Al-Risala · October 1981

حج میں کیا نہ کریں

Al-Risala, October 1981, pp. 34–4

By Maulana Wahiduddin Khan

حج کے دنوں میں جو کچھ کرنا منع ہے وہ وہی ہے جس کو بقیہ دنوں میں بھی کرنا منع ہے۔ حج کے دوران میں ان کی ممانعت بطور تربیت ہے۔ حج میں شریعت کی ان ممنوعات پر مبالغہ کے ساتھ عمل کرایا جاتا ہے تاکہ ان کے بارے میں آدمی کا احساس تیز ہواور بقیہ دنوں میں ان سے بچنے کی خصوصی استعداد اس کے اندر پیدا ہو جائے۔ انسان جب اپنے گھر اور کاروبار میں ہوتا ہے تو وہ اپنے ذاتی معاملات میں الجھا رہتا ہے اور اس سے آگے کی حقیقتوں کو بھول جاتا ہے۔ اس لئے آدمی کو روزانہ نماز کی ادائیگی کے لئے مسجد میں لایا جاتا ہے تاکہ کچھ دیر کے لئے وہ اپنے ذاتی ماحول سے علیحدہ ہو اور اپنے ذہن کو غیر متعلق چیزوں سے خالی کر کے یکسوئی کے ساتھ خدا کی طرف متوجہ ہو سکے۔ حج کے دنوں میں اسی مقصد کے لئے آدمی کو اس کے محدود ماحول سے نکال کر زیادہ لمبی مدت کے لئے حجاز (عرب) کے مختلف مقامات پر لے جایا جاتا ہے۔ حج کسی آدمی کے لئے اس کے دنیوی ماحول سے کامل علیحدگی کا نام ہے تاکہ وہ کامل یک سوئی کے ساتھ اپنے خدا کی طرف متوجہ ہو سکے۔

عرب کے ساتھ بہت سی عظیم دینی روایتیں وابستہ ہیں۔ اس بنا پر حج کے مراسم کی ادائیگی کے لئے عرب کا جغرافیہ نہایت موزوں جغرافیہ ہے۔ یہاں کعبہ ہے جس کے بارے میں ہزاروں سال سے تقدس کی روایتیں قائم ہو چکی ہیں۔ پیغمبروں کی قربانی کی داستانیں لکھی گئی ہیں۔ یہاں خدا کے نیک بندوں پر خدا کے انعامات کی یادگاریں ہیں۔ یہ وہ زمین ہے جہاں خدا کے آخری رسول اور آپ کے اصحاب کی زندگیوں کے نشانات ثبت ہیں۔ کی تاریخی نسبتوں نے حج کے مقامات کے ساتھ غیر معمولی تقدس اور احترام کی فضا وابستہ کر دی ہے۔ ماحول میں پہنچتے ہی آدمی کے ذہن میں ایک پوری دینی تاریخ جاگ اٹھتی ہے۔ یہاں بالکل قدرتی طور پر ایسا ہوتا ہے کہ آدمی کی دینی حس میں اضافہ ہو جائے۔ وہ زیادہ سنجیدگی اور انہماک کے ساتھ خدا کے مقرر کئے ہوئے فرائض کو ادا کرنے لگے۔ اسی مخصوص تاریخی اہمیت کی بنا پر اس علاقہ کو خدا نے اس کے لئے چنا کہ یہاں اسلامی زندگی کے بارے میں ایک علامتی مشق (ریہر سل) کرائی جائے اور پھر آدمی کو دوبارہ اس کے سابقہ ماحول میں واپس لایا جائے تاکہ وہ زیادہ بہتر طور پر خدا پرستانہ زندگی گزارنے کے قابل ہو سکے۔

حج کے زمانہ میں مخصوص مراسم کی ادائیگی کے دوران حاجی کے لئے جو چیزیں منع ہیں ان میں سے تین خاص چیزوں کا ذکر یہاں کیا جاتا ہے۔

زبان سے کسی شخص کو کوئی تکلیف نہ پہنچانا۔

کسی جانور کو نہ مارنا اور نہ اس کو زخمی کرنا۔

لذت اور آرائش کی چیزوں سے پر ہیز۔ مثلاً ناخن کاٹنا، بال سنوارنا، سلا ہوا کپڑا پہننا، خوشبو لگانا، ازدواجی تعلقات وغیرہ

