Al-Risala · October 1981

دنیوی مصلحتیں رکاوٹ بن جاتی ہیں

Al-Risala, October 1981, p. 44

By Maulana Wahiduddin Khan

نجران (یمن) کا عیسائی وفد ہجرت کے دسویں سال مدینہ آیا۔ اس کے لمبے قصہ میں یہ واقعہ بیان ہوا ہے کہ مدینہ سے واپس ہوتے ہوئے ان کا بڑا پادری ابو حارثہ بن علقمہ خچر پر سوار تھا۔ خچر نے ایک مقام پر ٹھوکر کھائی، پہاڑ کی زمین پر گر پڑا۔ پادری کا بھائی کرز بن علقمہ جو ساتھ تھا ، اس کی زبان سے نکلا، تعس الا بعد۔ ابد سے اشارہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف تھا۔ یعنی محمد کا برا ہو۔ پادری نے فوراً کہا : تعست امك (تمھاری ماں کا برا ہو) کرز بن علقمہ نے تعجب سے پوچھا کہ آپ نے ایسا کیوں کہا۔ پادری نے جواب دیا : واللہ ہم خوب جانتے ہیں کہ یہی وہ نبی منتظر ہیں جن کی بشارت ہماری کتابوں میں دی گئی تھی۔ کرز بن علقمہ نے یہ سن کر کہا : پھر آپ لوگ اس کی نبوت کا اقرار کیوں نہیں کرتے۔ پادری نے کہا :

لِاَنَّ هؤلاء الملوك اعطونا اموالا كثيرةً کیونکہ یہ بادشاہ ہم کو کافی مال دیتے ہیں اور ہماری وَاَکرَمُونَا فَلَو آمنا بمحمدٍ لَاَخَذُوا منا كل عزت کرتے ہیں۔ اگر ہم محمد کی نبوت کو مان لیں تو یہ ساری هذہ الاشیاء (محمد بن اسحق بحوالہ تفسیر رازی) چیزیں وہ ہم سے واپس لے لیں گے۔

Printed page