Al-Risala · February 1981

ایک کے بعد دوسرا

Al-Risala, February 1981, pp. 8–4

By Maulana Wahiduddin Khan

مسافر اسٹیشن پر پہنچا تو معلوم ہوا کہ اس کی ٹرین جا چکی ہے۔ اس کی گھڑی صحیح نہ تھی اس لئے وہ دس منٹ لیٹ ہو گیا۔ اتنی دیر میں ٹرین آکر چلی گئی ۔ "بابو جی، فکر نہ کیجئے" قلی نے کہا دو گھنٹے بعد ایک اور گاڑی آ رہی ہے، اس سے آپ چلے جائیں ۔ اتنی دیر پلیٹ فارم پر آرام کر لیجئے ۔ " مسافر نے قلی کا مشورہ مان لیا اور دو گھنٹہ انتظار کے بعد اگلی ٹرین پر سوار ہو کر اپنی منزل کی طرف روانہ ہو گیا۔ ہر مسافر جانتا ہے کہ ایک ٹرین چھوٹ جائے تو جلد ہی بعد دوسری ٹرین مل جاتی ہے جس سے وہ اپنا سفر جاری رکھ سکے۔ یہ پلیٹ فارم کا سبق ہے۔ مگر اکثر لوگ اس معلوم سبق کو اس وقت بھول جاتے ہیں جب کہ زندگی کی دوڑ میں ایک موقع ان کے ہاتھ سے نکل گیا ہو۔ پہلی بار ناکامی سے دوچار ہونے کے بعد وہ مایوس ہو جاتے ہیں یا احتجاج و فریاد کے مشغلہ میں لگ جاتے ہیں۔ حالاں کہ صحیح بات یہ ہے کہ وہ اپنے مقصد کے لئے نیا منصوبہ بنائیں، وہ "اگلی ٹرین" سے چل کر اپنی منزل پر پہنچ جائیں۔ ایک شخص جس سے آپ کی مخالفت ہو گئی ہو اور ٹکراؤ کا طریقہ جس کو ”درست“ کرنے میں ناکام ثابت ہوا ہو، آپ اس کے بارے میں اپنا رویہ بدل دیجئے۔ اس کو نرمی کے طریقہ سے متاثر کرنے کی کوشش عین ممکن ہے کہ پرانے طریقے نے جس کو آپ کا دشمن بنا رکھا تھا، نئے طریقہ کے بعد وہ آپ کا ایک کارآمد دوست ثابت ہو۔ آپ کہیں ملازم ہیں اور وہاں آپ کی ملازمت ختم کر دی جاتی ہے۔ آپ اس کے پیچھے نہ پڑئے بلکہ دوسرے کسی میدان میں اپنے لئے ذریعہ معاش تلاش کرنے کی کوشش کیجئے ۔ ہو سکتا ہے کہ نیا کام آپ کے لئے پہلے سے زیادہ نفع بخش ثابت ہو۔ کوئی آپ کا حق نہیں دیتا۔ اس سے آپ کی لڑائی شروع ہو جاتی ہے۔ سالوں گزر جاتے ہیں اور آپ اپنے حقوق کو حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہوتے۔ آپ اس کا خیال چھوڑ دیجئے اور اپنی محنت پر بھروسہ کیجئے۔ بہت ممکن ہے کہ اپنی محنت کو کام میں لا کر آپ خود وہ چیز حاصل کر لیں جس کو آپ دوسروں سے مانگ کر پانا چاہتے تھے۔

زندگی کے بیشتر مسائل تنگ نظری کی وجہ سے پیدا ہوتے ہیں۔ اگر آدمی اپنے ذہن میں وسعت پیدا کرلے تو اس کو معلوم ہو کہ یہاں سفر کے لئے ایک سے زیادہ "گاڑیاں" موجود ہیں۔ جو چیز وہ مقابلہ آرائی کے ذریعہ حاصل نہ کر سکا اس کو وہ باہمی جوڑ کے ذریعہ حاصل کر سکتا تھا۔ جہاں حقوق طلبی کا طریقہ مقصد تک پہنچانے میں ناکام رہا وہاں وہ محنت کا طریقہ اختیار کر کے اپنی منزل تک پہنچ سکتا تھا۔ جن لوگوں کی باتوں پر مشتعل ہو کر وہ ان پر قابو نہ پا سکا، وہ ان کی باتوں پر صبر کر کے انھیں جیت سکتا تھا ۔

پندرھویں صدی میں مولانا وحید الدین خاں جمعیۃ بلڈنگ قاسم جان اسٹریٹ دہلی ۶

کوہستان پبلیکیشنز گلی شاہ کمال، چوک نگران، لاہور برکت سے یہ بہتر بات ہے ۔ سال اشاعت ۱۹۸۱ قیمت دو روپے