مل جل کر رہنے میں لوگوں کو ایک دوسرے کی جس چیز سے سب سے زیاوہ سابقہ پیش آتا ہے وہ زبان ایک شخص کو دوسرے شخص سے سب زیاوہ تکلیف زبان ہی سے پہنچتی ہے۔ حج کے زمانہ میں بیک وقت بہت سے لوگوں کا ساتھ ہو جانے کی وجہ سے بار بار یہ موقع آتا ہے کہ آدمی کی زبان بے قابو ہو جائے اور ایک مسلمان سے دوسرے مسلمان کو ٹھیس پہنچے۔ چنانچہ حج کے موسم کو خصوصیت سے اس کی تربیت کا ذریعہ بنا دیا گیا۔ زبان سے کسی کو تکلیف پہنچانا عام دنوں میں اسلامی اخلاقیات کا ایک جزوو ہے۔ مگر حج کے دنوں میں اس کو اسلامی عبادات کا لازمی جز بنا دیا گیا تاکہ لوگ زیادہ سے زیادہ اہتمام کر کے اپنے کو اس سماجی برائی سے بچائیں۔ قرآن میں ارشاد ہوا ہے : حج کے چند معلوم مہینے (شوال ، ذی قعدہ ، ذی الحجہ ) ہیں۔ جو شخص ان مہینوں میں اپنے اوپر حج مقرر کرے تو پھر حج میں نہ کوئی فحش بات ہو اور نہ بدکلامی ، نہ لڑنا جھگڑا اور تکرار کیا جائے (بقرہ ۱۹۷) زبان سے دوسروں کو تکلیف پہنچانے کی یہی تین خاص صورتیں ہیں۔ آدمی فحش باتیں اپنی زبان سے نکالتا ہے جو دوسروں کے لئے دل خراشی کا باعث ہوتی ہیں۔ وہ دوسرے کو برے الفاظ سے یاد کرتا ہے اور اس کے بارے میں نازیبا کلمات بول کر اس کو بے آبرو کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ وہ بات چیت کے دوران تکرار اور سخت کلامی پر اتر آتا ہے۔ یہ تمام چیزیں حج میں بالکل حرام کر دی گئیں۔ تاکہ ان کے بارے میں آدمی کی حساسیت بڑھ جائے اور جب وہ حج کے مقدس سفر سے لوٹے تو اس کے اثر سے اس کی زبان ہمیشہ کے لئے ان چیزوں سے محفوظ ہو چکی ہو۔ حج کے لئے احرام باندھنے کے بعد خشکی کے جانوروں کا شکار کرنا حاجی کے لئے حرام ہے۔ حتیٰ کہ شکار کئے ہوئے جانور کا گوشت بطور ہدیہ قبول کرنا ، پرند کا پر اکھاڑ نا ، شکار میں مدد دینا ، شکار کو ذبح کرنے کے لئے چھری دینا ، وغیرہ سب حاجی کے لئے حرام ہیں۔

حج کے دوران میں حاجی کسی موذی جانور مثلاً سانپ کو مار سکتا ہے۔ یا دہ قربانی کے جانور کو ذبح کرتا ہے جو حج کے مراسم کا ایک جزو ہے۔ اس کے علاوہ کسی جانور کو مارنا یا اسے تکلیف دینا حرام ہے۔ جانور کا شکار عام حالات میں بالکل جائز ہے مگر حج کے دوران شکار کرنے کی اجازت نہیں۔ یہ دراصل ایک شرعی حکم پر مبالغہ کے ساتھ عمل کرنا ہے۔ آدمی پر یہ فرض ہے کہ وہ انسان کو نہ مارے ، دہ کسی جان دار کو نہ ستائے۔ یہ شریعت کا ایک حکم ہے جو ہر آدمی سے ہر حال میں مطلوب ہے ، مگر حج کے دوران اس کو شکار کے جانوروں تک وسیع کر کے اس حکم کے بارے میں آدمی کے احساس کو تیز کیا جاتا ہے تا کہ حج سے واپسی کے بعد وہ زیادہ اہتمام کے ساتھ اس کی تعمیل کر سکے۔

اسلامی زندگی کا خلاصہ ایک لفظ میں یہ ہے کہ اپنے آپ کو کنٹرول میں رکھ کر زندگی گزاری جائے۔ کے سفر کو اس قسم کی پابند زندگی کے لئے خصوصی تربیت کا ذریعہ بنا دیا گیا ہے۔ حج کی یہ حیثیت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک حدیث میں ان لفظوں میں بیان کی گئی ہے: جس شخص نے حج کے مراسم اس طرح ادا کئے کہ مسلمان اس کی زبان اور اس کے ہاتھ سے محفوظ رہے تو اس کے تمام پچھلے گناہ معاف کر دئے جائیں گے (من قضى نُسُكَہ وسَلِمَ المسلمون

