فرض سے آگے بڑھ کر قربانی دینا
Al-Risala, October 1981, pp. 44–45
By Maulana Wahiduddin Khan
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے اصحاب کے ساتھ بدر کے لئے نکلے۔ روحاء پہنچ کر آپ نے قیام کیا اور لوگوں کے سامنے خطبہ دیا، آپ نے پوچھا : كيف ترون (تمھاری کیا رائے ہے) پہلے حضرت ابوبکر رض نے مگر آپ نے التفات نہیں فرمایا (راض عنھہ) اور دوبارہ فرمایا "تمھاری کیا رائے ہے"۔ عمر رضی اللہ عنہ اٹھے۔ مگر آپ نے التفات نہیں فرمایا، اور پھر کہا "تمھاری کیا رائے ہے"۔ اب سعد بن معاذ
انصاری رض اٹھے۔ انھوں نے کہا: «واللہ یکانت نريد نا يا رسول اللہ! خدا کی قسم شاید آپ کا اشارہ ہماری طرف ہے اے خدا کے رسول آپ نے فرمایا " ہاں "۔ اصل یہ ہے کہ انصار نے آپ سے بیعت کی تھی جس کا مطلب یہ تھا کہ وہ مدینہ میں آپ کی حفاظت کریں گے۔ مگر باہر (بدر) جا کر دشمنوں سے لڑنا اس بیعت میں شامل نہ تھا۔ اس لئے ان سے پوچھنا ضروری تھا۔ مقداد بن عرض نے کہا:
اذ لا نقول لك يا رسول اللہ كما قال قوم موسیٰ اس وقت ہم آپ کو اس طرح نہیں کہیں گے جس طرح لموسی علیہ السلام اذهب انت وربک فقاتلا موسیٰ کی قوم نے موسیٰ سے کہا تھا تم اور تمھارا رب جا کر انا ههنا قاعدون (البدایہ والنہایہ) لڑے ہم تو یہاں بیٹھے رہیں گے)
سعد بن معاذ رض نے کہا: ہم آپ سے عہد کر چکے ہیں کہ ہم آپ کی سنیں گے اور آپ کی اطاعت کریں گے ۔ خدا کے رسول! چلئے جس چیز کا بھی آپ کا ارادہ ہو ہم آپ کے ساتھ ہیں۔ اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق دے کر بھیجا ہے، اگر آپ ہم کو حکم دیں کہ ہم اپنی سواریاں سمندر میں گھسا دیں تو ہم ان کو سمندر میں گھسا دیں گے۔ اگر آپ حکم دیں کہ ہم اپنی اونٹنیوں کو برک عماد (یمن) تک لے جاتے ہوئے ان کا کلیجہ چھلنی کریں تو ہم ایسا ضرور ہمارا ایک آدمی بھی پیچھے نہ رہے راوی کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم انصار کی اس تقریر سے بہت خوش ہوئے اور فرمایا چلو۔ اللہ نے تمھارے لئے فتح ونصرت کا فیصلہ کر دیا ہے۔ زندگی اس کے لئے ہے جو موت سے نڈر ہو جائے خلیفہ اول حضرت ابو بکر صدیق رض نے ایک بار اسلامی سپہ سالار حضرت خالد بن ولید رض کو نصیحت کرتے ہوئے کہا: اے خالد موت کے شیدائی بن جاؤ تم کو زندگی مل جائے گی (یا خالد احرص علی الموت تو هب لك الحياة)