ لٹا دیں تو وہ لوگ جو ابھی لٹنے سے محفوظ ہیں وہ پہلے فریق کی مدد کے لئے اپنا بازو کھول دیں، حتیٰ کہ ضرورت ہو تو اپنی کمائی اور اپنی جائداد میں بھی ان کو شریک کر لیں۔ سچا ایمان کسی کو یا تو "مہاجر" بننے کی سطح پر ملتا ہے یا " انصار" بننے کی سطح پر۔
یہی دو قسم کے لوگ ہیں جن کے لئے خدا کے یہاں مغفرت اور رزق کریم ہے۔ آخرت میں آنے والی جنت انتہائی ستھری اور نفیس دنیا ہے۔ وہ ایک کامل دنیا ہے اور کامل دنیا میں بسائے جانے کے لائق وہی لوگ ہو سکتے ہیں جو خود بھی کامل ہوں۔ کوئی انسان اپنی بشری کمزوریوں کی بنا پر ایسی قابلیت کا ثبوت نہیں دے سکتا۔ تاہم اللہ کا یہ وعدہ ہے کہ جو شخص مذکورہ دونوں کسوٹی میں سے کسی ایک کسوٹی پر پورا اترے گا خدا اپنی قدرت سے اس کی کمیوں کی تلافی کرے اس کو جنت میں داخل کر دے گا۔
دین کی بنیاد پر بھائی بننے والوں کی مدد اور حمایت بے حد اہم ہے تاہم وہ رحمی رشتوں کے حقوق اور ان کے درمیان وراثتوں کی تقسیم پر اثر انداز نہ ہوگی۔ اپنی خواہش کے تحت کوئی شخص اپنے اہل خاندان کے لئے جن چیزوں کو ضروری سمجھے ان کی کوئی اہمیت اللہ کے نزدیک نہیں ہے۔ تاہم اللہ نے خود اپنی کتاب میں اہل خاندان کے لئے حقوق اور دراشت کا جو قانون مقرر کر دیا ہے وہ ہر حال میں قائم رہے گا۔ اور کوئی دوسری چیز اس کی ادائیگی کے لئے عذر نہیں بن سکتی۔
آیا تہا ۱۲۹ سورۃ التوبہ مدنیۃ اعلان براءت ہے اللہ اور اس کے رسول کی طرف سے ان مشرکوں کو جن سے تم نے معاہدے کئے تھے۔ لوگ ملک میں چار مہینے چل پھرو اور جان لو کہ تم اللہ کو عاجز نہیں کر سکتے اور یہ کہ اللہ منکروں کو رسوا کرنے والا اعلان ہے اللہ اور رسول کی طرف سے بڑے حج کے دن لوگوں کے لئے کہ اللہ اور اس کا رسول مشرکوں سے بری الذمہ ہیں۔ اب اگر تم لوگ توبہ کرو تو تمھارے حق میں بہتر ہے۔ اور اگر تم منہ پھیرو گے تو جان لو کہ تم اللہ کو عاجز کرنے والے نہیں ہو۔ اور انکار کرنے والوں کو سخت عذاب کی خوش خبری دے دو۔ مگر جن مشرکین سے تم نے معاہدہ کیا تھا پھر انھوں نے تمھارے ساتھ کوئی کمی نہیں کی اور نہ تمھارے خلاف کسی کی مدد کی تو ان کا معاہدہ ان کی مدت تک پورا کر دو۔ بے شک اللہ پر ہیزگاروں کو پسند کرتا ہے ۴ - ۱ موجودہ دنیا میں انسان کو رہنے بسنے کا جو موقع دیا گیا ہے وہ کسی حق کی بنا پر نہیں ہے بلکہ محض آزمائش کے خدا جب تک چاہتا ہے کسی کو اس زمین پر رکھتا ہے اور جب اس کے علم کے مطابق اس کی مدت امتحان پوری ہو جاتی ہے تو اس پر موت دار کر کے اس کو یہاں سے اٹھا لیا جاتا ہے۔