من لسانه ويد کا غفر لہ ما تقدم من ذنبہ، تفسیر ابن کثیر، سورۃ البقرہ) گویا حج کا فریضہ ادا کرتے ہوئے حاجی کو جس چیز سے خاص طور پر بچنا ہے وہ یہ کہ اس کی زبان سے کسی بندہ خدا کے دل کو ٹھیس نہ لگے۔ اس کے ہاتھ سے کسی انسان کو تکلیف نہ پہنچے۔ جو حج آدمی کے تمام گناہوں کو ختم کر دیتا ہے وہ وہی حج ہے جس سے آدمی کی زبان اور اس قسم کا ہاتھ لے کر واپس آیا ہو۔

حج کے دوران لذت اور آرائش کی چیزوں کو بھی ممنوع قرار دے دیا گیا ہے۔ حج کا عمل احرام سے شروع ہوتا احرام ایک سادہ لباس (ایک سفید تہمد اور ایک سفید چادر) ہے جو حرم کے حدود میں داخل ہوتے ہی ہر حاجی اور زائر کے لئے ضروری ہو جاٹا ہے۔ احرام گویا ایک قسم کا فقیرانہ لباس ہے جو زیارت کعبہ کے لئے پہنا جاتا ہے۔ یہ پہلی علامتی تدبیر ہے جس کے ذریعہ سے خدا اپنے بندوں کو یہ احساس دلاتا ہے کہ سارے انسان برابر ہیں۔ ظاہری چیزوں کی بنیاد پر لوگ ایک دوسرے پر فخر کرتے ہیں یا کسی کو اونچا یا کسی کو نیچا سمجھتے ہیں وہ سب خدا کی نظر میں سراسر باطل ہیں۔ خدا سب کو ایک نظر سے دیکھتا ہے، ٹھیک ویسے ہی جیسے حج کے زمانہ میں لاکھوں حاجی ایک قسم کا لباس پہننے کی وجہ سے بالکل ایک جیسے دکھائی دیتے ہیں۔ گویا حج کا احرام اسلام کے اس اصول کا ایک عملی مظاہرہ ہے کہ سب انسان برابر ہیں۔ جو لوگ خدا کے اچھے بندے بننا چاہتے ہیں ان کے لئے لازم ہے کہ وہ ہر قسم کے دوسرے لباس اپنے اوپر سے اتار دیں اور سب مل کر ایک ہو جائیں۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا کہ حاجی کون ہے؟ آپ نے فرمایا "پراگندہ بال اور غبار آلود" ان الفاظ میں اصلی حاجی کی تعریف بتائی گئی ہے۔ الجھے ہوئے بال اور گرد سے اتا ہوا جسم با مقصد آدمی کی پہچان ہے۔ جب کوئی شخص پوری سنجیدگی کے ساتھ اپنے آپ کو کسی خاص کام کے لئے وقف کر دے تو اس کو آرائش و زیبائش کی فرصت نہیں رہتی۔ حج میں بالقصد اس قسم کا حلیہ بنانے کا حکم گویا با مقصد زندگی گزارنے کا ایک تاکیدی سبق ہے۔ کا مطلب یہ ہے کہ آدمی خدائی مقصد میں اپنے آپ کو اس حد تک مشغول کرے کہ اس کو اپنے ظاہر کو بنانے اور سنوارنے کی سدھ نہ رہے۔ وہ وقتی لذتوں کو بھول جائے ۔ برتر مقصد کو پانے کی دھن میں اس کو اپنے ذاتی تقاضے یاد نہ رہیں۔ حج کا حکم دیتے ہوئے قرآن میں کہا گیا ہے: اور تم سفر حج میں تقوی کا زادِ راہ لو، بہترین زادِ راہ تقوی کا زادِ راہ ہے۔ اے عقل والو اللہ سے ڈرو (بقرہ ۱۹۷)

قدیم عرب میں یہ سمجھا جاتا تھا کہ حج کے لئے زادِ راہ لے کر نکلنا دنیا دارانہ فعل ہے، جو شخص حج کے لئے اس طرح نکلے کہ وہ دنیا کا سامان لئے بغیر حج کے سفر پر چل پڑا ہو وہ بڑا پارسا اور دین دار خیال کیا جاتا تھا۔ ایسے لوگ اپنے بارے میں کہتے کہ ہم متوکل ہیں (نحن المتوکلون) ہم خدا کے سوا کسی چیز پر بھروسہ نہیں کرتے۔ مگر قرآن میں یہ بتایا گیا کہ اس قسم کی ظاہری نمائش کا نام دین داری نہیں۔ دین داری کا تعلق دل اور ذہن سے ہے نہ کہ کسی قسم کے خارجی مظاہرہ سے۔ آدمی کو جس چیز سے بچنا ہے وہ یہ ہے کہ اس کا دل اور اس کا ذہن غیر اللہ کے ڈر سے خالی ہو، نہ یہ کہ اس کی جھولی میں کوئی کھانے پینے کا سامان نظر نہ آتا ہو۔

Printed page