Al-Risala · November 1981

ٹیم کی طرح

Al-Risala, November 1981, p. 25

By Maulana Wahiduddin Khan

کھیل کے میدان میں جب کسی ٹیم کے ایک فرد کو گیند ملتا ہے تو وہ گویا پوری ٹیم کو مل جاتا ہے۔ ہر ایک اپنے کو اسی میں شریک سمجھنے لگتا ہے۔ سب مل کر اس کو آگے بڑھانے کی کوشش کرتے ہیں۔ سب کے دل کی دھڑکنیں بس ایک گیند پر آکر ٹھہر جاتی ہیں۔ اس وقت ہر شخص وہی چاہنے لگتا ہے جو اس کا دوسرا ساتھی چاہ رہا ہے۔

مگر ملت کی دنیا میں معاملہ بالکل مختلف ہے۔ یہاں جب اتفاقاً کسی شخص کو ’’گیند‘‘ ہاتھ آ جائے تو وہ اس کے اپنے لئے ذاتی نمائش کا سامان ہوتا ہے اور دوسرے کے لئے حسد اور رقابت کا۔ نہ گیند والا صحیح حالت پر قائم رہتا ہے اور نہ بے گیند والا۔

ملت کے جس ادارہ میں دیکھئے، ہر جگہ عہدوں اور مناصب کی جنگ نظر آئے گی۔ کہیں ایک صورت میں اور کہیں دوسری صورت میں۔ جس کو عہدہ مل گیا ہے وہ اس کو چھوڑنے کے لئے تیار نہیں ہے اور جس کو نہیں ملا ہے وہ نہ ملنے پر صبر کرنے کے لئے راضی نہیں ہے۔ ہر آدمی سارا کریڈٹ خود لینا چاہتا ہے، کوئی اپنے سوا دوسرے کو کریڈٹ دینا نہیں چاہتا۔

ملت کی ٹیم میں کھیل کی ٹیم والی روح نہ ہونا ہماری اکثر مصیبتوں کی جڑ ہے۔ کیونکہ گیند تو ہمیشہ ایک ہوتی ہے اور ٹیم کے افراد زیادہ ہوتے ہیں۔ اگر ہر شخص یہ چاہے کہ اس کو گیند آگے بڑھانے کا سہرا ملے تو گیند تو اپنی جگہ پڑی رہ جائے گی۔ البتہ ٹیم کے افراد آپس میں لڑنا شروع کر دیں گے۔ کسی ٹیم کی کامیابی کا راز یہ ہے کہ اس کے افراد یہ جانیں کہ کب مجھ کو گیند لے کر آگے بڑھنا ہے اور کب اس کو دوسرے کے حوالے کر دینا ہے۔ ان میں یہ حوصلہ ہو کہ وہ اصل کھیل کو دیکھیں نہ یہ کہ کریڈٹ کس کو ملتا ہے اور کس کو نہیں ملتا۔

اسلامی نقطہ نظر سے موجودہ دنیا کی زندگی سراسر امتحان ہے۔ بالفاظ دیگر، وہ کھیل دکھانے کی جگہ ہے نہ کہ کھیل کا انعام پانے کی جگہ۔ یہ ذہن اگر صحیح طور پر لوگوں میں پیدا ہو جائے تو ہر قسم کا ٹکراؤ اپنے آپ ختم ہو جائے گا۔ کیونکہ اب آدمی کی نظر اپنے فرائض پر ہوگی نہ کہ عہدوں اور مرتبوں پر۔ اس کے برعکس اگر زندگی کو امتحان نہ سمجھا جائے تو زندگی ایک دوسرے پر سبقت کا اکھاڑا بن جاتی ہے۔ باہمی ٹکراؤ کا ایسا سلسلہ شروع ہوتا ہے جو کسی حد پر نہیں رکتا۔ اس کے بعد وہ فضا ہی ختم ہو جاتی ہے جس میں لوگ مل کر کام کریں اور دوسرے کی کامیابی پر اپنے دل میں خوشی کی ٹھنڈک محسوس کریں۔

Printed page