یہی معاملہ پیغمبر کے مخاطبین کے ساتھ دوسری صورت میں کیا جاتا ہے۔ پیغمبر جن لوگوں کے درمیان آتا ہے ان پر وہ آخری حد تک حق کی گواہی دیتا ہے۔ پیغمبر کے دعوتی کام کی تکمیل کے بعد جو لوگ ایمان نہ لائیں وہ خدا کی زمین پر زندہ رہنے کا حق کھو دیتے ہیں۔ وہ آزمائش کی غرض سے یہاں رکھے گئے تھے۔ اتمام حجت نے آزمائش کی تکمیل کر دی۔ پھر اس کے بعد زندگی کا حق کس لئے۔ یہی وجہ ہے کہ پیغمبروں کے کام کی تکمیل کے بعد ان کے اوپر کوئی نہ کوئی ہلاکت خیز آفت آتی ہے اور ان کا استیصال کر دیا جاتا ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مخاطبین کے ساتھ بھی یہی معاملہ ہوا۔ مگر ان پر کوئی آسمانی آفت نہیں ان کے اوپر خدا کی مذکورہ سنت کا نفاذ اسباب کے نقشہ میں کیا گیا۔ اولاً قرآن کے برتر اسلوب اور پیغمبر کے اعلیٰ کردار کے ذریعہ ان کو دعوت پہنچائی گئی۔ پھر اہل توحید کو مکہ کے اہل شرک پر غالب کر کے ان کے اوپر اتمام حجت کر دیا گیا۔ جب یہ سب کچھ ہو چکا اور اس کے باوجود وہ انکار کی روش پر قائم رہے تو ان کو مسلسل خیانت اور عہد شکنی کا مجرم قرار دے کر ان کو الٹی میٹم دیا گیا کہ چار ماہ کے اندر اپنی اصلاح کر لو، ورنہ مسلمانوں کی تلوار سے تمھارا خاتمہ کر دیا جائے گا۔
پھر یہ سارا معاملہ تقویٰ کے اصول پر کیا گیا نہ کہ قومی سیاست کے اصول پر۔ ______مشرکین کو دلائل کے میدان میں لاجواب کر دیا گیا، ان کو پیشگی انتباہ کے ذریعہ کئی مہینے تک سوچنے کا موقع دیا گیا ۔ آخر وقت تک ان کے لئے دروازہ کھلا رکھا گیا کہ جولوگ توبہ کر لیں وہ خدا کے انعام یافتہ بندوں میں شامل ہو جائیں ۔ جن بعض قبائل نے معاہدہ نہیں توڑا تھا ان کے معاملے کو معاہدہ توڑنے والوں سے الگ رکھا گیا، وغیرہ۔
پھر جب حرمت والے مہینے گزر جائیں تو مشرکین کو قتل کرو جہاں پاؤ اور ان کو پکڑو اور ان کو گھیر و اور بیٹھو ہر جگہ ان کی گھات میں۔ پھر اگر وہ توبہ کرلیں اور نماز قائم کریں اور زکوٰۃ ادا کریں تو انہیں چھوڑ دو۔ اللہ بخشنے والا اور اگر مشرکین میں سے کوئی شخص تم سے پناہ مانگے تو اس کو پناہ دے دو تاکہ وہ اللہ کا کلام سنے پھر اس کو اس کے امان کی جگہ پہنچا دو۔ یہ اس لیے کہ وہ لوگ علم نہیں رکھتے ۴-۵ مہلت کے چار مہینے گزرنے کے بعد یہاں جس جنگ کا حکم دیا گیا وہ کوئی عام جنگ نہ تھی یہ خدا کے قانون کے مطابق وہ عذاب تھا جو پیغمبر کے انکار کے نتیجہ میں ان پر ظاہر کیا گیا۔ انھوں نے اتمام حجت کے باوجود خدا کے پیغمبر کا انکار کرکے اپنے کو اس کا مستحق بنا لیا تھا کہ ان کے لئے تلوار یا اسلام کے سوا کوئی اور صورت باقی نہ رکھی جائے ۔ یہ خدا کا ایک خصوصی قانون ہے جس کا تعلق پیغمبر کے مخاطبین سے ہے نہ کہ عام لوگوں سے۔ تاہم اتمام حجت کے بعد بھی اس حکم کا نفاذ اچانک نہیں کیا گیا بلکہ آخری مرحلہ میں پھر انہیں چار ماہ کی مہلت دی گئی۔ انتقام معاف کرنا نہیں جانتا۔ انتقامی جذبہ کے تحت جو کارروائی کی جائے اس کو صرف اس وقت تسکین ملتی ہے جب کہ وہ اپنے حریف کو ذلیل اور برباد ہوتے ہوئے دیکھ لے۔ مگر عرب کے مشرکین کے خلاف جو کارروائی کی گئی اس کا تعلق کسی قسم کے انتقام سے نہیں تھا بلکہ وہ سراسر حقیقت پسندانہ اصول پر مبنی تھا۔ وجہ ہے کہ اتنے شدید حکم کے باوجود ان کے لئے یہ گنجائش ہر وقت باقی تھی کہ وہ دین اسلام کو اختیار کرکے اپنے کو اس سزا سے بچالیں اور اسلامی برادری میں عزت کی زندگی حاصل کر لیں۔ کسی کی توبہ کے قابل قبول ہونے کے لئے صرف دو عملی شرط کا پایا جانا کافی ہے۔ نماز اور زکوٰۃ۔
جنگ کے دوران میں دشمن کا کوئی فرد یہ کہے کہ میں اسلام کو سمجھنا چاہتا ہوں تو مسلمانوں کو حکم ہے کہ اس کو امان دے کر اپنے ماحول میں آنے کا موقع دیں اور اسلام کے پیغام کو اس کے دل میں اتارنے کی کوشش پھر بھی اگر وہ قبول نہ کرے تو اپنی حفاظت میں اس کو اس کے ٹھکانے تک پہنچادیں۔ عام حکم کے تحت اگرچہ وہ گردن زدنی ہے مگر ایسا نہیں کیا جا سکتا کہ اس نے دین کی بات نہیں مانی ہے تو اس کو قتل کر دیا جائے۔ جب کوئی شخص امان میں ہو تو امان کے دوران اس پر ہاتھ اٹھانا جائز نہیں۔
جنگ کے زمانہ میں دشمن کو اس قسم کی رعایت دینا انتہائی نازک ہے۔ کیونکہ عین ممکن ہے کہ دشمن کا کوئی جاسوس اس رعایت سے فائدہ اٹھا کر مسلمانوں کے اندر گھس آئے اور ان کے فوجی راز معلوم کرنے کی کوشش مگر اسلام کی نظر میں دعوت و تبلیغ کا مسئلہ اتنا زیادہ اہم ہے کہ اس نازک خطرہ کے باوجود اس کا دروازہ بند نہیں کیا گیا۔
ایک شخص اگر بے خبری اور لا علمی کی بنا پر ظلم کرے تو اس کا ظلم خواہ کتنا ہی زیادہ ہو مگر اس کے ساتھ ہر ممکن رعایت کی جائے گی تا وقتیکہ اس کی لاعلمی اور بے خبری ختم ہو جائے۔
ان مشرکوں لئے اللہ اور اس کے رسول کے ذمہ کوئی عہد کیسے رہ سکتا ہے، مگر جن لوگوں سے تم نے عہد کیا تھا مسجد حرام کے پاس، پس جب تک وہ تم سے سیدھے رہیں تم بھی ان سے سیدھے رہو، بے شک اللہ پرہیزگاروں کو پسند کرتا ہے۔ کیسے عہد رہے گا جب کہ یہ حال ہے کہ اگر وہ تمھارے اوپر قابو پائیں تو تمھارے بارے میں نہ قرابت کا لحاظ کریں اور نہ عہد کا۔ وہ تم کو اپنے منہ کی بات سے راضی کرنا چاہتے ہیں مگر ان کے دل انکار کرتے اور ان میں اکثر بد عہد ہیں۔ انھوں نے اللہ کی آیتوں کو تھوڑی قیمت پر بیچ دیا، پھر انھوں نے اللہ کے راستہ سے روکا۔ بہت برا ہے جو وہ کر رہے ہیں۔ کسی مومن کے معاملہ میں وہ نہ قرابت کا لحاظ کرتے ہیں اور نہ عہد کا، یہی لوگ ہیں زیادتی کرنے والے۔ پس اگر وہ توبہ کریں اور نماز قائم کریں اور زکوٰۃ ادا کریں تو وہ تمھارے دینی بھائی ہیں۔ اور ہم کھول کر بیان کرتے ہیں آیات کو جاننے والوں کے لئے۔
