Al-Risala · November 1981

مشورہ پر اصرار نہیں

Al-Risala, November 1981, pp. 17–18

By Maulana Wahiduddin Khan

بدر کی لڑائی (۲ھ) سے کچھ پہلے قریش کا ایک بہت بڑا تجارتی قافلہ ساٹھ آدمیوں کی سرکردگی میں شام بھیجا گیا تھا۔ اس تجارتی قافلہ میں مکہ کے مردوں اور عورتوں نے اپنا تمام سرمایہ لگا دیا تھا۔ بدر کی لڑائی میں قریش کو مکمل شکست ہوئی ۔ تاہم ابوسفیان کو اس میں کامیابی ہوئی کہ وہ تجارتی قافلہ کو ساحلی راستہ سے چلا کر مکہ پہنچ جائیں۔ جنگ کے بعد سارا مکہ جوش انتقام سے بھرا ہوا تھا۔ قریش کے ذمہ دار افراد کا ایک اجتماع دار الندوہ میں ہوا۔ اس اجتماع میں متفقہ طور پر یہ طے پایا کہ تجارتی قافلہ کے شرکاء صرف اپنا اصل سرمایہ لے لیں اور منافع کی رقم پوری کی پوری محمد صلی اللہ علیہ وسلم) کے خلاف جنگ کی تیاری میں لگا دی منافع کی یہ رقم پچاس ہزار دینار تھی جو اس وقت کے لحاظ سے بہت بڑی رقم تھی۔ اب قریش نے زبردست تیاری کی اور شوال ۳ھ میں مکہ سے نکل کر مدینہ کے لئے روانہ ہوئے۔

اسی جنگ کا نام جنگ احد ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خبر ملی تو آپ نے صحابہ کو جمع کر کے بڑے صحابہ میں سے اکثر کی رائے یہ تھی کہ مدینہ میں رہ کر مقابلہ کیا جائے۔ مگر نو جوان طبقہ اس کا پر جوش مخالف تھا۔ اس کا خیال تھا کہ اگر ہم یہاں ٹھہریں گے تو دشمن اس کو ہماری بزدلی اور کم زوری پر محمول کرے گا۔ اس لئے ہمیں باہر نکل کر مقابلہ کرنا چاہئے۔ عبد اللہ بن ابی کی رائے بھی وہی تھی جو اکابر صحابہ (سیرۃ ابن ہشام جلد ۳ صفحه )

جن لوگوں کی رائے یہ تھی کہ مدینہ میں رہ کر مقابلہ کیا جائے، اس کی بڑی وجہ مدینہ کا جغرافیہ تھا جو ایک قدرتی حصار کا کام کرتا تھا۔ مدینہ کا جائے وقوع ایسا تھا کہ اس کے جنوب میں کھجوروں کے گھنے باغات اس کثرت سے تھے کہ ادھر سے کوئی فوج بستی کے اوپر حملہ نہیں کر سکتی تھی۔ اسی طرح مشرق اور مغرب کے بڑے حصہ میں پہاڑیاں تھیں جو کسی فوجی پیش قدمی کے لئے قدرتی روک کا کام کر رہی تھیں۔ اس لئے کوئی دشمن صرف ایک ہی سمت سے مدینہ پر سکتا تھا۔ اس جغرافی پوزیشن نے مدینہ کو جنگی اعتبار سے کافی محفوظ شہر بنا دیا تھا۔ گویا مدینہ ایک قسم کا قلعہ تھا۔ شہر سے باہر نکل کر حملہ کر وہ چاروں طرف سے دشمن کی زد میں ہو جاتے تھے جب کہ مدینہ کے اندر صرف ایک طرف سے مقابلہ کا انتظام کرنا تھا۔ غزوہ احزاب میں مدینہ کے اسی جائے وقوع سے فائدہ اٹھایا گیا اور اس کی کھلی سمت میں (شمال مغربی رخ پر خندق کھود کر پورے شہر کو محفوظ کر لیا گیا تھا۔

بڑے صحابہ کی اکثریت اور عبد اللہ بن ابی کی رائے اگرچہ مدینہ میں رہ کر مقابلہ کرنے کی تھی۔

