اختلاف کی قاتل
Al-Risala, November 1981, p. 5
By Maulana Wahiduddin Khan
دو آدمیوں میں اختلاف ہوا اختلاف بڑھتا رہا، یہاں تک کہ دونوں ایک دوسرے کے دشمن ہو گئے۔ پہلے کے لئے زمین پر سب سے زیادہ قابل نفرت شخص دوسرا تھا اور دوسرے کے لئے زمین پر سب سے زیادہ قابل نفرت شخص پہلا۔
دونوں ایک دوسرے کو ذلیل کرنے اور نقصان پہنچانے میں لگ گئے ۔ ہر ایک کے ذہن میں کہنے اور کرنے کی جو طاقت تھی وہ اس نے پوری طرح دوسرے کی کاٹ میں لگادی۔ تخریبی مشغلہ میں مصروف رہے۔ تاہم کوئی دوسرے کو مٹا نہ سکا یہاں تک کہ خود اس کے مٹنے کا وقت آگیا۔ آخر کار دونوں کے درمیان جس چیز نے فیصلہ کیا وہ موت تھی۔ موت نے ہر ایک کو اسی قبر میں پہنچا دیا جس میں وہ اپنے بھائی کو پہنچانے کا عزم کئے ہوئے تھا۔ موت کا یہ واقعہ ہر روز ہمارے سامنے پیش آتا ہے، ہر دن کوئی شخص جو دوسرے کو قبر کے گڑھے میں پہنچانا چاہتا تھا ، خود قبر کے گڑھے میں پہنچ جاتا ہے۔ مگر کوئی اس سے سبق ہر آدمی یہ سمجھتا ہے کہ موت کا واقعہ اسی آدمی کے لئے ہے جس کے ساتھ وہ بظاہر پیش آیا ہے، خود اس کے اپنے لئے یہ واقعہ کبھی پیش نہیں آئے گا۔
حقیقت یہ ہے کہ موت کی یاد ہر قسم کے اختلاف اور دشمنی کی قاتل ہے۔ کی ذات کو ختم کرتی ہے اور موت کی یاد آدمی کی برائیوں کو۔ مگر کوئی آدمی موت کو یاد نہیں موت کا واقعہ کسی آدمی کے لئے اس کی برائیوں کو ختم کرنے کا سبب نہیں بنتا۔ حدیث میں ہے کہ موت کو خوب یاد کرو جو لذتوں کو ڈھا دینے والی ہے ( اکثروا ذکر ھادم اللذات ) کسی آدمی کے لئے سب سے بڑی لذت یہ ہے کہ وہ اپنے مخالف کو برباد ہوتا ہوا دیکھے۔ لیکن اگر آدمی موت کو یاد کرنے لگے تو اپنی بربادی کا اندیشہ اس سے دوسرے تمام احساسات کو اس طرح چھین لے گا کہ اس کو یاد بھی نہ رہے گا کہ اس کا کوئی مخالف ہے جس کی بربادی کا منصوبہ اسے بنانا چاہئے ۔
ایسا انسان جو ہر لمحہ موت کی زد میں ہو وہ کسی دوسرے کو کیا نقصان پہنچا سکتا ہے ۔ خود اپنی موت کے کنارے کھڑا ہوا ہے مگر وہ سمجھتا ہے کہ وہ دوسرے شخص کو اس کی موت کے کنارے پہنچا رہا ہے۔ نادانی کی یہ قسم بھی کیسی عجیب ہے۔