ایک واقعہ دو انجام
Al-Risala, February 1981, pp. 5–7
By Maulana Wahiduddin Khan
تیرھویں صدی عیسوی میں جب کہ مسلمان سیاسی طاقت، تمدنی ترقی اور علوم و فنون میں دنیا کی تمام قوموں سے بڑھے ہوئے تھے۔ یورپ نے طے کیا کہ اس کو عربی پڑھنی ہے اور مسلمانوں کے علوم سیکھنے ہیں۔ تھا، جو سولھویں صدی کے اس عظیم واقعہ کا سبب بنا جس کو دنیا یورپ کی نشاة ثانیہ (Renaissance) کے نام سے جانتی ہے۔ مسلمانوں کے علوم سیکھ کر اور ان میں اضافہ کر کے بالآخر یورپ اتنا طاقت ور ہو گیا کہ نہ صرف مسلمانوں پر بلکہ ساری دنیا پر چھا گیا۔
اس واقعہ کے چار سو برس بعد یہی صورت حال برعکس شکل میں مسلمانوں کے سامنے تھی۔ دیکھا کہ یورپ سیاست و تمدن اور علوم و فنون میں سب سے آگے بڑھ گیا ہے۔ ان کے اندر یہ رجحان ابھرا کہ وہ یورپی زبانیں سیکھیں اور یورپ کے علوم کو حاصل کریں۔ مگر یہاں نتیجہ برعکس نکلا۔ یورپی طرز کی تعلیم نے ہم کو یورپ کا ذہنی غلام بنا دیا۔ ہم اپنے علیحدہ قومی وجود کو بھول کر یورپ کے رنگ میں رنگ گئے۔ ایک ہی نوعیت کے دو واقعات میں انجام کا یہ فرق کیوں ہے۔ اس کا جواب ذہنیت کے اس فرق میں ہے جو دونوں جگہ پایا جاتا ہے۔ یورپ نے ہمارے علوم کو اس جذبہ کے تحت سیکھا تھا کہ وہ ہمارے ہتھیاروں سے ہم کو شکست دے سکے۔ اس کے برعکس ہم یورپی علوم کی طرف اس لئے بڑھے کہ ہم اس کے نقال بن کر اس کی نظروں میں باعزت ہو جائیں۔ اور جہاں ذہنیت میں اس قسم کا فرق پایا جائے وہاں انجام میں فرق پایا جانا لازمی ہے۔ مسلمانوں کو ایک ہزار سال تک دنیا میں وہی حیثیت حاصل رہی ہے جو آج روس یا امریکہ کو حاصل ہے۔ اس وقت جب کہ یورپ پر ابھی قرونِ مظلمہ (Dark Ages) کا اندھیرا چھایا ہوا تھا، عرب مسلمان ایک شان دار تہذیب کو وجود میں لا چکے تھے۔ اور اپنی تحقیقات اور یونانی اور دوسرے علوم کے ترجموں کی مدد سے سائنس اور فلسفہ میں دنیا کی امامت کر رہے تھے، اس وقت مسلمان ساری دنیا میں علم اور تہذیب کے تنہا مالک تھے۔ زبان دنیا کی واحد علمی زبان تھی اور ساری دنیا کے لوگ علوم و فنون کے اکتساب کے لئے مسلم مرکزوں (دمشق، بغداد، قرطبہ، غرناطہ) کا اسی طرح سفر کرتے تھے جیسے آج لوگ اعلیٰ تعلیم کے لئے یورپ اور امریکہ کے شہروں میں جاتے ہیں۔ بارھویں اور تیرھویں صدی میں جب کہ مسلمانوں کی طاقت عروج پر تھی اور وہ عرب سے بڑھتے بڑھتے فرانس تک پہنچ گئے تھے اس وقت یورپ نے مسلمانوں کے خلاف اپنی شدید ترین جنگ چھیڑ دی اور گیارھویں صدی کے آخر (۱۰۹۷) سے لے کر تیرھویں صدی کے آخر تک دو سو برس پورا یورپ مسلمانوں کے خلاف خوفناک جنگ لڑتا رہا۔ جنگ جو صلیبی لڑائیوں (Crusades) کے نام سے مشہور ہے، بالآخر یورپ کی مکمل ناکامی پر ختم ہوئی ۔ مگر یورپ نے ہمت نہیں ہاری۔ اب اس کے اندر ایک نیا رجحان ابھرا۔ صلیبی جنگوں کے درمیان اہل یورپ کو تجربہ ہو گیا تھا کہ مسلمان علم اور سائنس میں اُن سے بہت آگے ہیں۔ اس وقت کا تصور کیجئے جب مصری فوج نے منجنیقوں
کے ذریعہ فرانسیسی لشکر پر آگ کے بان پھینکنا شروع کئے ۔ یہ بان جب منجنیقوں سے نکل کر دشمن کی طرف بڑھتے تو ایسا نظر آتا جیسے بڑے بڑے آتشیں اڑرہے ہوں اڑ رہے ہوں۔ فرانسیسی، جن کے پاس اس وقت پرانے وتی ہتھیاروں کے سوا اور کچھ نہ تھا، ان کے لئے یہ بان ایسے ہی بھیانک تھے جیسے آج کسی پس ماندہ اور بے سرو سامان ملک پر جدید ترین راکٹوں کے ذریعہ حملہ کر دیا جائے۔ اسی طرح مسلمان تہذیب و تمدن کے تمام پہلوؤں میں نمایاں طور پر اہلِ یورپ سے بڑھے ہوئے تھے۔ چنانچہ صلیبی جنگوں کے ناکام تجربہ کے بعد یورپ نے فیصلہ کیا کہ مسلمانوں کو شکست دینے کے لئے اب اس کو دوسرے قسم کی جنگ چھیڑنی ہے، اور وہ یہ کہ مسلمانوں کے ہنر اور اُن کے علوم کو سیکھ کر اُنھیں کے ہتھیاروں سے انھیں شکست دی جائے۔
