اتحاد کی طاقت
Al-Risala, November 1981, pp. 19–21
By Maulana Wahiduddin Khan
کسی شخص نے کبھی یہ نہیں سنا ہوگا کہ سورج کی گرمی سے کاغذ جل گیا۔ حالاں کہ سورج کی گرمی اتنی زیادہ ہے کہ کاغذ تو کیا پورا کا پورا پہاڑ بلکہ سارا کره ارض اس طرح جل سکتا ہے جیسے کسی بھڑکتے ہوئے تنور میں ایک تنکا۔ مگر یہی سورج جس کی گرمی اتنی زیادہ ہے کہ بڑے بڑے جنگلوں اور پہاڑوں کو بھک سے اڑا دے وہ موجودہ حالت میں ایک تنکے کو بھی جلانے پر قادر نہیں ہے، ایسا کیوں ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ سورج کی شعاعیں لاکھوں کروڑوں میل کے دائرے میں بکھری ہوئی ہیں۔ اس انتشار کی وجہ سے کسی ایک چیز پر بیک وقت اس کی شعاعیں اتنی مقدار میں نہیں پڑتیں کہ وہاں وہ اتنی گرمی پیدا کر سکیں جو کسی چیز کو جلانے کے لئے ضروری ہے۔ حالاں کہ یہی بکھری ہوئی شعاعیں اگر سمیٹ دی جائیں تو وہ خوفناک الاؤ کی شکل میں بھڑک
آفتابی چولھا سورج کی شعاعوں کے اسی قسم کے ارتکاز کا نام ہے۔ بکھری ہوئی شعاعوں کو ایک خاص دائرے میں سمیٹ دینے کی وجہ سے اس جگہ اتنی گرمی پیدا ہو جاتی ہے کہ کھانا پکنے لگتا ہے۔ آفتابی چولھا تو ابھی بہت کم رایج ہو سکا ہے مگر آتشیں شیشہ (Burning Glass) ایک ایسی چیز ہے جو اکثر اشخاص نے کبھی نہ کبھی آتشیں شیشہ کیا ہے۔ یہ ایک محدب یا کروی عدسه (Convex Lens) ہے جس سے کاغذ یا دوسری آتش پذیر چیزوں میں آگ لگائی جاسکتی ہے۔ عام حالات میں کاغذ پر سورج کی جو شعاعیں پڑتی ہیں، وہ اتنی زیادہ گرمی نہیں پیدا کر سکتیں کہ اس میں آگ لگ جائے، مگر انہیں شعاعوں کو جب مجتمع کر دیا جاتا ہے تو وہ شعلہ کی مانند بھڑک اٹھتی ہیں۔ کوئی بھی شخص تجربہ کر کے معلوم کر سکتا ہے کہ لنس ان شعاعوں کو طاقت ور بنانے کے لئے کیا کرتا ہے، ذیل کے نقشہ میں شعاعیں آتشیں شیشہ سے گزر کر گزر رہی ہیں۔
بکھری ہوئی شعاعیں ایک نقطہ پر جمع ہو کر طاقت ور ہو جاتی ہیں
اس نقشہ کے مطابق آتشیں شیشہ کا تمام تر عمل صرف یہ ہے کہ وہ ان شعاعوں کو جمع کرے جو لنس کے پورے دائرے میں پڑ رہی ہیں در ان کو اس طرح موڑے یا منعطف کر دے کہ وہ سب اکٹھا ہو کر ایک محدود رقبہ پر پڑنے لگیں۔ سورج کی شعاعوں کا یہ اجتماع اس محدود رقبہ میں اتنی حرارت پیدا کر دیتا ہے کہ کاغذ جلنے لگتا ہے۔
یہ مثال میں نے یہ واضح کرنے کے لئے دی ہے کہ انتشار اور اجتماع میں کیا فرق ہے۔ ایک ہی چیز اگر منتشر حالت میں ہو تو وہ بے وزن ہے۔ لیکن اگر اسے اکٹھا کر دیا جائے تو اتنی زبردست طاقت بن سکتی ہے جس کا پہلے تصور بھی نہیں کیا جا سکتا تھا۔
