قولِ اسلام کا معیارِ اتحادِ اسلام ہے
Al-Risala, November 1981, p. 9
By Maulana Wahiduddin Khan
یا ایھا الذین آمنوا لم تقولون ما لا تفعلون۔ اے ایمان والو کیوں کہتے ہو منہ سے جو نہیں کرتے۔ کبر مقتا عند اللہ ان تقولوا ما لا تفعلون۔ بڑی بیزاری ہے اللہ کے یہاں کہ کہو وہ چیز جو نہ کرو۔ ان اللہ یحب الذین یقاتلون فی سبیلہ صفا اللہ چاہتا ہے ان کو جو لڑتے ہیں اس کی راہ میں قطار کانھم بنیان مرصوص (الصف) باندھ کر جیسے وہ دیوار ہیں سیسہ پلائی ہوئی۔
اس آیت کے مطابق قولِ اسلام کی صداقت کی جانچ اتحادِ اسلام ہے۔ اسلام کے قائمین اگر اسلامی پرچم کے لئے متحد نہ ہو سکیں تو ان کا قول اللہ کی نظر میں مقیت کیر کی حیثیت رکھتا ہے جس کی کوئی قیمت نہ دنیا میں ہے اور نہ آخرت میں۔ یہ اصول نہایت اہم نکتہ پر مبنی ہے۔ کوئی بڑا کام اتحاد کے بغیر نہیں ہو سکتا۔ مگر اتحاد ایک بہت بڑی قربانی یہ آدمی کے ”انا“ کی قربانی ہے۔ جب زیادہ انسان ایک محاذ پر جمع ہوں گے تو لازمی ہے کہ اُن میں رایوں کا اختلاف ہو۔ ایک کو دوسرے سے تکلیف پہنچے۔ بار بار نفس کو ٹھیس لگے۔ ہر آدمی بڑا بننا چاہتا ہے۔ اپنے اندر یہ سویا ہوا جذبہ رکھتا ہے کہ ”میری چلے، دوسرے کی نہ چلے ؛ ایسی حالت میں جب بھی کچھ لوگ جمع ہوں گے تو لازماً آپس میں ٹکراؤ ہو گا۔ کہیں خلافِ مزاج بات کو برداشت کرنا ہو گا۔ کہیں تنقید سننی پڑے گی۔ اپنی شکست پر صبر کرنا ہو گا۔ کہیں اپنی بے عزتی کو سہنا ہوگا۔ کہیں اپنے مقابلہ میں دوسرے کو ترجیح دینی ہوگی۔ اجتماعی مصلحت کی خاطر اپنی ذاتی رائے کو قربان کرنا ہوگا۔ کہیں ایک جائز کریڈٹ سے محرومی پر اپنے کو راضی کرنا غرض بے شمار قسم کی ناخوش گواریاں سامنے آئیں گی۔ ایسی حالت میں اتحادِ عمل پر وہی قائم رہ سکتا ہے جو اپنی ”انا“ کو ختم کر کے مسلمان بنا ہو۔ جو اپنی ذات کو دفن کر کے اجتماعیت میں شامل ہوا ہو۔ اس کے برعکس جو شخص اللہ کی کبریا ئی پر ایمان لانے کے باوجود اپنی انا کو اپنے ساتھ لئے ہوئے ہو کبھی متحدہ جد و جہد پر ٹھیر نہیں۔ اللہ پر ایمان ، اپنی حقیقت کے اعتبار سے ، اپنی ذات کی نفی کا ہے۔ اور اتحاد میں سب سے زیادہ اسی چیز نام کی ضرورت ہوتی ہے۔ متحدہ جد و جہد سب سے بڑی اور یقینی کسوٹی ہے جس پر جانچ کر یہ دیکھا جا سکتا ہے کہ آدمی اپنی ذات کی نفی کر کے اسلام میں داخل ہوا ہے یا اپنی انا کے بت کو اپنے ساتھ لئے ہوئے ہے۔ جو لوگ اپنی انا کے بت کو توڑ چکے ہوں ان کے لئے کوئی چیز اتحادِ عمل میں مانع نہیں ہوتی۔ اسی لئے اسلام کے محاذ پر جب ایسے لوگ قابلِ لحاظ تعداد میں جمع ہو جائیں تو لازماً وہ کامیاب ہو کر رہتے ہیں۔ آخرت کی جنت بھی ان کے لئے لکھ دی جاتی ہے اور دنیا کا غلبہ بھی (صف ۱۳) مگر جو لوگ اپنی انا کے بت کو لئے ہوئے ہوں، وہ کبھی متحدہ طاقت نہیں بنتے۔ اور اس طرح وہ ثابت کرتے ہیں کہ ان کا ”قول“ حقیقۃً قول بلا فعل تھا۔ ایسے لوگ اللہ کی نظر میں بالکل بے قیمت ہیں۔ خوش فہمیوں کی دنیا میں وہ کتنا ہی زیادہ بڑے نظر آتے ہوں۔ ایمان باعمل کی کسوٹی جو خدا نے مقرر کی ہے وہ اسلام کے لئے متحدہ عمل ہے۔ کوئی دوسری کسوٹی خواہ بظاہر کتنی ہی بڑی دکھائی دے خدا کے نزدیک اس کی کوئی اہمیت نہیں۔