انسان کی تلاش
Al-Risala, December 1981, pp. 18–30
By Maulana Wahiduddin Khan
انسان کے اندر ایک عجیب خصوصیت ہے جو کسی دوسری مخلوق میں نہیں ۔ وہ ہے لا متناہی تلاش کا ہر آدمی اپنے پیدائشی جذبہ کے تحت ایک ایسی نامعلوم چیز کی تلاش میں رہتا ہے جس کو اس نے پایا نہیں۔ کوئی بھی کامیابی اس کو اس طلب کے بارے میں مطمئن نہیں کرتی، کوئی بھی ناکامی اس کے اندر سے اس جذبہ کو فنا نہیں کر پاتی۔ فلاسفہ اس کو آئیڈیل کی طلب کہتے ہیں ۔
یہ آئیڈیل کی طلب ہی تمام انسانی سرگرمیوں کی حقیقی اور آخری قوت محرکہ ہے ۔ اگر یہ طلب نہ ہو تو دنیا کی تمام سرگرمیاں اچانک ٹھپ ہو کر رہ جائیں ۔ انسانی ذہن کی یہی وہ زبردست طلب ہے جس کو فرائڈ نے غلط طور پر جنسی خواہش سے تعبیر کیا۔ ایڈلر نے اس کو غلط طور پر حصولِ طاقت کی خواہش قرار دیا۔ نے غلط طور پر کہا کہ یہ انسان کی تمام حیوانی جبلتوں کے مخلوطہ کا ایک پر اسرار نتیجہ ہے۔ مارکس نے اس کو غلط طور پر یہ ثابت کرنے کی کوشش کی کہ یہ انسانی زندگی کی معاشی خواہش ہے اور یہی اس کی تمام سرگرمیوں کو کنٹرول مگر ان توجیہات کو غلط قرار دینے کے لئے یہی واقعہ کافی ہے کہ یہ چیزیں جن لوگوں کو پوری طرح ملیں وہ بھی مطمئن نہ ہو سکے۔ ان کی اندرونی ہستی بھی اسی طرح بے چین رہی جس طرح ان چیزوں سے محروم رہنے والے بے چین نظر آتے ہیں ۔
انسان ہزاروں برس سے اپنے اس آئیڈیل کو دنیا کی چیزوں میں تلاش کر رہا ہے، مگر کوئی بھی شخص اس اطمینان سے دوچار نہیں ہوا کہ اس نے اپنی تلاش کا مکمل جواب پا لیا ہے۔ اس معاملہ میں بادشاہ یا امیر بھی اتنا ہی غیر مطمئن رہتا ہے جتنا کوئی بے زور اور مفلس آدمی ۔ یہ لمبا تجربہ یہ ثابت کرنے کے لئے کافی ہے کہ "نظر آنے والی دنیا میں آدمی کی تلاش کا جواب موجود نہیں۔ اس کا جواب اس "نظر نہ آنے والی، دنیا میں ہے جس کو آدمی محسوس تو کرتا ہے مگر دیکھ نہیں پاتا۔
حقیقت یہ ہے کہ یہ طلب خدا کی طلب ہے ۔ آدمی جس آئیڈیل کو پانے کے لئے بے قرار رہتا ہے وہ خود اس کا خالق ہے۔ ہر آدمی جس چیز کی تلاش میں ہے وہ دراصل وہ خدا ہے جو اس کی روح میں سمایا ہوا ہے۔ ہر آدمی اپنی فطرت کے تحت مسلسل خدا کی جستجو میں رہتا ہے وہ اپنے اس اندرونی جذبہ کے تحت دنیا کی مختلف چیزوں کی طرف دوڑتا ہے اور سمجھتا ہے کہ شاید یہ چیز اس کی تلاش کا جواب ہو۔ وہ اس کو پالیتا ہے اور قریب سے اس کا تجزیہ کرتا ہے تو اس کو معلوم ہوتا ہے کہ یہ چیز وہ نہیں جس کی تلاش میں وہ سرگرداں تھا۔
کیا تمھارایہ گمان ہے کہ تم چھوڑ دئے جاؤ گے حالاں کہ ابھی اللہ نے تم میں سے ان لوگوں کو جانا ہی نہیں جنھوں نے جہاد کیا اور جنھوں نے اللہ اور رسول اور مومنین کے سوا کسی کو دوست نہیں بنایا اور اللہ جانتا ہے جو کچھ تم کرتے ہو ۱۶ موجودہ دنیا میں آدمی جب کسی چیز کو اپنی زندگی کا مقصد بناتا ہے تو اس کو حاصل کرنے میں طرح طرح کے مسائل اور تقاضے سامنے آتے ہیں۔ اگر آدمی کو اپنا مقصد عزیز ہے تو وہ ان مسائل کو عبور کرنے اور ان تقاضوں کو پورا کرنے میں اپنی ساری قوت لگا دیتا ہے۔ اسی کا نام جہاد ہے۔ یہ جہاد اس دنیا میں ہر ایک کو پیش آتا ہے۔ آدمی کو جہاد کی سطح پر اپنی طلب کا ثبوت دینا پڑتا ہے اس کے بعد ہی ممکن ہوتا ہے کہ وہ اپنی طلب میں کامیاب ہو۔ فرق یہ ہے کہ غیر مومن دنیا کی راہ میں جہاد کرتا ہے اور مومن آخرت کی راہ میں۔
یہی جہاد یہ ثابت کرتا ہے کہ آدمی اپنے مقصد میں کتنا سنجیدہ ہے۔ ایک شخص جو ایمان کا مدعی ہو اس کے سامنے بار بار مختلف مواقع آتے ہیں جو اس کے دعوے کا امتحان ہوں کبھی اس کا دل کسی کے خلاف بغض وحسد کے جذبات سے متاثر ہونے لگتا ہے اور اس کا ایمان اس سے کہتا ہے کہ اس قسم کے تمام جذبات کو اپنے اندر سے کبھی اس کی زبان پر ناپسندیدہ کلمات آتے ہیں اور ایمان کا تقاضہ یہ ہوتا ہے کہ اس وقت اپنی زبان کو پکڑ لیا جائے۔ کبھی معاملات کے دوران کسی کو ایسا حق دینا پڑتا ہے جو قلب کو بالکل ناگوار ہو مگر ایمان یہ کہہ رہا ہوتا ہے کہ حق دار کو انصاف کے مطابق اس کا پورا حق پہنچایا جائے۔ اسی طرح اسلام کی دعوت کبھی ایسے موڑ پر پہنچ جاتی ہے کہ ایمان یہ کہتا ہے کہ اس کو کامیاب بنانے کے لئے اپنی جان و مال قربان کر دو۔ ایسے تمام مواقع پر گریز یا فرار سے بچنا اور ہر قیمت پر ایمان و اسلام کے تقاضے پورے کرتے رہنا، اسی کا نام جہاد ہے۔ جب کوئی شخص اسلام کے لئے مجاہد بن جائے تو اس کا تمام تر نفسیاتی تعلق اللہ اور رسول اور اہل ایمان سے ہو جاتا ہے۔ وہ ان کے سوا کسی کو اپنا ولیجہ نہیں بناتا۔ ولیجہ کے معنی ہیں داخل ہونا۔ ولیجہ کسی وادی کے اس غار کو کہتے ہیں جہاں راستہ چلنے والے بارش وغیرہ سے پناہ لیں۔ اسی سے ولیجہ ہے، یعنی دلی دوست۔ موجودہ دنیا میں جب بھی آدمی کسی وسیع تر مقصد کو اپنا تا ہے تو اس کو لازماً ایسا کرنا پڑتا ہے کہ وہ اپنے مقصد کی مرکزیت سے وابستہ ہو۔ وہ اپنے قائد کا مکمل وفادار بنے۔ وہ اس راہ کے ساتھیوں سے پوری طرح مقصدیت کے احساس کے ساتھ یہ چیزیں لازم ملزوم ہیں۔ ان کے بغیر با مقصد زندگی کا دعویٰ بالکل اسی طرح آدمی جب دین کو سنجیدگی کے ساتھ اپنی زندگی میں داخل کرے گا تو لازمی طور پر ایسا ہوگا کہ خدا اور رسول اور اہل ایمان اس کا ولیجہ بن جائیں گے۔ وہ ہر اعتبار سے ان کے ساتھ جڑ جائے گا۔ سنجیدگی کے ساتھ دین اختیار کرنے والے کے لئے اللہ اور رسول اور اہل ایمان، عملی طور پر ایسی وحدت کے اجزاء ہیں جن کے درمیان تقسیم ممکن نہیں۔ اس معاملہ کی نزاکت بہت بڑھ جاتی ہے جب یہ سامنے رکھا جائے کہ اس کی جانچ کرنے والا وہ ہے جس کو کھلے اور چھپے کا علم ہے، وہ ہر آدمی سے اس کی حقیقت کے اعتبار سے معاملہ کرے گا نہ کہ اس کے ظاہری رویہ کے اعتبار سے۔
