Al-Risala · November 1981

greater than any one of us

Al-Risala, November 1981, p. 42

By Maulana Wahiduddin Khan

از را پاؤنڈ نے ٹیگور کی بابت یہ الفاظ مارچ ۱۹۱۳ میں ایک امریکی رسالہ (Fortnightly Review) میں لکھے تھے صرف ایک ماہ بعد ۲۲ اپریل ۱۹۱۳ کو اس نے رسالہ (Poetry) کے ایڈیٹر کے نام ایک خط لکھا جس میں ٹیگور کو فضول (Superfluous) قرار دیا اور کہا کہ ان کے کلام میں صرف بعض پرانی باتوں کی تکرار ہے اور اصل بنگالی زبان میں جو ادبی چاشنی تھی وہ بھی انگریزی ترجمہ میں ختم ہو گئی ہے۔

ٹیگور کے بارہ میں ایزرا پاؤنڈ کی رائے میں یہ تبدیلی کیسے آئی۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ از را پاؤنڈ نے کالی موہن گھوش کی مدد سے کیر کی نظموں کا انگریزی ترجمہ شروع کیا۔ یہ ترجمہ کتابی صورت سے پہلے میگزین میں قسط وار چھپا۔ ٹیگور نے اس ترجمہ کو دیکھا تو وہ ان کو بہت ناقص معلوم ہوا۔ انھوں نے اس کے ادبی معیار پر سخت تنقید کی۔ اس تنقید کو پڑھ کر از را پاؤنڈ بھڑک گیا اور وہی ٹیگور جس کی بابت وہ اس سے پہلے غیر معمولی تعریفی کلمہ کہہ چکا تھا، اس کی ہجو کرنے لگا۔ (ٹائمز آف انڈیا، ۱۱ مارچ ۱۹۰۹) بیشتر انسانوں کے لئے سب سے زیادہ قابل نفرت چیز ان کی اپنی ذات پر تنقید ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ بیشتر انسانوں کے لئے پرستش کا مرکز ان کی اپنی ذات ہوتی ہے اور آدمی کی فطرت ہے کہ وہ اپنی پرستش کے مرکز پر تنقید کبھی گوارا نہیں کرتا۔

آدمی جب کسی کی تعریف کرتا ہے تو اکثر حالات میں وہ خود اپنی تعریف کی ایک صورت ہوتی ہے۔ ایک لیڈر جب اسٹیج پر کھڑا ہوتا ہے اور پنڈال میں بھرے ہوئے عوام کے سامنے فیاضانہ الفاظ کا تحفہ پیش کرتا ہے تو دراصل وہ عوام کو ان کے اس عطیہ کا بدلہ دے رہا ہوتا ہے کہ انھوں نے اس کے تقریری تھیٹر میں جمع ہو کر اس کی شان میں اضافہ کیا۔ ایک شخص جب کسی ایسے شخص کے اعتراف میں قصیدہ پڑھتا ہے جو اس کا حریف نہیں ہے تو یہ دراصل اپنے وسعت ظرف اور اپنی شرافت کے اشتہار کی ایک بے ضرر صورت ہوتی ہے۔ ایک صاحب قلم جب دوسرے صاحب قلم کے تذکرہ میں الفاظ کے پھول کھلاتا ہے تو وہ یا تو بالواسطہ طور پر اس کے سابقہ قصیدہ کا شکرانہ ادا کر رہا ہوتا ہے یا یہ کہتا ہے کہ تم بھی اسی طرح میرا قصیدہ کبھی ایک تعریف اس لئے بھی شائع کی جاتی ہے کہ کسی سابقہ تنقید کی وجہ سے اپنی بگڑی ہوئی تصویر کو متوازن کیا جاسکے۔ حقیقی تعریفی کلمات وہ ہیں جو اپنے بھائی کی خیر خواہی کے جذبہ کے تحت نکلے ہوں۔ مگر یہی چیز دنیا میں سب سے زیادہ کم یاب ہے۔ کسی کو حقیقی خیر خواہی کا ایک کلمہ دینا اتنی بڑی فیاضی ہے جو شاذ و نادر ہی کسی خوش نصیب کے حصہ میں آتی ہے۔

Printed page