مسلمانوں کو جب زور حاصل ہو گیا تو قریش نے ان سے معاہدہ کے کر لئے۔ تاہم وہ ان معاہدوں سے خوش نہ تھے۔ وہ سمجھتے تھے کہ اپنے ’’دشمن‘‘ سے یہ معاہدہ انھوں نے اپنی بربادی کی قیمت پر کیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ ہر وقت اس انتظار میں رہتے تھے کہ جہاں موقع ملے معاہدہ کی خلاف ورزی کر کے مسلمانوں کو نقصان پہنچائیں یا کم از کم انھیں بد نام کریں۔ ظاہر ہے کہ جب ایک فریق کی طرف سے اس قسم کی خیانت کا مظاہرہ ہو تو دوسرے فریق کے لئے کسی معاہدہ کی پابندی ضروری نہیں رہتی۔
یہ قریش کا حال تھا جن کو مسلمانوں کے عروج میں اپنی قیادت چھنتی ہوئی نظر آتی تھی۔ تاہم کچھ دوسرے عرب قبائل رئیلو کانہ، بنو خزاعہ، بنو ضمرہ، جو اس قسم کی نفسیاتی پیچیدگی میں مبتلا نہ تھے، انھوں نے مسلمانوں سے معاہدے کئے اور اپنے معاہدے پر قائم رہے۔ جب چار ماہ کی مہلت کا اعلان کیا گیا تو ان کے معاہدہ کی میعاد پوری ہونے میں تقریباً نو مہینے باقی تھے۔ حکم ہوا کہ ان سے معاہدہ کو آخر وقت تک باقی رکھو، کیونکہ تقویٰ کا تقاضا یہی مگر اس مدت کے ختم ہونے کے بعد پھر کسی سے اس قسم کا معاہدہ نہیں کیا گیا اور تمام مشرکین کے سامنے صرف دو صورتیں باقی رکھی گئیں یا اسلام لائیں یا جنگ کے لئے تیار ہو جائیں۔
معاشرتی زندگی کی بنیاد ہمیشہ دو چیزوں پر ہوتی ہے۔ رشتہ داری یا قول و قرار۔ جن سے رحمی رشتے ہیں ان کے حقوق کا لحاظ آدمی رحمی رشتوں کی بنیاد پر کرتا ہے۔ اور جن سے قول و قرار ہو چکا ہے ان سے قول و قرار کی بنا پر۔ مگر جب آدمی کے اوپر دنیا کے مفاد اور اس کی مصلحت کا غلبہ ہوتا ہے تو وہ دونوں باتوں کو بھول جاتا وہ اپنے حقیر فائدہ کی خاطر رحمی حقوق کو بھی بھول جاتا ہے اور قول و قرار کو بھی۔ ایسے لوگ حد سے گزر جانے وہ خدا کی نظر میں مجرم ہیں۔ دنیا میں اگر وہ چھوٹ گئے تو آخرت میں وہ خدا کی پکڑ سے بچ نہ سکیں گے۔ الا یہ کہ وہ توبہ کریں اور اپنی سرکشی سے باز آئیں ۔ کوئی شخص ماضی میں خواہ کتنا ہی برا رہا ہو مگر جب وہ اصلاح قبول کرلے تو وہ اسلامی برادری کا ایک معزز رکن بن جاتا ہے۔ اس کے بعد اس میں اور دوسرے مسلمانوں میں کوئی فرق نہیں رہتا۔
