Al-Risala · October 1981

" انھوں نے شور و غل کو اسلام سمجھ لیا ہے “

Al-Risala, October 1981, p. 44

By Maulana Wahiduddin Khan

طبرانی نے کعب بن عجرہ سے روایت کیا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ایک روز میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا تو میں نے دیکھا کہ آپ کا چہرہ متغیر ہے، میں نے کہا: میرے ماں باپ آپ پر قربان کیوں میں آپ کو اس حال میں دیکھ رہا ہوں۔ آپ نے فرمایا : میرے پیٹ میں تین دن سے وہ چیز داخل نہیں ہوئی جو کسی جگر والے کے پیٹ میں داخل ہوتی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ میں نکلا تو میں نے دیکھا کہ ایک یہودی اپنے اونٹ کو پانی پلا رہا ہے۔ میں نے اس کی مزدوری کی اور ایک ڈول کے بدلے ایک کھجور کی اجرت پر اس کے لئے پانی کھینچا، ان کھجوروں کو لے کر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا۔ آپ نے پوچھا : من این لک یا کعب (اے کعب یہ کھجوریں تم کو کہاں ملیں) میں نے پورا قصہ بیان کیا۔ آپ نے فرمایا : اے کعب کیا تم مجھ سے محبت رکھتے ہو۔ میں نے کہا: میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں۔ آپ نے فرمایا : کوئی بندہ جب اللہ اور رسول سے محبت کرتا ہے تو محتاجی اس کی طرف اس سے بھی زیادہ تیزی سے آتی ہے جیسے سیلاب اپنے بہاؤ کی طرف (ما من عبد یحب اللہ ورسولہ الا الفقر اسرع الیہ من جریۃ السیل علی وجہہ)

Printed page