اجی، آدمی دیکھا جاتا ہے کہ جماعت
Al-Risala, November 1981, p. 39
By Maulana Wahiduddin Khan
انھوں نے مولانا سعید احمد صاحب سے کہا کہ تم ان کو اپنے حلقہ میں شامل کر لو اور ان کو تصوف کی تعلیم دو۔ دیکھنے کی چیز شخص ہوتا ہے، جماعت یا گروہ نہیں۔ چنانچہ جماعتی اختلاف کے باوجود مذکورہ استاد کو حلقہ تصوف میں شامل کر لیا گیا۔
یہ ایک حقیقت ہے کہ ہر آدمی کا ایک الگ سانچہ ہوتا ہے۔ یہ سانچہ ہر حال میں باقی رہتا ہے، خواہ وہ کسی بھی جماعت یا کسی بھی گروہ سے تعلق رکھتا ہو۔ دانش مندی یہ ہے کہ کسی فرد سے معاملہ کرتے ہوئے اس کی انفرادی شخصیت کو دیکھا جائے نہ کہ جماعت اور حلقہ کو۔ جو لوگ حلقہ اور جماعت کی اصطلاحوں میں سوچیں وہ اکثر نہایت قیمتی افراد کو کھو دیتے ہیں۔ وہ فرد کو جماعت یا گروہ کے لباس میں دیکھتے ہیں۔ حالاں کہ فرد ہمیشہ فرد رہتا ہے۔ میں شریک ہونے کی وجہ سے جماعت نہیں بن جاتا۔
اسلام کی ابتدائی تاریخ میں ہجرت کے سفر میں عبداللہ بن اریقط کو راز دار بنایا گیا جو کہ مشرک تھا۔ مگر مشرک ہونے کے باوجود اس نے راز کی پوری حفاظت کی۔ دوسری طرف فتح مکہ کی تیاری کے موقع پر ایک مسلمان حاطب بن ابی بلتعہ نے خط کے ذریعہ مدینہ کے فوجی راز کو مکہ والوں تک پہنچانے کی کوشش کی۔ اطلاع کی بنا پر ان کا قاعدہ راستہ میں پکڑ لیا گیا۔