مشرکوں کا کام نہیں کہ وہ اللہ کی مسجدوں کو آباد کریں حالاں کہ وہ خود اپنے اوپر کفر کے گواہ ہیں۔ ان لوگوں کے اعمال اکارت گئے اور وہ ہمیشہ آگ میں رہنے والے ہیں۔ اللہ کی مسجدوں کو تو وہ آباد کرتا ہے جو اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان لائے اور نماز قائم کرے اور زکوٰۃ ادا کرے اور اللہ کے سوا کسی سے نہ ڈرے۔ ایسے لوگ امید ہے کہ ہدایت پانے والوں میں سے بنیں۔ کیا تم نے حاجیوں کے پانی پلانے اور مسجد حرام کے بسانے کو برابر کر دیا اس شخص کے جو اللہ اور آخرت پر ایمان لایا اور اللہ کی راہ میں جہاد کیا، اللہ کے نزدیک یہ دونوں برابر نہیں اور اللہ ظالم لوگوں کو راہ نہیں دکھاتا۔ جو لوگ ایمان لائے اور انھوں نے ہجرت کی اور اللہ کے راستہ میں اپنے جان و مال سے جہاد کیا، ان کا درجہ اللہ کے یہاں بڑا ہے اور یہی لوگ کامیاب ہیں۔ ان کا رب ان کو خوش خبری دیتا ہے اپنی رحمت اور خوشنودی کی اور ایسے باغوں کی جن میں ان کے لئے دائمی نعمت ہوگی، ان میں وہ ہمیشہ رہیں گے۔ بے شک اللہ ہی کے پاس بڑا اجر ہے ۔ ۲۲ - ۱۷ نزولِ قرآن کے وقت عرب میں یہ صورت حال تھی کہ مسلمان رسول اللہ علیہ وسلم کے گرد جمع تھے اور مشرکین بیت اللہ کے گرد۔ اس وقت تک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ عظمتوں کی وہ تاریخ وابستہ نہیں ہوئی تھی جس کو آج ہم جانتے ہیں۔ لوگوں کو آپ عام انسانوں کی طرح ایک انسان دکھائی دیتے تھے۔ دوسری طرف مسجد حرام ہزاروں برس کی تاریخ کے نتیجہ میں عظمت و تقدس کی علامت بنی ہوئی تھی۔ مشرکین کی نظر میں اپنی تصویر تو یہ تھی کہ وہ ایک مقدس ترین مرکز کے خادم اور آباد کار ہیں۔ دوسری طرف جب وہ مسلمانوں کو دیکھتے تو اس وقت کے حالات میں ان کو ایسا معلوم ہوتا جیسے کچھ لوگ بس ایک دیوانہ کے پیچھے لگے ہوئے ہیں۔
مگر مشرکین کا یہ خیال سراسر باطل تھا۔ وہ ظواہر کا تقابل حقائق سے کرنے کی غلطی کر رہے تھے۔ حرام کے زائرین کو پانی پلانا، اس کے اندر روشنی اور صفائی کا انتظام۔ کعبہ پر غلاف چڑھا دینا۔ مسجد کے فرش اور دیوار کی مرمت ، یہ سب ظاہری نمائشی کی چیزیں ہیں۔ یہ بھلا ان اعمال کے برابر ہو سکتی ہیں جب کہ آدمی اللہ کو پا لیتا ہے اور آخرت کی فکر میں جینے لگتا ہے۔ وہ اپنی زندگی اور اپنے اثاثہ کو خدا کے حوالے کر دیتا ہے۔ دوسری تمام بڑائیوں کا انکار کر کے ایک خدا کو اپنا بڑا بنا لیتا ہے۔ سچائی کو پانے والے دراصل وہ لوگ ہیں جنھوں نے اس کو معانی کی سطح پر پایا نہ کہ ظواہر کی سطح پر۔ جو قربانی کی حد تک سچائی سے تعلق رکھنے والے ہوں نہ کہ محض سطحی اور نمائش کارروائیوں کی حد تک۔
اللہ سے تعلق کی دو قسمیں ہیں۔ ایک تعلق وہ ہے جو رسمی عقیدہ کی حد تک ہوتا ہے، جس میں آدمی کچھ دکھاوے کے اعمال تو کرتا ہے مگر اپنے کو اور اپنے مال کو خدا کی راہ میں نہیں دیتا۔ دوسرا تعلق وہ ہے جب کہ آدمی اپنے ایمان میں اتنا سنجیدہ ہو کہ اس راہ میں اس کو جو کچھ چھوڑنا پڑے وہ اس کو چھوڑ دے اور جو چیز دینی پڑے اس کو دینے کے لئے تیار ہو جائے۔ یہی دوسری قسم کے بندے ہیں جو مرنے کے بعد خدا کے یہاں اعلیٰ ترین انعامات سے نوازے جائیں گے۔
اے ایمان والو اپنے باپوں اور اپنے بھائیوں کو ووست نہ بناؤ اگر وہ ایمان کے مقابلہ میں کفر کو عزیز رکھیں ۔ تم میں سے جو ان کو اپنا دوست بنائیں گے تو ایسے ہی لوگ ظالم ہیں۔ کہو کہ اگر تمہارے باپ اور تمہارے لڑکے اور تمہارے بھائی اور تمہاری بیویاں اور تمہارا خاندان اور وہ جو تم نے کمائے ہیں اور وہ تجارت جس کے بند ہونے سے تم ڈرتے ہو اور وہ گھر جن کو تم پسند کرتے ہو، سب تم کو اللہ اور اس کے رسول اور اس کی راہ میں جہاد کرنے سے زیادہ محبوب ہیں تو انتظار کرو یہاں تک کہ اللہ اپنا حکم بھیج دے اور اللہ نافرمان لوگوں کو راستہ نہیں دیتار لوگوں کے لئے اپنا خاندان، اپنی جائداد، اپنے معاشی مفادات سب سے قیمتی ہوتے ہیں۔ کو وہ سب سے زیادہ اہم سمجھتے ہیں۔ ہر دوسری چیز کے مقابلہ میں وہ ان کو ترجیح دیتے ہیں اور اپنا سب کچھ ان کے اوپر نثار کر دیتے ہیں۔ اس قسم کی زندگی دنیا دارانہ زندگی ہے۔ ایسا آدمی جو کچھ پاتا ہے بس اسی دنیا میں موت کے بعد والی ابدی دنیا میں اس کے لئے کچھ نہیں۔ اس کے برعکس دوسری زندگی وہ ہے جب کہ آدمی اللہ اور رسول کو اور اللہ کی راہ میں جدوجہد کو سب سے زیادہ اہمیت دے اور اس کی خاطر دوسری ہر چیز چھوڑنے کے لئے تیار رہے۔ یہی دوسری زندگی خدا پرستانہ زندگی ہے اور ایسے ہی لوگوں کے لئے آخرت میں ابدی جنتوں کے دروازے کھولے جائیں گے۔