آپ نے نوجوان طبقہ کی رائے کا لحاظ کیا اور ایک ہزار آدمیوں کے ساتھ مدی سے نکل کر احد کی طرف روانہ عبداللہ بن ابی نے جب دیکھا کہ اس کی رائے نہیں مانی گئی جو بظاہر حالات معقول بھی تھی تو اس کو بہت وہ مدینہ سے ساتھ نکل پڑا تھا مگر دل کے اندر غصہ باقی تھا۔ چنانچہ اسلامی لشکر ابھی مدینہ اور احد کے درمیان تھا کہ عبداللہ بن ابی اپنے تین سو ساتھیوں کو لے کر مدینہ کی طرف واپس ہو گیا۔ عبداللہ بن ابی نے کہا: الطاعهم وعصانی، ماندری علام نقتل رسول اللہ نے ان کی بات مان لی اور میری بات نہیں ہم کو نہیں معلوم کہ ہم اپنی جانوں کو (سيرة ابن هشام جلد ۲ صفحہ ۸) یہاں کیوں ہلاک کریں۔

احد کی جنگ میں شکست نے یہ ثابت کیا کہ انھیں لوگوں کی رائے درست تھی جو مدینہ میں رہ کر مقابلہ کرنے کے لئے کہتے تھے اور باہر نکلنے سے روکتے تھے۔ چنانچہ اس کے بعد غزوہ خندق (۵ھ) میں اسی رائے کو اختیار کیا گیا اور مدینہ میں رہ کر مقابلہ کی تدبیر کی گئی۔ تا ہم تمام بڑے صحابہ اپنے اختلاف رائے کو بھول کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رہے اور جنگ میں شدید نقصان اور تکلیف کے باوجود پوری بے جگری کے ساتھ مقابلہ کیا۔ صرف عبداللہ بن ابی الگ ہوا اور اس کی بنا پر رئیس المنافقین کہلایا۔ ابی کی رائے اصولاً درست تھی۔ تجربہ نے بھی اس کے صحیح ہونے کی تصدیق کی۔ مگر صحت رائے کے باوجود اطاعت سے نکلنا اس کے لئے گمراہی اور خدا کی ناراضی کا سبب بن گیا۔

اسلام میں مشورہ کی بے حد اہمیت ہے۔ ہر آدمی کو حق ہے کہ وہ اپنا مشورہ پیش کرے لیکن ہر مشورہ دینے والا اگر یہ بھی چاہے کہ اس کے مشورہ پر ضرور عمل کیا جائے تو کبھی کوئی کام نہیں ہو سکتا کیونکہ مختلف رایوں میں سے کسی ایک ہی رائے کو عملاً اختیار کیا جا سکتا ہے نہ کہ ہر رائے کو۔ نہ سچے مسلمان وہ ہیں جو مشورہ پیش کرنے کے بعد اپنا مشورہ بھول جائیں اور ذمہ داروں کی طرف سے جو فیصلہ ہو اس کو اس طرح مان لیں جیسے وہی ان کی اپنی رائے تھی۔

"سب سے بڑی قربانی رائے کی قربانی ہے،" کسی شخص کا یہ قول بہت با معنی ہے حقیقت یہ ہے کہ رائے کی قربانی واحد چیز ہے جس کے اوپر کوئی مضبوط اجتماعیت کھڑی ہوتی ہے۔ کوئی عمارت صرف اس وقت بنتی ہے جب کہ کچھ اینٹیں اپنے آپ کو زمین میں دبانے کے لئے تیار ہوں۔ اسی طرح کوئی حقیقی اجتماعیت صرف اس وقت قائم ہوتی ہے جب کہ کچھ لوگ اس کے لئے تیار ہوں کہ وہ اپنی رایوں کو اپنے سینہ میں چھپالیں گے اور اختلاف رائے کے باوجود اتحاد عمل کا ثبوت دیں گے۔ اس قربانی کے بغیر کسی انسانی اجتماعیت کا وجود میں آنا اتنا ہی نا ممکن ہے جتنا اینٹوں کے بنیاد میں دفن ہوئے بغیر عمارت کا وجود میں آنا۔

Printed page