وَرَاقِ لِيَرْقَى فِي جِدَارِ وَنَازِلِ
Al-Risala, December 1981, p. 42
By Maulana Wahiduddin Khan
(وہ حرار پر چڑھنے والے ہیں اور پھر اس سے اترنے والے ہیں)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اندر جب حقیقت کی تلاش کا جذبہ ابھرا تو آپ کا یہ حال ہوا کہ انسانی بستیوں سے نکل کر آپ پہاڑی علاقوں میں چلے جاتے ۔ یہ گویا ایک صالح روح کا واقعات انسانی کا ماحول چھوڑ کر واقعات خداوندی کے ماحول میں جانا تھا ـــــ صحرائی جغرافیہ خصوصیت سے اس کام کے لئے موزوں ترین جگہ ہوتی ہے۔
رومانیہ کے مستشرق کونستان ورشریل جارج (1916ء) نے اسلام کے جغرافیہ کو سمجھنے کے لئے خود عرب کا سفر کیا تھا۔ وہ اپنی کتاب ” پیغمبر اسلام “ میں لکھتے ہیں :
جب تک کوئی انسان عرب اور مشرق کے جنگلوں میں ایک مدت نہ گزارے، وہ اس کو سمجھ ہی نہیں سکتا کہ صحرا کی وسعت اور اس کا سکوت کس طرح فکر انسانی کی وسعت کا سبب ہوتا ہے اور خیال کو تقویت عرب کی گھاس اور یورپ کی گھاس میں بہت فرق ہے۔ گرم جنگلوں میں کوئی گھاس ایسی نہیں جس میں خوشبو نہ ہو ۔ یہاں تک کہ عرب جنگلوں کے پھول بھی خوشبو دار ہیں ۔ ٣٠ لاکھ کلومیٹر والاسطح جنگل اور گرم عربستان ایسی جگہ ہے جہاں انسان گویا بلا واسطہ خدا تک پہنچ جاتا ہے ۔
دوسرے ملک ایسی عمارت کے مثل ہیں جن کے درمیان بڑی بڑی دیواریں حائل ہیں۔ مگر عرب کے جنگلوں میں ایسا کوئی مانع نہیں جو دیدارِ حق کو روک سکے لوگ جس طرف بھی نظر ڈالتے ہیں، لامحدود جنگل اور بے کنار آسمان انھیں دکھائی دیتا ہے۔ یہاں خدا اور فرشتوں کی شناسائی کے لئے کوئی چیز مانع نہیں۔