ایک زندگی وہ ہے جو دنیوی تعلقات اور دنیوی مفادات کی بنیاد پر قائم ہوتی ہے۔ دوسری زندگی وہ ہے جو ایمان کی بنیاد پر قائم ہوتی ہے۔ دونوں میں سے جس چیز کو بھی آدمی اپنی زندگی کی بنیاد بنائے، وہ ہمیشہ اس قیمت پر ہوتا ہے کہ وہ اس کی خاطر دوسری چیزوں کو چھوڑ دے۔ وہ کچھ لوگوں سے تعلق قائم کرے اور کچھ دوسرے لوگوں سے بے تعلق ہو جائے۔ وہ کچھ چیزوں کی بقار اور ترقی میں اپنی ساری توجہ لگادے اور کچھ دوسری چیزوں کی بقار اور ترقی کے معاملہ میں بے پروا بنا رہے۔ کچھ نقصانات اس کو کسی قیمت پر گوارا نہ ہوں، وہ جان پر کھیل کر اور اپنا بہترین سرمایہ خرچ کر کے ان کو بچانے کی کوشش کرے اور کچھ دوسرے نقصانات کو وہ اپنی آنکھوں سے دیکھے مگر ان کے بارے میں اس کے اندر کوئی تڑپ پیدا نہ ہو۔ یہ دنیا ہمیشہ ان لوگوں کو ملتی ہے جو دنیا کی خاطر اپنا سب کچھ اسی طرح آخرت صرف ان لوگوں کے حصہ میں آئے گی جو آخرت کی خاطر دوسری چیزوں کو قربان کردیں۔ ترجیح ایک کو چھوڑ کر دوسرے کو اختیار کرنے کا معاملہ انتہائی سنگین ہے۔ حتیٰ کہ یہی آدمی کے کفر د ایمان کا فیصلہ کرتا ہے۔ خدا کی دنیا میں جس طرح کافروں کے لئے کامیابی مقدر نہیں ہے اسی طرح ان لوگوں کے لئے بھی یہاں کامیابی کا کوئی امکان نہیں۔ جو ایمان کا دعویٰ کریں اور جب نازک موقع آئے تو وہ آخرت پسندانہ روش کے مقابلہ میں دنیا دارانہ روش کو ترجیح دیں۔ ایسے مدعیان ایمان اگر اپنے بارے میں خوش فہمی میں مبتلا ہوں تو ان کو اس وقت معلوم ہو جائے گا جب اللہ اپنا فیصلہ ظاہر کر دے گا۔
بے شک اللہ نے بہت سے موقعوں پر تمھاری مدد کی ہے اور حنین کے دن بھی جب تمھاری کثرت نے تم کو ناز میں مبتلا کر دیا پھر وہ تمھارے کچھ کام نہ آئی۔ اور زمین اپنی وسعت کے باوجود تم پر تنگ ہوگئی، پھر تم پیٹھ پھیر کر بھاگے۔ بعد اللہ نے اپنے رسول اور مومنین پر اپنی سکینت اتاری اور ایسے لشکر اتارے جن کو تم نے نہیں دیکھا اور اللہ نے کافروں کو سزا دی اور یہی کافروں کا بدلہ ہے۔ پھر اس کے بعد اللہ جس کو چاہے تو بہ نصیب کر دے اور اللہ بخشنے والا اے ایمان والو، مشرکوں بالکل ناپاک ہیں۔ پس وہ اس سال کے بعد مسجد حرام کے پاس نہ آئیں اور اگر تم کو مفلسی کا اندیشہ ہو تو اللہ اگر چاہے گا تو اپنے فضل سے تم کو بے نیاز کر دے گا اللہ علیم و حکیم ہے ۲۵ - ۲۸۔ مسلمانوں کا غلبہ کافروں کو ان کے کفر کی سزا کا اگلا نتیجہ ہے۔ مگر کافروں کا کفر مسلمانوں کے اسلام کی نسبت سے متحقق ہوتا ہے۔ اگر مسلمان اپنی اسلامیت کھودیں تو کافروں کا کفر کس چیز کے مقابلے میں ثابت ہو گا اور کس بنیاد پر خدا وہ تفریقی معاملہ کرے گا جو ایک کے لئے انعام بنے اور دوسرے کے لئے سزا۔
رمضان ۸ھ میں مسلمانوں نے قریش کو کامیاب طور پر مغلوب کر کے مکہ کو فتح کیا۔ مگر اگلے ہی مہینہ شوال ۸ھ میں ان کو ہوازن و ثقیف کے مشرک قبائل کے مقابلہ میں شکست ہوئی، جب کہ فتح مکہ کے وقت مسلمانوں کی تعداد دس ہزار تھی اور ہوازن و ثقیف سے مقابلہ کے وقت بارہ ہزار۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ قریش سے مقابلہ کے وقت مسلمان صرف اللہ کے بھروسہ پر نکلے تھے۔ مگر ہوازن و ثقیف کے مقابلہ پر نکلتے ہوئے انھیں یہ ناز ہو گیا کہ اب تو ہم فاتح مکہ ہمارے ساتھ بارہ ہزار آدمیوں کا لشکر ہے، آج ہم کو کون شکست دے سکتا ہے۔ جب وہ خدا کے اعتماد پر تھے تو انھیں کامیابی ہوئی، جب ان کو اپنی ذات پر اعتماد ہو گیا تو انھیں شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ اپنی ذات پر بھروسہ آدمی کے اندر گھمنڈ کا جذبہ ابھارتا ہے جس کے نتیجہ میں خارجی حقیقتوں سے بے پر وائی پیدا وہ نظم کی پابندی میں کوتاہ ہو جاتا ہے۔ وہ بے جا خود اعتمادی کی وجہ سے غیر حقیقت پسندانہ اقدام کرنے لگتا ہے جس کا نتیجہ اس عالم اسباب میں لازمی شکست ہے۔ اس کے برعکس خدا پر بھروسہ سب سے بڑی طاقت پر اس سے آدمی کے اندر تواضع کا جذبہ ابھرتا ہے۔ وہ انتہائی حقیقت پسند بن جاتا ہے۔ پسندی بلاشبہ تمام کامیابیوں کی جڑ ہے۔
ابتداً جب یہ حکم آیا کہ حرم میں مشرکین کا داخلہ بند کر دو تو مسلمانوں کو تشویش ہوئی کیونکہ غیر زرعی ملک ہونے کی وجہ سے عرب کی اقتصادیات کا انحصار تجارت پر تھا اور تجارت کی بنیاد ہمیشہ مشرکہ تعلقات پر ہوتی ہے۔ سوچا کہ جب حرم میں مشرکین کا آنا بند ہو گا تو ان کے ساتھ تجارتی رشتے بھی ٹوٹ جائیں گے۔ مگر ان کی نظر اس امکان پر نہیں تھی کہ آج کے مشترک کل کے مسلمان ہو سکتے ہیں۔ چنانچہ یہی ہوا۔ عربوں کے عمومی طور پر اسلام قبول کر لینے کی وجہ سے تجارتی سرگرمیاں دوبارہ نئی صورت سے بحال ہو گئیں۔ نیز اس ابتدائی قربانی کا نتیجہ یہ ہوا کہ بالا خر اسلام ایک بین الاقوامی دین بن گیا۔ جو معاشی دروازے مقامی سطح پر بند ہوتے نظر آتے تھے وہ عالمی سطح پر کھل گئے۔
