Al-Risala · December 1981

لشکر کا کام خط سے

Al-Risala, December 1981, p. 9

By Maulana Wahiduddin Khan

یزید کے زمانہ میں عراق کا گورنر ابن زیاد تھا۔ وہ اسلامی تاریخ کا ایک بدنام شخص ہے۔ اس کے ایک واقعہ میں بری نصیحت ہے ۔

اس کے زمانہ میں بعض سرحدی علاقوں میں بغاوت ہو گئی۔ اس کے درباریوں نے کہا کہ ہم کو فوراً لشکر بھیجنا چاہئے ورنہ باغی ہتھیار نہ رکھیں گے۔ ابن زیاد نے کہا کہ لشکر کی کوئی ضرورت نہیں۔ ہم ایک خط بھیجتے ہیں اور وہ خط ہی بغاوت کو فرو کرنے کے لئے کافی ہو جائے گا۔ اس موقع پر اس نے جو جملہ کہا تھا وہ عربی زبان میں اس مفہوم کے لئے ضرب المثل بن گیا ہے۔ اس نے کہا :

کتابٌ يُنوبُ عن کتائب ایک خط لشکر کا قائم مقام ہے اس کے بعد ابن زیاد نے ایک دھمکی کا خط باغیوں کے نام روانہ کیا اور خط پاتے ہی انہوں نے گھبرا کر اپنی بغاوت ختم کر دی۔

ابو فراس ہمدانی نے عباسی خلیفہ کی تعریف میں قصیدہ لکھا تھا۔ اس میں وہ اسی قسم کی سیاست کا ذکر کرتے ہوئے لکھتا ہے:

اذا ما أرسل الامراء جيشا الى الاعداء ارسلنا الكتابا دوسرے امراء جہاں اپنے دشمن کے مقابلہ کے لئے لشکر بھیجتے ہیں وہاں ہم صرف خط بھیج دیتے ہیں یہی گہری سیاست کا راز ہے۔ سیاست یہ نہیں ہے کہ جہاں کوئی حریف نظر آئے اس سے براہ راست لڑائی چھیڑ دی جائے۔ یہ بیوقوفوں کی سیاست ہے جس کے نتیجہ میں خون خرابہ کے سوا اور کچھ ہاتھ عقل مند آدمی کی سیاست ہمیشہ یہ ہوتی ہے کہ اپنے آپ کو اتنا طاقت ور اور مستحکم بنایا جائے کہ جب کسی کی طرف سے کوئی مسئلہ پیدا ہو تو اس کے نام ایک وارننگ لکھ کر بھیج دینا کافی ہو۔ بھڑے بغیر محض دھمکی سے معاملہ ختم ہو جائے۔

دشمن کے خلاف طاقت کا استعمال ہمیشہ اس قیمت پر ہوتا ہے کہ دشمن کی طاقت کو اپنے خلاف استعمال کئے جانے کا خطرہ مول لیا جائے۔ دوطرفہ استعمال طاقت کے بعد فاتح کو بھی کھنڈر کے اوپر اپنا جشن فتح منانا پڑتا ہے۔ کبھی ایسا ہوتا ہے کہ آدمی لڑنے کے لئے مجبور کر دیا جاتا ہے۔ تاہم یہ واقعہ ہے کہ سب سے بڑی فتح وہ ہے جو لڑ کر حاصل ہو اور سب سے اچھی فتح وہ ہے جو لڑے بغیر آدمی کے حصہ میں آجائے۔

Printed page