Al-Risala · December 1981

اخلاق کی طاقت

Al-Risala, December 1981, pp. 12–13

By Maulana Wahiduddin Khan

خوش اخلاقی کی دو قسمیں ہیں۔ ایک یہ کہ جس سے آپ کا کوئی تعلق ہو یا جس سے کوئی فائدہ وابستہ ہو اس کے ساتھ خوش اخلاقی برتنا۔ دوسرے یہ کہ خوش اخلاقی کو اپنی عام عادت بنا لینا اور ہر ایک سے اچھے اخلاق کے ساتھ پیش آنا، خواہ وہ کوئی بھی ہو۔ خوش اخلاقی کی پہلی قسم سے بھی آدمی کو کچھ نہ کچھ فائدہ ملتا ہے۔ مگر خوش اخلاقی کی دوسری قسم کے فائدے اتنے زیادہ ہیں کہ ان کا شمار نہیں کیا جا سکتا۔

مسٹر اجوانی ۱۹۰۵ء میں کلکتہ کی ایک بڑی دوا ساز فرم میں سیلز مین مقرر ہوئے۔ ان سے پہلے جو شخص ان کی جگہ پر کام کر رہا تھا اس کو ۱۲ سو روپے تنخواہ اور آمد و رفت کے لئے ریلویز کا کرایہ ملتا تھا۔ اجوانی نے کہا کہ میں تین ہزار روپے مہینہ لوں گا اور ہوائی جہاز سے سفر کروں گا۔ کارخانہ کے ڈائرکٹر نے کہا کہ یہ تو بہت زیادہ ہے ۔ انھوں نے کہا : میں کام بھی بہت زیادہ دوں گا۔ آپ ایک بار تجربہ کر کے دیکھئے۔ بالآخر ان کا تقرر ہو گیا اور گجرات کا علاقہ ان کے سپرد ہوا۔

اس زمانہ میں گجرات میں ایک لیڈی ڈاکٹر تھی جس کی پریکٹس بہت کامیاب تھی اور اس کے یہاں دواؤں کی کھپت بہت زیادہ تھی۔ مگر وہ کسی مرد ایجنٹ سے نہیں ملتی تھی۔ ایک دوا ساز ادارہ کا ایجنٹ ایک بار اس کے یہاں آیا۔ باتوں کے دوران اس نے بتایا کہ میں پامسٹری جانتا ہوں اور ہاتھ بھی دیکھتا ہوں۔ لیڈی ڈاکٹر نے اپنا ہاتھ اس کے سامنے کر دیا۔ ایجنٹ نے دیکھ کر کہا کہ آپ کے ہاتھ کی ریکھائیں بہت اچھی ہیں۔ یہ کہتے ہوئے اس نے اس کا ہاتھ چوم لیا۔ اس واقعہ کے بعد لیڈی ڈاکٹر کو مرد ایجنٹوں سے نفرت ہو گئی اور اس نے اپنے دواخانہ میں مرد ایجنٹوں کا داخلہ بالکل بند کر دیا۔

مسٹر اجوانی اپنے تجارتی سفر پر مذکورہ شہر کے لئے روانہ ہوئے تو کمپنی کے ڈائرکٹر سے لیڈی ڈاکٹر کا ذکر آیا۔ مسٹر اجوانی نے کہا کہ میں اس سے بھی آرڈر لوں گا۔ ڈائرکٹر نے اس کو ان کی سادگی پر محمول کیا۔ اس نے کہا کہ اس سے آرڈر لینا بالکل ناممکن ہے۔ لیڈی ڈاکٹر اس بارے میں اتنا زیادہ مشہور ہو چکی تھی کہ لوگوں نے اس کے بارے میں سوچنا ہی چھوڑ دیا تھا۔

مسٹر اجوانی اپنے سفر پر روانہ ہو گئے ۔ ہوائی جہاز میں ان کی سیٹ سے ملی ہوئی سیٹ پر ایک بوڑھی راستہ میں ایسا ہوا کہ بوڑھی خاتون کو کھانسی اٹھی اور کف آنے لگا۔ بوڑھی خاتون پریشان ہوئی۔ مسٹر اجوانی کو اپنی عام اخلاقی عادت کے مطابق اس خاتون سے ہمدردی پیدا ہوئی اور انھوں نے فوراً اپنا رومال اس