ان اہل کتاب سے لڑو جو نہ اللہ پر ایمان رکھتے ہیں اور نہ آخرت کے دن پر اور نہ اللہ اور اس کے رسول کے حرام ٹھہرائے ہوئے کو حرام ٹھہراتے اور نہ دین حق کو اپنا دین بناتے یہاں تک کہ وہ اپنے ہاتھ سے جزیہ دیں اور چھوٹے بن کر رہیں۔ اور یہود نے کہا کہ عزیر اللہ کے بیٹے ہیں اور نصاریٰ نے کہا کہ مسیح اللہ کے بیٹے ہیں۔ یہ ان کے اپنے منہ کی باتیں ہیں۔ وہ ان لوگوں کی بات کی نقل کر رہے ہیں جنہوں نے ان سے پہلے کفر کیا۔ اللہ ان کو ہلاک کرے، وہ کدھر بہکے جارہے ہیں۔ انھوں نے اللہ کے سوا اپنے علماء اور مشائخ کو رب بنا ڈالا اور مسیح ابن مریم کو بھی۔ حالانکہ ان کو صرف یہ حکم تھا کہ وہ ایک معبود کی عبادت کریں۔ وہ پاک ہے اس سے جو وہ شریک کرتے ہیں۔ ایمان زندہ ہو تو آدمی ہر واقعہ کو خدا کی طرف منسوب کرتا ہے۔ وہ کسی چیز کو صرف اس وقت سمجھ پاتا ہے جب کہ خدا کی نسبت سے اس کے بارے میں رائے قائم کرلے۔ وہ پھول کی خوشبو کو اس وقت سمجھتا ہے جب کہ اس میں اسے خدا کی مہک مل جائے۔ وہ سورج کو اس وقت دریافت کرتا ہے جب کہ وہ اس کے معطی کو معلوم کرلے۔ اس کو خدا کا عطیہ نظر آتی ہے۔ ہر خوبی اس کو خدا کا احسان یاد دلاتی ہے۔ اس کے برعکس اگر خدا سے آدمی کا تعلق گھٹ کر صرف موہوم عقیدہ کے درجہ پر آجائے تو خدا اس کے زندہ شعور کے لئے ایک لامعلوم چیز بن جائے گا۔ کی نظر آنے والی چیزوں پر خدا کو قیاس کرنے لگے گا۔
دوسری قسم کے لوگ طبعی طور پر خالق کو ان دنیوی چیزوں کی نظر سے دیکھنے لگتے ہیں جن کو وہ جانتے ہیں۔ کو مخلوق کی سطح پر آتار لاتے۔ یہی حال یہود و نصاریٰ کا اپنے بگاڑ کے زمانہ میں ہوا۔ اب خدا ان کے یہاں موہوم معتقدات کے خانہ میں چلا گیا۔ چنانچہ وہ اپنے نظر آنے والے اکابر اور بزرگوں کو وہ درجہ دینے لگے جو درجہ خدائے عالم الغیب کو دینا چاہئے۔ انھوں نے دیکھا کہ یونانی اور رومی قومیں سورج کو خدا بنا کر اس کے لئے بیٹا فرض کئے ہوئے ہیں تو ان کو بھی اپنے بزرگوں کے لئے یہی سب سے اونچا لفظ نظر آیا۔ انھوں نے اپنی آسمانی کتابوں میں اب اور ان کے الفاظ کی خود ساختہ تشریح کر کے خدا کو باپ اور اپنے پیغمبر کو اس کا بیٹا کہنا شروع کر دیا۔ حالاں کہ خدا صرف ایک ہی ہے ، وہ ہر مشابہت سے پاک ہے ، وہی تنہا اس کا مستحق ہے کہ اس کو بڑا بنایا جائے اور اس کی عبادت کی جائے ۔ رسول اللہ کے خلاف جارحیت کرنے والے مشرکین ( بنواسماعیل) بھی تھے اور اہل کتاب ( بنواسرائیل) بھی۔ کے ساتھ الگ معاملہ کیا گیا۔ مشرکین کے ساتھ جنگ یا اسلام کا اصول اختیار کیا گیا۔ مگر اہل کتاب کے لئے حکم ہوا کہ اگر وہ جزیہ (سیاسی اطاعت) پر راضی ہو جائیں تو انھیں چھوڑ دو۔ اس فرق کی وجہ یہ ہے کہ مشرکین رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصلاً مخاطب تھے اور اہل کتاب تبعاً۔ اللہ کی سنت یہ ہے کہ جس قوم پر پیغمبر کے ذریعہ براہ راست دعوت پہنچائی جاتی ہے اس سے اتمام حجت کے بعد زندگی کا حق چھین لیا جاتا ہے، ٹھیک ویسے ہی جیسے کسی ریاست میں ایک شخص کے باغی ثابت ہونے کے بعد اس سے زندگی کا حق چھین لیا جاتا ہے۔ مگر جہاں تک دوسرے گروہوں کا تعلق ہے ان کے ساتھ وہی سیاسی معاملہ کیا جاتا ہے جو عام بین الاقوامی اصول کے مطابق درست ہو۔
وہ چاہتے ہیں کہ اللہ کی روشنی کو اپنے منھ سے بجھا دیں اور اللہ اپنی روشنی کو پورا کئے بغیر ماننے والا نہیں، خواہ کافروں کو یہ کتنا ہی ناگوار ہو۔ اسی نے اپنے رسول کو بھیجا ہے ہدایت اور دین حق کے ساتھ تاکہ اس کو سارے دین پر غالب کردے خواہ یہ مشرکوں کو کتنا ہی ناگوار ہو - ۳۳ - ۳۴ ان آیتوں میں خدا نے اپنے اس مستقل فیصلے کا اعلان کیا ہے کہ وہ اپنے دین کو قیامت تک پوری طرح محفوظ رکھے گا، ماضی کی طرح اب ایسا نہیں ہونے دیا جائے گا کہ لوگ اپنی ملاوٹوں سے خدا کے دین کو گم کردیں یا کوئی طاقت اس کو صفحہ ہستی سے مٹا دینے میں کامیاب ہو۔
اللہ تعالیٰ نے جب انسان کو زمین پر بسایا تو اسی کے ساتھ اس کے لئے اپنا ہدایت نامہ بھی انسان کے حوالے بعد کے دور میں جب لوگ غفلت اور دنیا پرستی میں مبتلا ہوئے تو انھوں نے خدا کے الفاظ کو بدل کر اس کو اپنی خواہشوں کے مطابق بنالیا۔ مثلاً اپنے بزرگوں کو خدا کے یہاں سفارشی مان کر یہ عقیدہ قائم کر لیا کہ ہم جو کچھ بھی کریں، ہمارے بزرگ اپنی سفارش کے زور پر ہم کو خدا کے یہاں نجات دلا دیں گے یا یہ کہ جنت اور جہنم سب اسی دنیا میں ہیں۔ اس کے آگے اور کچھ نہیں۔ لوگ جو کچھ خود چاہتے تھے اس کو انھوں نے خدا کی طرف منسوب کرکے خدا کی کتاب میں لکھ دیا۔ اس کے بعد خدا نے دوسرا نبی بھیجا جس نے خدا کے دین کو انسانی ملاوٹوں سے الگ کرکے دوبارہ اس کو صحیح شکل میں مگر بعد کے زمانہ میں لوگوں نے اس کو بھی بدل ڈالا۔ یہی بار بار ہوتا رہا۔ بالآخر اللہ تعالیٰ نے فیصلہ کیا کہ ایک آخری رسول بھیجے اور اس کے ذریعہ ایسے حالات پیدا کرے کہ خدا کا دین ہمیشہ کے لئے اپنی اصلی حالت میں محفوظ ہو جائے پیغمبر عربی صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ تاریخ نبوت کا یہی عظیم کارنامہ انجام پایا۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو اس وقت لوگوں نے خود ساختہ طور پر بہت سے دین بنا ر کھے عرب کے مشرکین کا ایک دین تھا جس کو وہ دین ابراہیم کہتے تھے۔ یہود کا ایک دین تھا جس کو وہ دین موسیٰ کہتے تھے، نصاریٰ کا ایک دین تھا جس کو وہ دین مسیح کہتے تھے۔ یہ سب خدا کے دین کے خود ساختہ ایڈیشن تھے جن کو انھوں نے غلط طور پر خدا کی طرف سے آیا ہوا دین قرار دے رکھا تھا۔ خدا نے ان سب دینوں کو رد کر دیا اور پیغمبر عربی کے دین کو اپنے دین کے واحد مستند ایڈیشن کے طور پر قیامت تک کے لئے قائم کر دیا۔
آج اسلام واحد دین ہے جس کے متن میں کوئی تبدیلی ممکن نہ ہوسکی جب کہ دوسرے تمام ادیان انسانی تحریفات کا شکار ہوکر اپنی اصلی تصویر گم کر چکے ہیں۔ اسلام واحد دین ہے جو تاریخی طور پر معتبر دین ہے جب کہ دوسرے تمام ادیان اپنے حق میں تاریخی اعتباریت کھو چکے ہیں۔ اسلام واحد دین ہے جس کی تمام تعلیمات ایک زندہ زبان میں پائی جاتی ہیں جب کہ دوسرے تمام ادیان کی ابتدائی کتابیں ایسی زبانوں میں ہیں جو اب مردہ ہوچکی ہیں اسلام کی صورت میں خدا نے مذہب کی جو روشنی جلائی وہ کبھی مدہم نہیں ہوئی اور نہ بجھائی جاسکی۔ وہ کامل طور پر دنیا کے سامنے موجود ہے اور ہر دوسرے دین کے اوپر اپنی اصولی برتری کو مسلسل قائم رکھے ہوئے ہے۔
اے ایمان والو! اہلِ کتاب کے اکثر علماء اور مشائخ لوگوں کے مال باطل طریقوں سے کھاتے ہیں اور لوگوں کو اللہ کے راستے سے روکتے ہیں اور جو لوگ سونا اور چاندی جمع کر کے رکھتے ہیں اور ان کو اللہ کی راہ میں خرچ نہیں کرتے ان کو ایک درد ناک عذاب کی خوش خبری دے دو۔ اس دن اس مال پر دوزخ کی آگ دہکائی جائے گی۔ پھر اس سے ان کی پیشانیاں اور ان کے پہلو اور ان کی پیٹھیں داغی جائیں گی۔ یہی ہے وہ جس کو تم نے اپنے واسطے جمع پس اب چکھو جو تم جمع کرتے رہے۔ دوسرے کا مال لینے کا ایک طریقہ یہ ہے کہ اس کو حق کے مطابق لیا جائے۔ یعنی آدمی دوسرے کی کوئی واقعی خدمت کرے یا اس کو کوئی حقیقی نفع پہنچائے اور اس کے بدلے میں اس کا مال حاصل کرے۔ یہ بالکل جائز ہے۔ طریقے سے دوسرے کا مال لینا یہ ہے کہ دوسرے کو دھوکے میں ڈال کر اس کا مال حاصل کیا جائے۔ یہ دوسرا طریقہ ناجائز ہے اور خدا کے غضب کو بھڑکانے والا ہے۔
باطل طریقہ سے دوسرے کا مال کھانا وہی چیز ہے جس کو موجودہ زمانہ میں استغلال (Exploitation) کہا جاتا ہے۔ یہود کے اکابر بہت بڑے پیمانہ پر اپنے عوام کا مذہبی استغلال کر رہے تھے۔ وہ عوام میں ایسی جھوٹی کہانیاں پھیلائے ہوئے تھے جس کے نتیجہ میں لوگ بزرگوں سے غیر معمولی امیدیں وابستہ کریں اور پھر ان کو بزرگ سمجھ کر ان کی برکت لینے کے لئے آئیں اور انہیں ہدئے اور نذرانے پیش کریں۔ وہ خدا کے دین کی خدمت کے نام پر لوگوں سے رقیس وصول کرتے تھے حالاں کہ جو دین وہ لوگوں کے درمیان تقسیم کر رہے تھے وہ ان کا اپنا بنایا ہوا دین تھا نہ کہ حقیقتاً خدا کا اتارا وہ ملت یہود کے احبار کے نام پر بڑے بڑے چندے وصول کرتے تھے حالانکہ احبار ملت کے نام پر وہ جو کچھ کر رہے تھے وہ صرف یہ تھا کہ لوگوں کو خوش خیالیوں میں الجھا کر انھیں اپنی قیادت کے لئے استعمال کرتے رہیں۔ وہ تعویذ گنڈے میں پر اسرار اوصاف بتا کر ان کو لوگوں کے ہاتھوں فروخت کرتے تھے۔ حالاں کہ ان کا حال یہ تھا کہ خود اپنے نازک معاملات میں وہ کبھی ان تعویذ گنڈوں پر بھروسہ نہیں کرتے تھے۔
آدمی کے پاس جو مال آتا ہے اس کے دو ہی جائز مصرف ہیں۔ اپنی واقعی ضرورتوں میں خرچ کرنا ، اور جو کچھ واقعی ضرورت سے زائد ہو اس کو خدا کے راستہ میں دے دینا۔ اس کے علاوہ جو طریقے ہیں وہ سب آدمی کے لئے عذاب بننے والے ہیں۔ خواہ وہ اپنے مال کو فضول خرچیوں میں اڑاتا ہو یا اس کو جمع کر کے رکھ رہا ہو۔ جو لوگ یہود کی طرح خود ساختہ مذہب کی بنیاد پر کسی گروہ کے اوپر اپنی قیادت قائم کئے ہوئے ہوں اور خدا کے دین کے نام پر لوگوں کا استغلال کر رہے ہوں وہ کسی ایسی دعوت کو سخت ناپسند کرتے ہیں جو خدا کے سچے اور بے آمیز دین کو زندہ کرنا چاہتی ہو۔ ایسے دین میں انھیں اپنی مذہبی حیثیت بے اعتبار ہوتی نظر آتی ہے۔ انھیں دکھائی دیتا ہے کہ اگر اس کو عوام میں فروغ حاصل ہوا تو ان کی مذہبی تجارت بالکل بے نقاب ہو کر لوگوں کے سامنے آجائے گی۔ ایسی تحریک کے اٹھتے ہی اسے سونگھ لیتے ہیں اور اس کے مخالف بن کر کھڑے ہو جاتے ہیں۔
