Al-Risala · February 1981

ایک کے بجائے دو

Al-Risala, February 1981, p. 4

By Maulana Wahiduddin Khan

ولیم دوم جرمنی کا بادشاہ تھا۔ اپنے باپ شہنشاہ فریڈرک کے بعد ۱۸۸۸ میں تخت پر بیٹھا۔ وہ اعلیٰ تعلیم یافتہ تھا۔ اس نے جرمنی کو فوجی اعتبار سے ترقی دینے میں کافی دل چسپی لی۔ مگر اس کا فوجی استحکام اس کی شہنشاہیت کو بچانے میں کامیاب نہ ہوا۔ ملکی حالات کے تحت اس کو تخت چھوڑنا پڑا۔ ۱۹۱۸ میں وہ حکومت چھوڑ کر ہالینڈ چلا گیا اور وہاں خاموشی کے ساتھ زندگی گزار کر مر گیا۔ اس کی جلاوطنی کی موت گویا اس بات کا ایک واقعاتی ثبوت تھی کہ فوجی قوت کے مقابلہ میں حالات کی قوت زیادہ اہم ہے جنگِ عظیم اول سے کچھ پہلے کا واقعہ ہے۔ جرمنی کا مذکورہ بادشاہ ولیم دوم سوئزرلینڈ گیا ہوا تھا وہ وہاں کی منظم فوج کو دیکھ کر بہت خوش ہوا۔ اس نے مزاحیہ انداز میں سوئزر لینڈ کے ایک فوجی سے پوچھا: اگر جرمنی کی فوج جس کی تعداد تمھاری فوج سے دگنی ہو، تمھارے ملک پر حملہ کر دے تو تم اس وقت کیا کرو گے۔ اعلیٰ تربیت یافتہ فوجی نے سنجیدگی کے ساتھ جواب دیا :

Printed page