اور اگر عہد کے بعد یہ اپنی قسموں کو توڑ ڈالیں اور تمھارے دین میں عیب لگائیں تو کفر کے ان سرداروں سے لڑو۔ بے شک ان کی قسمیں کچھ نہیں، تاکہ وہ باز آئیں۔ کیا تم نہ لڑو گے ایسے لوگوں سے جنھوں نے اپنے عہد توڑ دئے اور رسول کو نکالنے کی جسارت کی اور وہی ہیں جنھوں نے تم سے جنگ میں پہل کی۔ کیا تم ان سے ڈرو گے۔ مستحق ہے کہ تم اس سے ڈرو اگر تم مومن ہو۔ ان سے لڑو۔ اللہ تمھارے ہاتھوں ان کو سزا دے گا اور ان کو رسوا کرے گا اور تم کو ان پر غلبہ دے گا اور مسلمان لوگوں کے سینہ کو ٹھنڈا کرے گا اور ان کے دل کی جلن کو دور کر دے گا اور اللہ کو جسے نصیب کرے گا جس کو چاہے گا اور اللہ جاننے والا ہے حکمت والا ہے ۱۵-۱۲ ائمہ کفر سے مراد قریش ہیں جو اپنے قائدانہ مقام کی وجہ سے عرب میں اسلام کے خلاف تحریک کی امامت کر رہے تھے۔ قریش کے اس کردار سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلام کی تحریک جب اٹھتی ہے تو اس کا پہلا مخالف کون گروہ بنتا ہے۔ یہ وہ گروہ ہے جس کو بے آمیز حق کے پیغام میں اپنی بڑائی پر زد پڑتی ہوئی نظر آتی ہے۔ سرمایہ دار وہ طبقہ ہے جس کے پاس وہ ذہن ہوتا ہے کہ وہ اسلامی دعوت میں شوشے نکال کر لوگوں کو اس کی طرف سے مشتبہ کرے۔ اسی کے پاس وہ وسائل ہوتے ہیں کہ وہ اسلام کے داعیوں کی حوصلہ شکنی کے لئے ان کو طرح طرح کی مشکلات میں ڈالے۔ اسی کے پاس وہ زور ہوتا ہے کہ وہ حق پرستوں کو ان کے گھروں سے نکالنے کی تدبیریں کرے۔ حتیٰ کہ اسی کو یہ مواقع حاصل ہوتے ہیں کہ اسلام کے ماننے والوں کے خلاف باقاعدہ جنگ کی آگ بھڑکاسکے۔
«ان کے عہد کچھ نہیں، بہت معنی خیز فقرہ ہے۔ جو لوگ دشمنی اور ضد کی بنیاد پر کھڑے ہوئے ہوں ان کے وعدے اور معاہدے بالکل غیر یقینی ہوتے ہیں۔ ان کی نفسیات میں اپنے حریف کے خلاف مستقل اشتعال برپا رہتا ہے۔ ان کے اندر ٹھہراؤ نہیں ہوتا۔ وہ اگر معاہدہ بھی کر لیں تو اپنے مزاج کے اعتبار سے اس کو دیر تک باقی رکھنے پر قادر نہیں ہوتے۔ زیادہ دیر نہیں گزرتی کہ اپنے منفی جذبات سے مغلوب ہو کر وہ معاہدہ کو توڑ دیتے ہیں اور اس طرح اہل حق کو یہ موقع دیتے ہیں کہ اپنے اوپر پہل کا الزام لئے بغیر وہ ان کے خلاف مدافعانہ کارروائی کریں اور خدا کی مدد سے ان کا خاتمہ کردیں ۔
تمام حکمت اور دانائی کا سر اللہ کا ڈر ہے۔ اللہ کا ڈر آدمی کے اندر اعتراف کا مادہ پیدا وہ آدمی کے اندر وہ شعور جگاتا ہے کہ وہ حقیقتوں کو ان کے اصلی روپ میں دیکھ سکے۔ یہی وجہ ہے کہ اللہ سے ڈرنے والے کے لئے خدائی منصوبہ کو سمجھنے میں دیر نہیں لگتی۔ وہ خدائی منشا کو جان کر پورے اعتماد کے ساتھ اپنے آپ کو اس میں لگا دیتا ہے۔ وہ اس صحیح ترین راستہ پر چل پڑتا ہے جس کی آخری منزل صرف اللہ کا ڈر آدمی کی آنکھوں کو اشک آلود کر دیتا ہے۔ مگر اللہ کے لئے بھیگی ہوئی آنکھ ہی وہ آنکھ ہے جس کے لئے یہ مقدر ہے کہ اس کو ٹھنڈک حاصل ہو، دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی۔
خدا کی قدہےت ایکو العلاء المعری کا ایک شعر ہے :