مہینوں کی گنتی اللہ کے نزدیک بارہ مہینے ہیں اللہ کی کتاب میں جس دن سے اس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا، ان میں سے چار حرمت والے ہیں۔ یہی ہے سیدھا دین۔ پس ان میں تم اپنے اوپر ظلم نہ کرو۔ اور مشرکوں سے سب مل کر لڑو جس طرح وہ سب مل کر تم سے لڑتے ہیں اور جان لو کہ اللہ متقیوں کے ساتھ ہے۔ مہینوں کا ہٹا دینا کفر میں ایک اضافہ ہے۔ اس سے کفر کرنے والے گمراہی میں ٹپڑے ہیں۔ وہ کسی سال حرام مہینہ کو حلال کر لیتے ہیں اور کسی سال اس کو حرام کر دیتے ہیں تاکہ خدا کے حرام کئے ہوئے کی گنتی پوری کر کے اس کے حرام کئے ہوئے کو حلال کر لیں۔ ان کے برے اعمال ان کے لئے خوش نما بنا دئے گئے ہیں۔ اور اللہ انکار کرنے والوں کو راستہ نہیں دکھاتا ۳۶-۳۷ دینی احکام پر ہر شخص الگ الگ بھی عمل کر سکتا ہے۔ مگر اللہ تعالیٰ کو یہ مطلوب ہے کہ تمام اہل ایمان ایک ساتھ ان پر عمل کریں تاکہ ان میں اجتماعیت پیدا ہو۔ اسی اجتماعیت کے مقصد کو حاصل کرنے کی خاطر عبادات کی ادائیگی کے لئے متعین اوقات اور تاریخیں مقرر کی گئی ہیں۔ یہ تاریخیں اگر شمسی کیلنڈر کے اعتبار سے رکھی جائیں تو ان کے زمانہ میں یکسانیت آجاتی۔ مثلاً روزہ ہمیشہ ایک موسم میں آتا اور حج ہمیشہ ایک موسم میں۔ مگر یکسانیت آدمی کے اندر جمود پیدا کرتی ہے اور تبدیلی سے نئی قوت عمل بیدار ہوتی ہے۔ اس بنا پر دینی امور کے اجتماعی نظام کے لئے چاند کا قدرتی کیلنڈر اختیار کیا گیا۔
اسی اصول کی وجہ سے حج کی تاریخیں مختلف موسموں میں آتی ہیں، کبھی سردیوں میں اور کبھی گرمیوں میں۔ قدیم زمانہ میں جب کہ حج کا اجتماع زبردست تجارتی اہمیت رکھتا تھا، مختلف موسموں میں حج کا آنا تجارتی اعتبار سے مضر معلوم ہوا۔ اہل عرب کو دینی مصلحتوں کے مقابلہ میں دنیوی مصلحتیں زیادہ اہم نظر آئیں۔ انھوں نے چاہا کہ ایسی صورت اختیار کریں کہ حج کی تاریخ ہمیشہ ایک ہی موافق موسم میں پڑے۔ اس موقع پر یہود و نصاریٰ کا کلیسہ کا حساب ان کے علم میں آیا۔ اپنی خواہشوں کے عین مطابق ہونے کی وجہ سے وہ ان کو پسند آ گیا اور انھوں نے اس کو اپنے یہاں رائج کر لیا۔ یعنی مہینوں کو ہٹا کر ایک کی جگہ دوسرے کورکھ دینا۔ مثلاً محرم کو صفر کی جگہ کر دینا اور صفر کو محرم کی جگہ۔ نسی کے اس طریقہ سے اہل عرب کو دو فائدے ہوئے۔ ایک یہ کہ حج کے موسم کو تجارتی تقاضے کے مطابق کر لینا ۔ دوسرے یہ کہ حرام مہینوں (محرم، رجب، ذوالقعدہ، ذوالحجہ) میں کسی کے خلاف لڑائی چھیڑ نا ہو تو حرام مہینہ کی جگہ غیر حرام مہینہ رکھ کر لڑائی کو جائز کر لینا۔ اہل عرب کے سامنے حضرت ابراہیم کا طریقہ بھی تھا۔ مگر ان کے ذہن پر چونکہ تجارتی مقاصد اور قبائلی تقاضوں کا غلبہ تھا، اس لئے ان کو نسئی کا طریقہ زیادہ اچھا معلوم ہوا اور انھوں نے اپنے معاملات کے لئے اس کو اختیار کر لیا۔
"تم بھی مل کر لڑ و جس طرح وہ مل کر لڑتے ہیں" اس کا مطلب یہ ہے کہ کافر لوگ خدا سے بے خوفی پر متحد ہو جاتے ہیں، تم خدا سے خوف (تقوی) پر متحد ہو جاؤ۔ وہ منفی مقاصد کے لئے باہم جڑ جاتے ہیں تم مثبت مقاصد کے لئے آپس میں جڑ جاؤ۔ وہ دنیا کی خاطر ایک ہو جاتے ہیں تم آخرت کی خاطر ایک ہو جاؤ۔
اے ایمان والو، تم کو کیا ہو گیا ہے کہ جب تم سے کہا جاتا ہے کہ اللہ کی راہ میں نکلو تو تم زمین سے لگ جاتے ہو۔ آخرت کے مقابلہ میں دنیا کی زندگی پر راضی ہو گئے۔ آخرت کے مقابلہ میں دنیا کی زندگی کا سامان تو بہت تھوڑا ہے۔ اگر تم نہ نکلو گے تو خدا تم کو دود ناک سزا دے گا اور تمھاری جگہ دوسری قوم لے آئے گا اور تم خدا کا کچھ بھی نہ بگاڑ سکو گے۔ اور خدا ہر چیز پر قادر ہے۔ اگر تم رسول کی مدد نہ کرو گے تو اللہ خود اس کی مدد کر چکا ہے جب کہ کافروں نے اس کو نکال دیا تھا، وہ صرف دو میں کا دوسرا تھا۔ جب وہ دونوں غار میں تھے۔ جب وہ اپنے ساتھی سے کہہ رہا تھا کہ غم نہ کرو، اللہ ہمارے ساتھ ہے۔ پس اللہ نے اس پر اپنی سکینت نازل فرمائی اور اس کی مدد ایسے لشکروں سے کی جو تم کو نظر نہ آتے تھے اور اللہ نے کافروں کی بات نیچی کر دی اور اللہ ہی کی بات تو اونچی ہے اور اللہ زبردست ہے حکمت والا ہے ۔ ۴۰ - ۳۸ یہ آیتیں غزوہ تبوک (۹ھ) کے ذیل میں اتریں۔ اس موقع پر مدینہ کے منافقین کی طرف سے جو عمل ظاہر ہوا اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ کمزور ایمان والے لوگ جب کسی اسلامی معاشرہ میں داخل ہوجاتے ہیں تو نازک مواقع پر ان کا کردار کیا ہوتا ہے۔
اصل یہ ہے کہ اسلام سے تعلق کے دو درجے ہیں۔ ایک یہ کہ اسی سے آدمی کی تمام وفاداریاں وابستہ ہو جائیں۔ وہ آدمی کے لئے زندگی و موت کا مسئلہ بن جائے۔ دوسرے یہ کہ آدمی کی حقیقی دلچسپیاں تو کہیں اور اٹکی ہوئی ہوں اور اوپر ہی طور پر وہ اسلام کا اقرار کر لے۔ پہلی قسم کے لوگ سچے مومن ہیں اور دوسری قسم کے لوگ وہ ہیں جن کو شریعت کی اصطلاح میں منافق کہا گیا ہے۔ مومن کا حال یہ ہوتا ہے کہ عام حالات میں بھی وہ اسلام کو پکڑے ہوئے ہوتا ہے اور قربانی کے لمحات میں بھی وہ پوری طرح اس پر قائم رہتا ہے۔ اس کے برعکس منافق کا حال یہ ہوتا ہے کہ وہ بے ضرر اسلام یا نمائشی دینداری میں تو بہت آگے دکھائی دیتا ہے۔ مگر جب قربانی کی سطح پر اسلام کے تقاضوں کو اختیار کرنا ہو تو وہ پیچھے ہٹ جاتا ہے۔