ہندوستان کے مسلمان اس وقت جس کمزوری کی حالت میں اپنے آپ کو محسوس کرتے ہیں وہ حقیقتا اتنے کمزور نہیں ہیں، یہ کمزوری ان کے انتشار کی پیدا کردہ ہے۔ اگر وہ اپنے درمیان اجتماعیت کا آتشیں شیشہ فراہم کر لیں اور انفرادی طور پر بکھری ہوئی شعاعوں کو ایک مقام پر مجتمع کر دیں تو یکایک وہ دیکھیں گے کہ جو شعاعیں الگ الگ ہونے کی صورت میں تنکا جلانے کے لئے بھی ناکافی نظر آتی تھیں، انھیں کی گرمی سے شہتیر بھڑک اٹھا ہے۔ ہماری موجودہ تعداد اور موجودہ ذرائع و وسائل جو منفرد طور پر بالکل بے قیمت نظر آتے ہیں، یہی تعداد اور یہی ذرائع کروڑوں گنا زیادہ اہمیت اختیار کر لیں گے۔ آج ہر مسلمان اپنے آپ کو تنہا محسوس کرتا ہے۔ اس وقت ہر شخص اپنے کو ایک پوری قوم کی مانند سمجھنے لگے گا۔ اور جب ایسا ہو گا تو دوسرے بھی ہم کو اسی نظر سے دیکھیں گے جیسا کہ فی الواقع ہم اپنے آپ کو سمجھتے ہیں۔ ہندوستان میں مسلمانوں کی تعداد دس کروڑ بتائی جاتی ہے۔ کروڑ افراد گویا دس کروڑ دھاگے ہیں، اگر وہ الگ ہوں تو کوئی شخص بھی انھیں باری باری توڑ سکتا ہے۔ لیکن یہی دس کروڑ دھاگے اگر مل جائیں تو وہ اتنا مضبوط رسا بن جائیں گے جنھیں ایک ہاتھ تو کیا سیکڑوں ہاتھ بھی توڑنے کی ہمت نہیں کر سکتے۔ جو چیز الگ سے دیکھنے میں محض ایک دھاگہ ہے وہ اتحاد کی برکت سے موٹے رسے کا مقام حاصل کر لے گی۔ قطرہ سمندر میں ہو تو وہ سمندر ہے اور باہر ہو تو وہ قطرہ کے سوا اور کچھ نہیں۔ یہ اتحاد اور اجتماعیت موجودہ حالات میں مسلمانوں کی شدید ترین ضرورت ہے۔ اس کے بغیر حالات کے سدھار کے لئے کوئی مؤثر کام انجام نہیں دیا جا سکتا۔ اصلاحِ حال کی ہر تجویز اپنی کامیابی کے لئے یہ چاہتی ہے کہ مسلمان ایک نقطہ پر جمع ہوں تاکہ زیادہ سے زیادہ ذرائع و وسائل اس کے لئے مہیا ہو سکیں، زیادہ سے زیادہ حمایت کے ساتھ اس کو مؤثر بنایا جا سکے، جب وہ دنیا کے سامنے آئے تو لوگوں کو وہ زیادہ سے زیادہ وقیع اور باوزن معلوم ہو۔
کوئی بھی اجتماعیت، خواہ وہ کتنے ہی ہلکے درجہ کی ہو، بہرحال قربانی چاہتی ہے ـــــــــ وقت کی قربانی، رائے کی قربانی، حیثیت کی قربانی، ذاتی مفادات کی قربانی۔ کبھی ایسا ہو گا کہ ذاتی دائرہ میں آپ کو محسوس ہوگا کہ آپ کا وقت ضائع ہو رہا ہے، مگر قوم کو اس کی ضرورت ہوگی، کبھی اپنی رائے کو محض اس لئے
چھوڑنا ہوگا کہ دوسروں کو آپ اس کا قائل نہیں کر سکے اور اشتراک کی کوئی صورت اس کے سوا نہیں ہے کہ آپ اپنی رائے سے عملی طور پر دست بردار ہو جائیں۔ کبھی آپ دیکھیں گے کہ اجتماعی ڈھانچہ میں آپ کی حیثیت گھٹ رہی ہے مگر اس کے باوجود ڈھانچہ کو برقرار رکھنے کے لئے آپ اپنی حیثیت کو نظر انداز کر دیں ۔ کبھی اجتماعی تقاضے آپ کے ذاتی مفادات کو متاثر کرنے لگیں گے ۔ ضدرت پکارے گی کہ اس وقت اپنا سرمایه ذاتی خواہش میں نہیں بلکہ قوم کے کام میں لگاؤ اور آپ اس پکار کو لبیک کہیں گے ، کبھی ذاتی اور خاندانی مصالح پر قوم کی مصالح کو ترجیح دینا ہو گا ۔ و غیرہ وغیرہ ۔