اب ایک طرف یورپ کے مذہبی طبقہ نے روحانی صلیبی جنگ (Spiritual Crusades) کا نعرہ دیا۔ کا مطلب یہ تھا کہ مسلمانوں کے مذہبی علوم کو سیکھا جائے۔ اور مسلمانوں کی تاریخ اور اُن کے عقائد کو اس طرح بگاڑ کر پیش کیا جائے کہ مسلمان اپنے دین سے متنفر ہو جائیں اور عیسائیت قبول کرلیں تاکہ وہ قوم جس کو فوجی میدان میں شکست نہیں دی جاسکی ہے، اس کو عددی حیثیت سے کمزور کرکے مغلوب کیا جاسکے۔ عیسائی مشنری تحریک پہلی بار صلیبی جنگوں کے زمانے میں شروع ہوئی۔ پہلا شخص جس نے ۱۱۱۵ء میں ماؤنٹ کارمل پر مشنری نظام قائم کیا وہ ایک صلیبی ہی تھا۔ بعد کو فرانسس کن (۱۲۱۹) نے اس کی پیروی کی۔ یہ مشنری تحریک آج ساری دنیا میں سب سے زیادہ طاقت ور تبلیغی ادارہ کی حیثیت سے کام کر رہی ہے۔ اس کی کوششیں اس حد تک کامیاب ہوئی ہیں کہ ساری دنیا کا لٹریچر اسلام اور مسلمانوں کے بارے میں غلط قسم کی باتوں سے بھر گیا ہے۔
دوسری طرف مسلمانوں کا فلسفہ و سائنس اور ان کے علوم و فنون سیکھنے کی تحریک زور شور سے اٹھ کھڑی یورپ کی درس گاہوں میں عربی زبان پڑھانے کا انتظام کیا گیا۔ مسلمانوں کی تصنیفات کے ترجمے یورپ کی زبانوں میں کئے جانے لگے ۔ یورپ کے طلبہ مسلم شہروں میں تحصیل علم کے لئے جانا شروع ہوئے ۔
جنگ کی یہ نئی تکنیک اختیار کرنے کی وجہ سے یورپ کو اندرونی طور پر مخالفتوں کا سامنا کرنا پڑا۔ یورپ کے قدامت پسند حلقوں میں عربی زبان کی توسیع کی حوصلہ افزائی کے سلسلہ میں ناراضگی پائی جاتی تھی جس کی وجہ خاص طور پر یہ اندیشہ تھا کہ عربی سیکھنے سے عیسائیوں کے درمیان اسلامی خیالات پھیلنا شروع ہو جائیں گے، مثال کے طور پر فرانسس کن راہب راجر بیکن - ۱۲۱۴) جو اپنے وقت کا مشہور انگلستانی عالم تھا، اس نے جب عربی زبان کی اہمیت پر زور دیا تو آکسفورڈ کے علماء چلا اٹھے۔ "بیکن مسلمان (Saracen) ہوگیا مگر اس طرح کی مخالفتوں کے باوجود مسلمانوں کی زبان اور ان کے علوم سیکھنے کا رجحان بڑھتا رہا۔ مسلم محققین کے حاصل کو لے کر یورپ نے اپنی کوشش سے اس میں اضافے کئے اور اتنی ترقی کی کہ تاریخ میں پہلی بار قوت کا معیار بدل دیا اور بالآخر مسلمانوں کو ہر میدان میں شکست دے کر علم و عمل کی پوری دنیا کا مالک بن گیا۔ جدید مورخین نے تقریباً متفقہ طور پر تسلیم کیا ہے کہ یورپ کی نشأۃ ثانیہ کا اہم ترین محرک وہ علوم تھے جو مسلمانوں کی معرفت یورپ تک پہنچے
(ویسٹرن سولنیتریشن، اور ڈومینکل برن)
اس کے پانچ سو برس بعد تاریخ دوسرا منظر دیکھتی ہے۔ یورپ کی ترقی اور عروج سے متاثر ہو کر مسلمانوں کے اندر یہ رجحان ابھرا کہ وہ یورپ کے علوم و فنون کو سیکھیں۔ مگر یہاں اس رجحان کا محرک اس سے بالکل مختلف تھا۔ یورپ کی تاریخ میں ہمیں نظر آتا ہے۔ سرسید احمد خاں جو پروفیسر گب کے الفاظ میں اسلام میں پہلی جدت پسند تنظیم (Modernist Organization) کے بانی تھے۔ انھوں نے ۱۸۷۵ میں علی گڑھ کالج قائم کیا اور اس پر اپنی ساری زندگی وقف کر دی ۔ یہاں تک کہ ۱۹۲۰ میں وہ یونیورسٹی بن گیا، وہ یورپی طرز کی تعلیم کے زبردست حامی تھے۔ ان کا مقصد اس تعلیم سے کیا تھا اس کی ترجمانی ان کے رفیق خاص مولانا حالی نے ان الفاظ میں