اس فرق کی وجہ یہ ہے کہ مومن کے سامنے اصلاً آخرت ہوتی ہے اور منافق کے سامنے اصلاً دنیا۔ مومن آخرت کی بے پایاں نعمتوں کے مقابلہ میں دنیا کی کوئی قیمت نہیں سمجھتا، اس لئے جب بھی دنیا کی چیزوں میں سے کوئی چیز اس کے راستہ میں حائل ہو تو وہ اس کو نظر انداز کر کے دین کی طرف بڑھ جاتا ہے۔ اس کے برعکس منافق ایسے اسلام کو پسند کرتا ہے جس میں دنیا کو بگاڑے بغیر اسلامیت کا کریڈٹ مل رہا ہو۔ اس لئے جب ایسا موقع آتا ہے کہ دنیا کو کھو کر اسلام کو پانا ہو تو وہ دنیا کی طرف جھک جاتا ہے، خواہ اس کے نتیجہ میں اسلام کی رسی اس کے ہاتھ سے نکل جائے۔ اسلام اور غیر اسلام کی مکش مکش کے جو لمحات موجودہ دنیا میں آتے ہیں وہ بظاہر دیکھنے والوں کو اگر چہ در انسانی گروہوں کی کش کش دکھائی دیتی ہے مگر اپنی حقیقت کے اعتبار سے یہ ایک خدائی معاملہ ہوتا ہے۔ موقع پر خود خدا اسلام کی طرف سے کھڑا ہوتا ہے۔ ایسے کسی واقعہ کو اسباب کے روپ میں اس لئے ظاہر کیا جاتا ہے تاکہ ان لوگوں کو خدمت دین کا کریڈٹ دیا جائے جو اپنے آپ کو پوری طرح خدا کے حوالے کر چکے ہیں۔
ہلکے اور بوجھل اور اپنے مال اور اپنی جان سے اللہ کی راہ میں جہاد کرو، یہ تمھارے لئے بہتر ہے اگر تم جانو۔ قریب ہوتا اور سفر ہلکا ہوتا تو وہ ضرور تمھارے پیچھے ہو لیتے مگر یہ منزل ان پر کٹھن ہوگئی۔ اب وہ قسمیں کھائیں گے کہ اگر ہم سے ہو سکتا تو ہم ضرور تمھارے ساتھ چلتے۔ وہ اپنے آپ کو ہلاکت میں ڈال رہے ہیں۔ اور اللہ جانتا ہے کہ یہ لوگ یقیناً جھوٹے ہیں۔ مدینہ کے جن لوگوں کو منافقت کہا گیا وہ کوئی جاسوس نہ تھے بلکہ کمزور عقیدہ کے مسلمان تھے۔ اسلام کو حق سمجھ کر اس کا اقرار کیا تھا۔ وہ اسلام کی ان تمام تعلیمات پر عمل کرتے تھے جو ان کی دنیوی مصلحتوں کے خلاف نہ ہوں۔ مگر جب اسلام کا تقاضا ان کے دنیوی تقاضوں سے ٹکراتا تو ایسے موقع پر وہ اسلامی تقاضے کو چھوڑ کر اپنے دنیوی تقاضے کو پکڑ لیتے۔ مدینہ کے معاشرہ میں مومن اس شخص کا نام تھا جو قربانی کی سطح پر اسلام کو اختیار کئے ہوئے ہو اور منافق وہ تھا جو اسلام کی خاطر قربانی کی حد تک جانے کے لئے تیار نہ ہو۔ تبوک کا معاملہ ایک علامتی تصویر ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ خدا کی نظر میں مومن کون ہوتا ہے اور منافق اس موقع پر روم جیسی بڑی اور منظم طاقت سے مقابلہ کے لئے نکلنا تھا۔ زمانہ شدید گرمی کا تھا فصل بالکل کاٹنے کے قریب پہنچ چکی تھی ۔ ہر قسم کی ناساز گاری کا مقابلہ کرتے ہوئے شام کی دور دراز سرحد پر پہنچنا تھا۔ مسلمانوں میں کچھ سامان والے تھے اور کچھ بے سامان والے۔ کچھ آزاد تھے اور کچھ اپنے حالات میں گھرے ہوئے تھے۔ مگر حکم ہوا کہ ہر حال میں نکلو، کسی بھی چیز کو اپنے لئے عذر نہ بناؤ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ خدا کے یہاں اصل مسئلہ مقدار کا نہیں ہوتا بلکہ یہ ہوتا ہے کہ آدمی کے پاس جو کچھ بھی ہے وہ اس کو پیش کر دے۔ یہی در اصل جنت کی قیمت ہے، خواہ وہ بظاہر دیکھنے والوں کے نزدیک کتنی ہی کم کیوں نہ ہو۔
منافق کی خاص پہچان یہ ہے کہ اگر وہ دیکھتا ہے کہ یہ مشقت سفر کر کے خدمتِ اسلام کا ایک بڑا کریڈٹ مل رہا ہے تو وہ فوراً ایسے سفر کے لئے تیار ہو جاتا ہے۔ اس کے برعکس اگر ایسا سفر در پیش ہو جس میں مشقتیں ہوں اور سب کچھ کر کے بھی بظاہر کوئی عزت اور کامیابی ملنے والی نہ ہو تو ایسی دینی مہم کے لئے اس کے اندر رغبت پیدا نہیں ہوتی۔
ایک حقیقی دینی مہم سامنے ہو اور آدمی عذرات پیش کر کے اس سے الگ رہنا چاہے تو یہ صاف طور پر اس بات کا ثبوت ہے کہ آدمی نے خدا کے دین کو اپنی زندگی میں سب سے اونچا مقام نہیں دیا ہے۔ پیش کرنے کا مطلب ہی یہ ہے کہ پیش نظر مقصد کے مقابلہ میں کوئی اور چیز آدمی کے نزدیک زیادہ اہمیت رکھتی ظاہر ہے کہ ایسا عذر کسی آدمی کو خدا کی نظر میں بے اعتبار ثابت کرنے والا ہے نہ یہ کہ اس کی بنا پر اس کو مقبولین کی فہرست میں شامل کیا جائے۔ منافق دراصل خدا سے بے پروا ہو کر بندوں کی پروا کرنا ہے۔ خدا کی قدرت کو جان لے تو وہ کبھی ایسا نہ کرے ۔
اللہ تم کو معاف کرے، تم نے کیوں انہیں اجازت دے دی۔ یہاں تک کہ تم پر کھل جاتا کہ کون لوگ سچے ہیں اور جھوٹوں کو بھی تم جان لیتے۔ جو لوگ اللہ پر اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتے ہیں وہ کبھی تم سے یہ درخواست نہ کریں گے کہ وہ اپنے مال اور اپنی جان سے جہاد نہ کریں اور اللہ ڈرنے والوں کو خوب جانتا ہے۔ تم سے اجازت تو وہی لوگ مانگتے ہیں جو اللہ پر اور آخرت کے دن پر ایمان نہیں رکھتے اور ان کے دل شک میں پڑے ہوئے ہیں۔ پس وہ اپنے شک میں بھٹک رہے ہیں۔ اور اگر وہ نکلنا چاہتے تو ضرور وہ اس کا کچھ سامان کر لیتے ۔ مگر اللہ نے ان کا اٹھنا پسند نہ کیا ، اس لئے انہیں جما دیا اور کہہ دیا گیا کہ بیٹھنے والوں کے ساتھ بیٹھے رہو ۴۳ - ۴۴ ۔ منافق وہ ہے جو اسلام کے نفع بخش یا بے ضرر پہلوؤں میں آگے آگے رہے مگر جب اس کے مفادات پر زد پڑتی نظر آئے تو وہ پیچھے ہٹ جائے۔ ایسے مواقع پر اس قسم کے کمزور لوگ جس چیز کا سہارا لیتے ہیں وہ عذر وہ اپنی بے عملی کو خوبصورت توجیہات میں چھپانے کی کوشش کرتے ہیں۔ مسلمانوں کا سربراہ اگر اجتماعی مصالح کے پیش نظر ان کے عذر کو قبول کر لے تو وہ خوش ہوتے ہیں کہ انھوں نے اپنے الفاظ کے پردے میں نہایت کامیابی کے ساتھ اپنی بے عملی کو چھپالیا۔ مگر وہ بھول جاتے ہیں کہ اصل معاملہ انسان سے نہیں بلکہ خدا اور وہ ہر آدمی کی حقیقت کو اچھی طرح جانتا ہے۔ خدا ایسے لوگوں کا راز کبھی دنیا میں کھول دیتا ہے اور آخرت میں تو بہر حال ہر ایک کا راز کھولا جانے والا ہے۔