ایک ایسے معاشرہ میں یہ اجتماعیت قائم نہیں ہو سکتی جہاں صدارت اور نظامت حاصل کرنے کے لئے رسہ کشی ہوتی ہو۔ جہاں قوم کے پڑھے لکھے لوگ محض بیرونی ملکوں کی سیاحت کی قیمت پر اس کے لئے راضی ہو جائیں کہ وہ ہر جا کر قوم کی غلط نمائندگی کریں۔ جس کے افراد کو محض ایک اچھا عہدہ دے کر خریدا جا سکتا ہو، جہاں ایک مسلم گروہ دوسرے مسلم گروہ کو شکست دینے کے لئے قوم کے دشمنوں سے مل جاتا ہو، جہاں یہ حال ہو کہ ایک مسلمان دوسرے مسلمان سے خفا ہو تو پولیس کے دفتر میں اس کے خلاف مخبری کرنے پہنچ جائے۔ جہاں نظر آئے کہ کچھ لوگ ایک ملی کام کے لئے اٹھیں تو بقیہ لوگ اس کا تعاون کرنے کے بجائے یہ سوچنے لگیں کہ کہیں یہ میدان پر قابض نہ ہو جائیں اور فوراً اُسی کام کے لئے ایک اور علیحدہ تنظیم قائم کر کے لوگوں کو اپنی طرف بلانا شروع کر دیں۔ کی ضروریات، خدمت کرنے کا میدان نہ ہوں بلکہ لیڈری حاصل کرنے کا سستا ذریعہ بن جائیں۔ اجتماعی احساس سے اس قدر نا آشنا ہوں کہ اختلافات پر گالی گلوچ ہونے لگے اور ترک کلام کی نوبت آ جائے ۔ جہاں لوگوں کی سطحیت کا عالم یہ ہو کہ اتحاد کے بجائے اختلاف کے اجزاء ڈھونڈتے ہوں ، جہاں گروہ بندی اس شدت کو پہنچی ہوئی ہو کہ اپنے دائرہ سے باہر نہ کسی حق کو تسلیم کریں اور نہ اپنے سوا کسی کو کام کرنے کا اہل سمجھتے جہاں بستی کا یہ عالم ہو اور جہاں اجتماعی اوصاف کی اس درجہ کمی ہو وہاں تمام لوگ آخر ایک مشترکہ پلیٹ فارم پر جمع کس طرح ہوں گے ۔ حقیقت یہ ہے کہ اس وقت سب سے ضروری کام یہ ہے کہ قوم کو اخلاقی پستی سے نکالا جائے اور اس کے اندر اجتماعی احساس پیدا کیا جائے ۔ اس کے بعد ہی یہ ممکن ہے کہ ہمارے اندر کوئی اجتماعیت برپا ہو سکے ۔
اتحاد اور اجتماعیت کے بغیر ہمارا کوئی بھی مسئلہ حل نہیں ہو سکتا۔ اور اتحاد اور اجتماعیت ایسی چیز ہے جو پوری طرح ہمارے بس میں ہے۔ وہ کسی بھی طرح ہمارے لئے نا ممکن نہیں۔ بقیہ تمام چیزوں کے لئے دوسروں کو بدلنا پڑتا ہے ۔ جب کہ اتحاد قائم کرنے کے لئے ہمیں صرف اپنے آپ کو بدلنا ہے ۔ اب اگر ایک ایسے امکان کو بھی ہم حاصل نہیں کرتے جو خود ہمارے اپنے بس میں ہو تو تاریخ ہم کو کبھی معاف نہیں کرے گی ۔ کا مورخ یقیناً ہم کو مجرم ٹھہرائے گا، خواہ اپنے طور پر ہم دوسروں کو اپنی مصیبت کا ذمہ دار سمجھتے ہوں ۔ (ماہنامہ الفرقان جمادی الثانی ۱۳۸۴ھ)