Al-Risala · December 1981

توحید اور مساوات

Al-Risala, December 1981, pp. 2–3

By Maulana Wahiduddin Khan

پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کا پیغام دو لفظوں میں یہ تھا ــــــــــ توحید اور مساوات۔ خدا کو ایک ماننا، اور تمام انسانوں کو برابر سمجھنا۔ آپ نے بتایا کہ اس دنیا کو بنانے والا ایک ہی خدا ہے، وہی سب کو پال رہا ہے اور اسی کے سامنے زندگی کا حساب دینے کے لئے سب کو حاضر ہونا ہے۔ خدا ایک ایسی کھلی ہوئی حقیقت ہے کہ اس کو مانے بغیر چارہ نہیں۔ انسان کی فطرت اور چاروں طرف پھیلی ہوئی کائنات دونوں پکار پکار کر کہہ رہے ہیں کہ خدا کو ضرور مانا جائے۔ یہی وجہ ہے کہ جب کوئی مصیبت کا لمحہ آتا ہے تو ہر آدمی کو خدا یاد آ جاتا ہے۔ خدا کا انکار کرنے والے بھی نازک وقتوں میں خدا کو پکارنے لگتے ہیں۔ تاریخ کا کوئی ایسا دور نہیں ہے جب کہ لوگ عمومی پیمانہ پر خدا کے منکر بن گئے ہوں۔ تاہم خدا کو ماننے کے باوجود ہر دور میں دو خاص غلطیاں پائی جاتی رہی ہیں۔

مظاہر کائنات کو خدا سمجھ لینا۔

دکھائی دینے والی چیزوں پر نہ دکھائی دینے والے خدا کو قیاس کرنا۔

آدمی کے اندر اپنے خالق کا تصور نہایت گہرائی کے ساتھ بیٹھا ہوا ہے۔ اس کے دل میں جذبہ اٹھتا ہے کہ وہ اپنے خالق کو مانے، وہ اس کے ساتھ اپنے کو جوڑے۔ آدمی اگرچہ خدا کو نہیں دیکھتا۔ مگر وہ خدا کی مخلوقات کو دیکھتا ہے۔ یہاں آدمی نے یہ کیا کہ اس نے دکھائی دینے والی چیزوں میں جو چیز نمایاں اور برتر نظر آئی اس کو خدا فرض کر لیا۔ مثلاً سورج، چاند، ستارے، وغیرہ۔ اس نے اصولی طور پر خدا کے وجود مگر اس نے اس طرح مانا کہ جو چیز خدا نہیں تھی اس کو محض اپنی اپیچ کی بنا پر خدا بنالیا۔ دوسرے لوگوں نے کائناتی مظاہر کو خدا نہیں کہا۔ مگر انہوں نے اسی سے ملتی جلتی ایک اور غلطی کی۔ انہوں نے نظر آنے والی چیزوں پر اس خدا کو قیاس کر لیا جو آنکھوں سے نظر نہیں آتا۔ مثلاً دنیا میں ہر چیز کی کئی انہوں نے خدا کو بھی کئی مان لیا۔ دنیا میں بڑے لوگوں کے کچھ قریبی اور سفارشی ہوتے ہیں۔ نے خدا کے یہاں بھی بہت سے مقرب اور سفارشی فرض کر لئے۔ انسان بیٹے بیٹیاں رکھتا ہے۔ انہوں نے خدا کے لئے بھی گمان کر لیا کہ اس کے بیٹے بیٹیاں ہیں۔ وہ خالق کو مان کر اس کو مخلوق کی سطح پر اتار لائے۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے خدا کے عقیدہ کو اس قسم کی ملاوٹوں سے پاک کیا۔ اور اس کو خالص توحید کی صورت میں انسان کے سامنے پیش کیا۔ قرآن میں حکم ہوا کہ لوگوں سے کہہ دو کہ وہ اللہ ایک ہے۔

اللہ بے نیاز ہے۔ نہ اس کی کوئی اولاد ہے نہ وہ کسی کی اولاد ہے۔ کوئی بھی اس کا ہمسر نہیں (سورہ اخلاص) انسان نے خود اپنے معاملہ میں بھی وہی غلطی کی جو اس نے خدا کے معاملہ میں کی تھی۔ اس نے دیکھا کہ انسانوں میں کوئی مال دار ہے اور کوئی غریب، کوئی سفید ہے اور کوئی کالا، کوئی اونچے گھرانے کا ہے اور کوئی معمولی گھرانے کا۔ ان فرقوں کی بنا پر لوگوں نے آدمیوں میں فرق کرنا شروع کر دیا۔ انہیں بنیادوں پر ایک انسان اور دوسرے انسان کے درمیان اونچ نیچ قائم ہو گئی۔

پیغمبر اسلام نے بتایا کہ اس طرح کے فرق حقیقی نہیں ہیں، وہ محض ظاہری اور اعتباری ہیں۔ انسانی اونچ نیچ سے کوئی تعلق نہیں۔ ان فرقوں کے باوجود تمام انسان برابر ہیں۔ سب ایک ہی ماں باپ کی اولاد ہیں۔ کسی کو کسی دوسرے کے اوپر رنگ اور نسل اور عہدہ اور مال کی بنا پر بڑائی حاصل نہیں ۔ بڑائی کا معیار آدمی کا کردار ہے نہ کہ اس کی ظاہری حیثیت۔ بڑا حقیقت میں وہ ہے جو خدا کا فرماں بردار ہے، چھوٹا وہ ہے جو خدا کا فرماں بردار نہیں۔

قرآن میں کہا گیا ہے کہ اے لوگو، خدا نے تم کو ایک مرد اور ایک عورت سے پیدا کیا اور پھر تمھارے کنبے اور قبیلے بنا دئے تاکہ تم ایک دوسرے کو پہچانو۔ اللہ کے نزدیک تم میں سب سے زیادہ عزت والا وہ ہے جو تم میں سب سے زیادہ خدا سے ڈرنے والا ہے۔ بے شک اللہ سب کچھ جاننے والا اور خبر رکھنے والا ہے (الحجرات ۱۳)

پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے آخری حج (سنہ ) کے خطبہ میں اعلان کیا : یا ایھا الناس الا ان ربكم واحد ، لا اے لوگو، سنو تمھارا رب ایک ہے، کسی عربی کو کسی فضل لعربی علی عجمی ولا لعجمی علیٰ غیر عربی پر یا کسی غیر عربی کو کسی عربی پر کوئی فضیلت نہیں عربی ولا لاسود علی احمر ولا لاحمر اور نہ کسی کالے کو کسی گورے پر اور کسی گورے کو کسی علی اسود الا بالتقویٰ ، ان اکرمکم کالے پر کوئی فضیلت ہے۔ فضیلت کی بنیاد صرف عند الله اتقاكم - الناس من آدم و آدم تقویٰ ہے۔ اللہ کے نزدیک تم میں سب سے زیادہ عزت من تراب والا وہ ہے جو سب سے زیادہ پرہیزگار ہو۔ آدم کی اولاد ہیں اور آدم مٹی سے پیدا کئے گئے ۔

اسلام یہ بتاتا ہے کہ جس طرح خدا ایک ہے اسی طرح تمام انسان بھی ایک ہیں۔ فرق یہ ہے کہ خدا کی وحدت اپنی ذات کے اعتبار سے ہے اور انسان کی وحدت اپنی تخلیق کے اعتبار سے۔

Printed page