کسی کا لڑکا بیمار ہو یا کسی کی لڑکی کی شادی ہو تو اس وقت وہ اپنے آپ کو اور اپنے مال کو اس سے بچا کر نہیں رکھتا۔ اس کی زندگی اور اس کا مال تو اسی لئے ہے کہ ایسا کوئی موقع آئے تو وہ اپنا سب کچھ نثار کر کے ان کے کام آ سکے۔ ایسا کوئی وقت اس کے لئے بڑھ کر قربانی دینے کا ہوتا ہے نہ کہ عذرات کی آڑ تلاش یہی معاملہ دین کا بھی ہے۔ جو شخص اپنے دین میں سنجیدہ ہو وہ دین کے لئے قربانی کا موقع آنے پر کبھی عذر تلاش نہیں کرے گا۔ اس کے سینہ میں جو ایمانی جذبات بے قرار تھے وہ تو گویا اسی دن کے انتظار میں تھے کہ جب کوئی موقع آئے تو وہ اپنے آپ کو نثار کر کے خدا کی نظر میں اپنے کو وفادار ثابت کر سکے۔ پھر ایسا موقع پیش آنے پر عذر کا سہارا کیوں ڈھونڈے گا۔
مومن خدا سے ڈرنے والا ہوتا ہے اور ڈر کا جذبہ آدمی کے اندر سب سے زیادہ قوی جذبہ ہے۔ ڈر کا جذبہ دوسرے تمام جذبات پر غالب آ جاتا ہے۔ جس چیز سے آدمی کو ڈر اور اندیشہ کا تعلق ہو اس کے بارے میں وہ آخری حد تک سنجیدہ اور حقیقت پسند ہو جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب کوئی شخص ڈر کی سطح پر خدا کا مومن بن جائے تو اس کو یہ سمجھنے میں دیر نہیں لگتی کہ کس موقع پر اسے کس قسم کا رد عمل پیش کرنا چاہئے۔ آخرت کا نفع سامنے نہ ہونے کی وجہ سے آدمی اس کے لئے قربانی دینے میں شک میں پڑ جاتا ہے۔ مگر اس شک کے پردہ کو پھاڑنا ہی اس دنیا میں آدمی کا اصل امتحان ہے۔
اگر یہ لوگ تمھارے ساتھ نکلتے تو وہ تمھارے لئے خرابی ہی بڑھانے کا باعث بنتے اور وہ تمھارے درمیان فتنہ پردازی کے لئے دوڑ دھوپ کرتے اور تم میں ان کی سننے والے ہیں اور اللہ ظالموں سے خوب واقف ہے۔ یہ پہلے بھی فتنہ کی کوشش کر چکے ہیں اور وہ تمھارے لئے کاموں کا الٹ پھیر کرتے رہے ہیں۔ یہاں تک کہ حق آگیا اور اللہ کا حکم ظاہر ہو گیا اور وہ ناخوش ہی رہے۔
دین کو اختیار کرنا ایک مخلصانہ ہوتا ہے اور دوسرا منافقانہ ، مخلصانہ طور پر دین کو اختیار کرنا یہ ہے کہ دین کے مسئلہ کو آدمی اپنی زندگی کا مسئلہ بنائے ، اپنی زندگی اور اپنے مال پر وہ سب سے زیادہ دین کا حق سمجھے۔ اس کے برعکس منافقانہ طور پر دین کو اختیار کرنا یہ ہے کہ دین سے بس رسمی اور ظاہری تعلق رکھا جائے ۔ آدمی اپنی زندگی میں یہ مقام نہ دے کہ اس کے لئے وہ وقف ہو جائے اور ہر قسم کے نقصان کا خطرہ مول لے کر اس کی راہ میں آگے بڑھے۔
اپنی غلطی کو ماننا اپنے کو دوسرے کے مقابلہ میں کمتر تسلیم کرنا ہے اور اس قسم کا اعتراف کسی آدمی کے لئے مشکل ترین کام ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آدمی ہمیشہ اس کوشش میں رہتا ہے کہ کسی نہ کسی طرح اپنے موقف کو صحیح ثابت کر دے۔ چنانچہ منافقانہ طور پر اسلام کو اختیار کرنے والے ہمیشہ اس تلاش میں رہتے ہیں کہ کوئی موقع ملے تو مخلص مومنوں کو مطعون کریں اور ان کے مقابلہ میں اپنے آپ کو زیادہ درست ثابت کر سکیں۔ مدینہ کے منافقین مسلسل اس کوشش میں رہتے تھے۔ مثلاً غزوہ احد میں مسلمانوں کو شکست ہوئی تو مدینہ میں بیٹھ رہنے والے منافقین نے رسول اللہ ﷺ کے خلاف یہ پروپیگنڈا شروع کر دیا کہ ان کو معاملات جنگ کا تجربہ انھوں نے جوش کے تحت اقدام کیا اور ہماری قوم کے جوانوں کو غلط مقام پر لے جا کر خواہ مخواہ کٹوا دیا انسانوں میں کم لوگ ایسے ہوتے ہیں جو مسائل کا گہرا تجزیہ کر سکیں اور اس حقیقت کو جانیں کہ کسی بات کا قواعد زبان کے اعتبار سے صحیح الفاظ میں ڈھل جانا اس کا کافی ثبوت نہیں ہے کہ وہ بات معنی کے اعتبار سے بھی بیشتر لوگ سادہ فکر کے ہوتے ہیں اور کوئی بات خوبصورت الفاظ میں کہی جائے تو بہت جلد اس سے متاثر ہو جاتے ہیں۔ اس بنا پر کسی مسلم گروہ میں منافق قسم کے افراد کی موجودگی ہمیشہ اس گروہ کی کمزوری کا باعث یہ لوگ اپنے کو درست ثابت کرنے کی کوشش میں اکثر ایسا کرتے ہیں کہ باتوں کو غلط رخ دے کر ان کو اپنے مفید مطلب رنگ میں بیان کرتے ہیں۔ اس سے سادہ فکر کے لوگ متاثر ہو جاتے ہیں اور ان کے اندر غیر ضروری طور پر شبہ اور بے یقینی کی کیفیت پیدا ہونے لگتی ہے۔
منافقین کی مخالفانہ کوششوں کے باوجود جب بدر کی فتح ہوئی تو عبد اللہ بن ابی اور اس کے ساتھیوں نے کہا: انّ هذا امر قد توجّه یعنی یہ چیز تو اب چل نکلی۔ اسلام کا غلبہ ظاہر ہونے کے بعد انہیں اسلام کی صداقت پر یقین کرنا چاہئے تھا مگر اس وقت بھی انھوں نے اس سے حسد کی غذا لی۔