آفست پرنٹرز دہلی

ایک واقعہ دو انجام یورپ نے مسلمانوں سے ترقی کا سبق سیکھا اور مسلمانوں نے یورپ سے تقلید کا اسلام اور سائنس سائنس اسلامی انقلاب کے اثر سے پیدا ہوئی ، سائنس کا مسلم دنیا سے علیحدہ ہونا ، سائنس کے معاملہ میں موجودہ مسلمانوں کی غفلت اسلام میں سائنس کی اہمیت اسلام کیا ہے، جنت کی حقیقت ، مومنانہ زندگی ، اسلامی دعوت، اسلامی انقلاب کیسے آتا ہے ، پیغمبر کا کام، فتنة کی حالت کو ختم کرنا ، اسلامی انقلاب کے اثرات کا مسلم دنیا سے مغربی دنیا میں پہنچنا، دور جدید کے انقلاب کی اسلامی اہمیت، مغرب کا غلبہ مسلم دنیا پر سیاسی انقلاب کی نوعیت مسلم دنیا میں سیاسی رد عمل، کرنے کا کام

پہلی صدی ہجری میں اسلام کا مقابلہ شرک سے پیش آیا تھا، چودھویں صدی ہجری میں اسلام کا مقابلہ الحاد سے پیش آیا۔ تاریخ بتاتی ہے کہ پہلے مرحلہ میں صرف چوتھائی صدی کی کوششوں سے نظام شرک کی جڑ اکھڑ گئی۔ بعد ایسا انقلاب آیا جس کے اثرات تقریباً ایک ہزار سال تک پوری قوت کے ساتھ باقی رہے۔ اس کے برعکس دوسرے مرحلہ میں بے پناہ کوشش کرنے کے بعد بھی نتیجہ بالکل صفر رہا۔ دور الحاد میں جدوجہد اور قربانی کی غیر معمولی مقدار پیش کرنے کے باوجود وہ کامیابی حاصل نہ ہوسکی جو دور شرک میں اس کو حاصل ہوئی تھی۔

اس کی وجہ کیا ہے۔ کیا اسلام اب ایک ختم شوہ طاقت (Spent Force) ہے۔ کیا موجودہ دور میں اسلام اپنی دہ فکری اہمیت کھو چکا ہے جو قدیم دور میں اس کو حاصل تھی۔ اس سوال کا جواب یقینی طور پر نفی میں ہے۔ تک کا دین ہے اور اسلام کے لئے کائنات کے مالک نے مقدر کر دیا ہے کہ وہ غالب رہے (الاسلام يعلو ولا يعلی علیہ) اس لئے اسلام نہ اپنی نظریاتی معنویت کو کبھی کھو سکتا اور نہ ہی ممکن ہے کہ اس کو سر بلند کرنے کی مطلوبہ جدوجہد کی جائے اس کے باوجود اس کو سر بلندی حاصل نہ ہو۔

اصل یہ ہے کہ یہ امتحان کی دنیا ہے۔ یہاں خدا نے مختلف قسم کے لوگوں کو یکساں طور پر اپنا کام کرنے کا موقع دیا ہے۔ یہاں خود خدا کی مقررہ سنت کے مطابق یہ واقعہ پیش آتا ہے کہ ایک گروہ دوسرے گروہ کا دشمن بنتا ہے۔ ایک طبقہ دوسرے طبقہ کو گرا کر آگے بڑھ جانا چاہتا ہے (بعضكم لبعض عدو) اس لئے موجودہ دنیا میں کسی کی کامیابی کا مطلب یہ ہے کہ وہ اپنے ماحول میں کام کرنے والی دوسری قوتوں کو سمجھے، ان کے مخالفانہ منصوبوں کو نا کام بنا کر اپنے لئے راستہ اس دنیا میں کبھی کسی کو خالی میدان نہیں مل سکتا جس میں وہ بے روک ٹوک مارچ کرتا ہوا چلا جائے ۔ مخالفت قوتوں کو نا کام بنا کر غالب آنے کی صراط مستقیم (فتح) خدا نے اپنی کتاب میں واضح طور پر بتادی ہے اور رسول کی سنت میں اس کا کامل عملی نمونہ موجود ہے۔ جس طرح زراعت کے بارے میں قوانین قدرت کی پابندی کر کے فصل اگائی جاتی ہے اسی طرح یہ بالکل ممکن ہے کہ اس صراط مستقیم کی پیروی کر کے تمام مخالف سازشوں کو ناکام بنا دیا جائے اور اسلام کو غلبہ کا وہ مقام دلا دیا جائے جو ازل سے اس کے لئے مقدر ہو چکا ہے۔

اس صراط مستقیم کا خلاصہ یہ ہے کہ تحریک کو خالص مثبت بنیادوں پر اٹھایا جائے ۔ مخالفین کے قسم کے اشتعال کے با وجود اہل اسلام کا سکینہ (تحمل) برہم نہ ہو۔ ان کی خدا پرستی اس بات کی یقینی ضمانت بن جائے کہ وہ کسی حال میں حمیت جاہلیہ کا جواب حمیت جاہلیہ سے نہ دیں گے بلکہ ہمیشہ تقویٰ کی روش پر قائم رہیں گے (فتح ۲۶) موجودہ زمانہ میں اسلام کی سر بلندی کی جدوجہد کے کامیاب نہ ہونے کی وجہ یہ ہے کہ اس کو خدا کی مقرر کردہ صراط مستقیم پر نہیں چلایا گیا بلکہ خود ساختہ راہوں پر چلایا گیا۔ اور خدا کی دنیا میں خدا ہی کی صراط مستقیم پر چل کر کامیابی ممکن ہے۔ کسی اور راہ پر دوڑنے والا یہاں کبھی منزل تک نہیں پہنچ سکتا۔

Printed page