کے منہ کے سامنے کر دیا۔ اس کا کف اپنے رومال پر لے لیا اور پھر غسل خانہ میں جاکر اسے دھو لیا۔ خاتون اس واقعہ سے بہت متاثر ہوئی۔ اس خاتون کو کبھی بھی جانا تھا جہاں مسٹر اجوانی جا رہے تھے۔ ہوائی جہاز جب وہاں پہنچا اور بوڑھی خاتون باہر آئی تو وہ یہ دیکھ کر پریشان ہوئی کہ اس کو لینے کے لئے کوئی ہوائی اڈہ پر نہیں آیا ہے۔ یہ خاتون کسی بڑے گھر سے تعلق رکھتی تھی اور اس کو لینے کے لئے کار آنا چاہئے تھی۔ مگر اس کی آمد کی صحیح اطلاع نہ ہونے کی وجہ سے اس کے گھر سے کار نہ آسکی۔ مسٹر اجوانی نے یہاں دوبارہ اس کی مدد کی۔ انھوں نے کہا کہ میں ہوٹل جانے کے لئے ٹیکسی کر رہا ہوں۔ آپ اس پر بیٹھ جائیں۔ میں پہلے آپ کو آپ کے گھر اتار دوں گا۔ اس کے بعد اپنے ہوٹل پر جاؤں گا۔ انھوں نے بوڑھی خاتون کو اپنی ٹیکسی پر بٹھایا اور اس کو لے کر اس کے گھر پہنچے۔ خاتون نے اپنے گھر پہنچ کر ان کا نام اور انھوں نے اپنا نام اور ہوٹل کا پتہ لکھ کر دے دیا اور پھر اپنے ہوٹل آ گئے۔

کچھ دیر کے بعد بوڑھی خاتون کی لڑکی اپنے کام سے فارغ ہو کر گھر پہنچی تو دیکھا کہ اس کی ماں آئی ہوئی ہے ۔ اس نے کہا کہ ہم کو آپ کی آمد کی خبر نہ تھی اس لئے گاڑی ہوائی اڈہ پر نہ جا سکی ۔ آپ کو تو بہت تکلیف ہوئی ہوگی۔ کہا کہ نہیں مجھ کو کوئی تکلیف نہیں ہوئی اور اس کے بعد اس نے مسٹر اجوانی کی پوری کہانی سنائی۔ یہ سن کر لڑکی بہت متاثر اس نے فوراً مذکورہ ہوٹل کو ٹیلی فون کر کے مسٹر اجوانی سے رابطہ قائم کیا اور کہا کہ ہم آپ کے بہت مشکور ہیں اور رات کا کھانا آپ ہمارے یہاں کھائیں۔ مسٹر اجوانی مقررہ پروگرام کے مطابق خاتون کے مکان پر پہنچ گئے۔ لوگ کھانے کی میز پر بیٹھے اور تعارف ہوا تو معلوم ہوا کہ بوڑھی خاتون کی لڑکی وہی لیڈی ڈاکٹر ہے جس کو مرد ایجنٹوں سے نفرت تھی اور وہ مرد ایجنٹوں سے ملاقات تک کی روادار نہ تھی۔ جب اس کو معلوم ہوا کہ مسٹر اجوانی دوا ساز کمپنی کے سیلزمین ہیں تو اسی وقت اس نے خود اپنی طرف سے دواؤں کا ایک بڑا آرڈر لکھوا دیا۔ اور کہا کہ ہمارے یہاں دواؤں کی بہت کھپت ہے ۔ آپ تو ہم کو مستقل گاہک سمجھ لیجیے اور ہر مہینہ دوائیں بھیجتے رہیے۔ مسٹر اجوانی کھانے اور ملاقات سے فارغ ہو کر ہوٹل واپس آئے اور اسی وقت کلکتہ میں اپنے ڈائریکٹر کو ٹرنک کال کیا۔ انھوں نے اپنے ڈائریکٹر کو ٹیلی فون پر بتایا کہ مذکورہ لیڈی ڈاکٹر سے میں نے اتنے ہزار کا آرڈر حاصل کر لیا ہے۔ ڈائریکٹر نے فوراً کہا تم غلط کہہ رہے ہو۔ ایسا تو کبھی ہو نہیں سکتا۔ تاہم اگلی ڈاک سے جب ڈائریکٹر کے پاس مذکورہ لیڈی ڈاکٹر کا چیک اور اس کا دستخط شدہ آرڈر پہنچا تو اس کو معلوم ہوا کہ وہ واقعہ بالفعل پیش آچکا ہے جس کو وہ اب تک ناممکن سمجھے ہوئے تھا۔

۲۱ نومبر ۱۹۸۰ء کی ملاقات میں میں نے مسٹر اجوانی سے پوچھا کہ آپ کو تجارت کا بہت تجربہ ہے۔ کہ تجارت میں کامیابی کا راز کیا ہے۔ انھوں نے جواب دیا: میٹھی زبان، اچھا سلوک۔ میں نے کہا ہاں، اور اس وقت بھی جب کہ بظاہر اس کا کوئی فائدہ نظر نہ آتا ہو۔ میٹھی زبان اور اچھا سلوک ہر حال میں مفید ہے، لیکن اگر وہ آدمی کا عام اخلاق بن جائے تو اس کے فائدوں کا کوئی ٹھکانا نہیں۔

Printed page