سڑک بند ہے
Al-Risala, December 1981, p. 11
By Maulana Wahiduddin Khan
سڑک کی مرمت ہو رہی ہو تو سڑک کا درمیان میں ایک بورڈ لگا دیا جاتا ہے جس پر لکھا ہوتا ہے ”سڑک بند ہے“، مگر اس کا مطلب کبھی یہ نہیں ہوتا کہ سرے سے راستہ بند ہو گیا ہے اور اب آنے جانے والے اپنی گاڑی روک کر کھڑے ہو جائیں۔ اس کا مطلب صرف یہ ہوتا ہے کہ ”یہ سامنے کی سڑک بند ہے“ ہر شخص کو اس قسم کے بورڈ کے معنی معلوم ہیں۔ چنانچہ سواریاں جب وہاں پہنچ کر بورڈ کو دیکھتی ہیں تو وہ ایک لمحہ کے لئے نہیں رکتیں۔ وہ دائیں بائیں گھوم کر اپنا راستہ نکال لیتی ہیں اور آگے جا کر دوبارہ سڑک پکڑ لیتی ہیں۔ اور اگر کسی وجہ سے دائیں بائیں راستہ نہ ہو تب بھی سواریوں کے لئے کوئی مسئلہ نہیں۔ وہ اطراف کی سڑکوں سے اپنا سفر جاری رکھتی ہیں۔ کچھ دور آگے جا کر دوبارہ انہیں اصل سڑک مل جاتی ہے اور اس پر اپنا سفر جاری رکھتے ہوئے وہ منزل پر پہنچ جاتی ہیں۔ اس طرح کچھ منٹوں کی تاخیر تو ضرور ہو سکتی ہے۔ مگر ایسا کبھی نہیں ہوتا کہ ان کا سفر رک جائے یا وہ منزل پر پہنچنے میں ناکام رہیں۔ یہی صورت زندگی کے سفر کی بھی ہے۔ زندگی کی جدوجہد میں بھی ایسا ہوتا ہے کہ آدمی محسوس کرتا ہے کہ اس کا راستہ بند ہے۔ مگر اس کا مطلب صرف یہ ہوتا ہے کہ سامنے کا راستہ بند ہے نہ کہ ہر طرف کا راستہ بند۔ جب بھی ایک راستہ بند ہو تو دوسرے بہت سے راستے کھلے ہوئے ہوں گے۔ عقل مند شخص وہ ہے جو اپنے سامنے ”سڑک بند ہے“ کا بورڈ دیکھ کر رک نہ جائے بلکہ دوسرے راستے تلاش کر کے اپنا سفر جاری رکھے ۔
ایک میدان میں مواقع نہ ہوں تو دوسرے میدان میں اپنے لئے مواقع کا تلاش کر لیجئے۔ سے براہ راست مقابلہ ممکن نہ ہو تو بالواسطہ مقابلہ کا طریقہ اختیار کیجئے۔ آگے کی صف میں آپ کو جگہ نہ مل رہی ہو تو پیچھے کی صف میں اپنے لئے جگہ حاصل کر لیجئے۔ ٹکراؤ کے ذریعہ مسئلہ حاصل ہوتا نظر نہ آتا ہو تو مصالحت کے ذریعہ مسئلہ کے حل کی صورت نکال لیجئے۔ دوسروں کے ساتھ حل نہ ہورہا ہو تو تنہا اپنے کام کا آغاز کر دیجئے۔ چھت کی تعمیر کا سامان نہ ہو تو بنیاد کی تعمیر میں اپنے کو بندوں سے ملتا ہوا نظر نہ آتا ہو تو خدا سے پانے کی کوشش کیجئے۔ ہر بند سڑک کے پاس ایک کھلی سڑک بھی ہوتی ہے۔ مگر اس کو وہی لوگ پاتے ہیں جو آنکھ والے ہوں۔