سر، ہم کو بس ایک کے بجائے دو فائر کرنے پڑیں گے
Al-Risala, February 1981, p. 4
By Maulana Wahiduddin Khan
اس کا مطلب یہ ہے کہ زندگی میں اصل اہمیت تعداد کی نہیں بلکہ محنت اور کار کردگی کی ہے۔ آپ کا حریف اگر تعداد میں زیادہ ہو تو آپ کو گھبرانے کی ضرورت نہیں۔ آپ اپنی محنت اور کارکردگی میں اضافہ کرکے کم تعداد کے باوجود زیادہ تعداد پر غالب آسکتے ہیں۔
دنیا میں اپنی جگہ بنانے کی دو صورتیں ہیں۔ ایک یہ کہ جس آسامی کے لیے بی اے کی قابلیت کی شرط ہو اور بی اے والوں نے درخواستیں دے رکھی ہوں، وہاں آپ بھی بی اے کی ڈگری لے کر پہنچ جائیں اور جب آپ کو نہ لیا جائے تو شکایت کریں کہ کیوں آپ کے مقابلہ میں دوسرے امیدوار کو ترجیح دی گئی، جب کہ دونوں یکساں طور پر دوسری صورت یہ ہے کہ جہاں لوگ بی اے کی ڈگریاں پیش کر رہے ہوں وہاں آپ ماسٹر ڈگری لے کر پہنچیں، جہاں لوگ مطابق شرائط قابلیت کی بنیاد پر اپنا حق مانگ رہے ہوں وہاں آپ بر تراز شرائط قابلیت دکھاکر اپنا حق تسلیم کرائیں۔
یہی دوسرا طریقہ زندگی کا اصلی طریقہ ہے۔ تمام بڑی بڑی ترقیاں اور کامیابیاں انھیں لوگوں کے لئے مقدر ہیں جو بر تر قابلیت لے کر زندگی کے میدان میں داخل ہوں۔ جن لوگوں کے پاس صرف کم تر لیاقت یا برابر کی لیاقت کا سرمایہ ہو ان کے لئے صرف ایک ہی انجام مقدر ہے ۔ مقابلہ کی اس دنیا میں دوسروں سے پچھڑ جانا اور اس کے بعد بے فائدہ احتجاج میں اپنا وقت ضائع کرتے رہنا۔