تَبَارَکْتَ اَنْهَارُ البِلاَدِ سَوائِجُ بِعَذْبٍ وَخُصِّتْ بِالمَلُوْحَةِ زَمْزَمْ خدایا تیری برکت، دنیا کی تمام نہریں میٹھا پانی لے کر بہہ رہی ہیں اور زمزم ہی کو خاص طور پر کھاری بنا دیا گیا۔ تمثیل کے انداز میں ایک بڑی گہری حقیقت کا اظہار ہے۔ دنیا کو اس کے بنانے والے نے اس طرح بنایا ہے کہ یہاں تمام سطحی چیزیں مزہ دار ہیں اور تمام گہری چیزیں بے مزہ ہیں۔ اگر آپ کو اعلیٰ ظرفی کا ثبوت دینا ہو تو آپ کو غصہ اور نفرت کا کڑوا گھونٹ پینا پڑے گا جب کہ تنگ ظرفی کے لئے اس کے سوا کسی چیز کی ضرورت نہیں کہ آدمی کے اندر جو تلخی یا کڑواہٹ پیدا ہو وہ اس کو دوسرے کے اوپر انڈیل دے۔ اگر آپ کو کوئی حقیقی کام کرنا ہو تو آپ کو با اصول آدمی بننے کی سختی برداشت کرنی ہوگی ، جب کہ بے مقصد انسان بن کر جینے کے لئے صرف اتنی بات کافی ہے کہ جہاں جیسا موقع ہو وہاں اسی روش کا مظاہرہ کر دیا جائے۔ اگر آپ کو کسی اعلیٰ مقصد کے لئے جینا ہے تو پوری زندگی پر طرح طرح کی روک لگانی پڑے گی، جب کہ بے مقصد زندگی گزارنے کے لئے صرف یہ کرنا ہوتا ہے کہ اپنے آپ کو بے لگام چھوڑ دیا جائے۔
آزادی کے بعد ہندوستان کی جو پہلی منتخب پارلیمنٹ بنی اس کے ایک ممبر پروفیسر ہیرن مکرجی تھے۔ اب اجلاس میں شرکت کے بعد جب وہ دہلی سے کلکتہ کے لئے روانہ ہوئے تو ان پر ایک عجیب کیفیت گزری۔ ٹرین کی فرسٹ کلاس بوگی ان کو لئے ہوئے دہلی کے جنوبی علاقہ سے گزر رہی تھی۔ انھوں نے دیکھا کہ ریلوے لائن کے دونوں طرف جھگی جھونپڑیوں اور گندے محلوں کا سلسلہ ہے جو دور تک چلا گیا ہے۔ ان کو یہ سوچ کر سخت صدمہ ہوا کہ آزادی کے انقلاب نے چند خوش قسمت لوگوں کو تو بہت کچھ دیا ہے مگر کروڑوں عوام کے لئے اس انقلاب کے پاس کوئی چیز نہیں ہے۔ کلکتہ پہنچ کر انھوں نے سابق وزیر اعظم پنڈت جواہر لال نہرو کو ایک خط لکھا جس میں اپنے مذکورہ تاثر کا ذکر کرتے ہوئے یہ درج تھا کہ جب میں دہلی کی ان غریب بستیوں سے گزرا تو میرے دل میں یہ خیال آیا کہ یہ لوگ اگر مجھ سے پوچھیں کہ تمھاری آزادی سے ہم کو کیا ملا تو میرے پاس اس کا کیا جواب ہوگا۔ پنڈت نہرو نے پروفیسر ہیرن مکرجی کے خط کا جو جواب دیا اس کا ایک فقرہ یہ تھا: تم اپنے حساس ہونے کی قیمت ادا کر رہے ہو : You are paying the price of being sensitive بے ضمیر انسان کو کروڑوں جھونپڑیوں کا منظر کسی پریشانی میں مبتلا نہیں کرتا۔ مگر جس شخص کا ضمیر زندہ ر اس کو یہ گندی جھونپڑیاں اس طرح تڑپا دیں گی کہ اس کا نرم گدا اس کے لئے کانٹوں کا بستر بن جائے ۔ لی انسانیت ہمیشہ تلخ گھونٹ پی کر ملتی ہے جب کہ گھٹیا انسان بننے کے لئے مصلحت اور موقع پرستی کے سوا کسی اور بزرگی ضرورت نہیں۔