حالی اب آؤ پیروی مغربی کریں
Al-Risala, February 1981, pp. 7–8
By Maulana Wahiduddin Khan
سرسید نے جب انگلستان سے واپس آکر دسمبر ۱۸۷۰ میں تہذیب الاخلاق نکالنا شروع کیا تو انھوں نے پہلے پرچہ کے شروع میں لکھا:
" اس پرچہ کے اجراء سے مقصد یہ ہے کہ ہندوستان کے مسلمانوں کو کامل درجہ کی سولینزیشن یعنی تہذیب اختیار کرنے پر راغب کیا جائے تاکہ جس حقارت سے سولائزڈ یعنی مہذب قومیں ان کو رکھتی ہیں وہ رفع ہو اور وہ بھی دنیا میں معزز و مہذب قوم کہلاویں"
سرسید جب ترقی کا تصور کرتے تو ان کے ذہن میں زرتی برق وردیاں پہنے کرنل اور میجر بنے ہوئے مسلمان نوجوان " ان کا منتہائے مقصود ایسی تعلیم تھی جو مسلمانوں کو اعلیٰ عہدوں تک پہنچا سکے۔ سرسید کی تہذیب کو مہدی افادی نے بجاطور پر " اینگلو محمدن کلچر " کا نام دیا ہے ۔
کمال آتاترک (۱۹۳۸-۱۸۸۱) جو اس گروہ کا دوسرا نمایاں ترین نام ہے، وہ اس معاملہ میں سرسید سے بھی آگے تھے۔ ترکی میں مغربی تعلیم و تہذیب کی اشاعت سے کمال آتاترک کا مقصد کیا تھا، اس کا اندازہ اس عنوان سے ہوتا ہے جو اس مہم کو وہاں دیا گیا۔ کمال آتاترک اور ان کے ساتھیوں کے نزدیک یہ "غرب دوغرد" " تھا، جس کے معنی ترکی زبان میں _ "سمت مغرب میں سفر" کے ہیں۔ سمت مغرب میں سفر کا یہ کام اس درجہ اہم تھا کہ صرف رومن رسم الخط جاری کرنے اور ترکی باشندوں کو ہیٹ پہنانے کے لئے ہزاروں آدمی اس طرح ہلاک کر دیئے گئے گویا وہ ریاست سے بغاوت کے مجرم ہوں۔
اسی تقلیدی ذہنیت کا نتیجہ تھا کہ ہمارے ان مصلحین کی ساری توجہ بس یورپ کی تہذیب اور یورپ کے زبان و ادب کے حصول پر لگی رہی۔ سائنس اور ٹیکنالوجی جو مغربی قوموں کی ترقی کا اصل راز ہے، اس کو مسلمانوں کے اندر رائج کرنے کی انھوں نے زیادہ کوشش نہیں کی۔ سرسید نے تو صراحتہ مسلمانوں کے لئے ٹیکنیکل ایجوکیشن کی مخالفت کی اور اعلیٰ درجہ کی دماغی تعلیم " کو سب سے مقدم قرار دیا۔ یہی اس زمانہ میں تعلیم جدید کے حامیوں کا عام نقطہ نظر تھا۔
حضرات نے ساری توجہ صرف اس پر دی کہ ایک ایسا گر وہ پیدا ہو جائے جو مغربی تمدن اور یورپی ادب میں کمال حاصل کئے ہوئے ہو۔ کمال اتاترک کا نام اد انقلاب اور روس کے اشتراکی انقلاب میں صرف چند سال کا فرق ہے، مگر حیرت انگیز بات ہے کہ روس آج خلائی دور میں داخل ہو چکا ہے اور ترکی ابھی تک زمین پر بھی مستحکم مقام حاصل نہ کر سکا۔
یورپ جس ذہن کے تحت ہمارے علوم کی طرف بڑھا وہ یہ تھا کہ مسلمانوں سے ان کے علوم اور ان کے ہنر کو لے کر اس کے ذریعہ سے انہیں شکست دی جائے۔ ان چیزوں کو اس نے وقت کی طاقت سمجھا اور اس کو اپنے دشمن کے مقابلہ میں استعمال کیا۔ چنانچہ اپنی اس مہم کو یورپ نے تقلید مشرق یا تقلید مسلم کا نام نہیں دیا بلکہ اس کو روحانی صلیبی جنگ (Spiritual Crusades) کہا، جس کا مطلب یہ تھا کہ صلیبی لڑائیوں کی ہاری ہوئی بازی کو نئی تکنیک سے کامیاب بنایا جائے۔ اور جب اس کوشش سے وہ اپنے کو ایک نئے انقلاب تک پہنچانے میں کامیاب ہو گئے تو اس کو انھوں نے یہ حیثیت دی گویا انھوں نے خود اپنی کھوئی ہوئی حیثیت دوبارہ حاصل کی ہے۔ چنانچہ یورپ میں اس نئے انقلاب کا تاریخی نام نشاۃ ثانیہ (Rennaissance) رکھا گیا ہے۔ یہ فرانسیسی زبان کا لفظ ہے جس کا مطلب ہے ۔ نیا جنم (Rebirth) گویا یہ کوئی غیر سے حاصل کی ہوئی چیز نہیں ہے، بلکہ یہ یورپ کی اپنی ہی متاع ہے جو اس نے دوبارہ پائی ہے۔ یورپ نے لیتے وقت اگر چہ ان علوم کو مسلمانوں سے لیا تھا، مگر اس نے حال کی کڑی کو حذف کر کے اس کا رشتہ ماضی سے ملایا اور اس کو مغرب کے ایک ملک۔ کی چیز قرار دے کر اس کو نشاۃ ثانیہ کہا۔ اس کے برعکس ہم نے ایسا نہیں کیا، حالاں کہ یورپ جو چیز ہمیں دے رہا تھا وہ اضافہ شدہ ۔ حالت میں وہی سرمایہ تھا جو یورپ کو ہم نے عطا کیا تھا۔ مسلمان مغربی علوم کی طرف خالص تقلیدی ذہن کے ساتھ بڑھے ان کا یہ عمل سرسید کے یہاں پیروی مغرب اور اتاترک کے یہاں غرب دو غرو کے ہم معنی تھا نہ ذہنیت کے اس فرق کا لازمی نتیجہ یہ ہونا تھا کہ یورپ ہمارے علوم کو سیکھ کر ہمیں شکست دے اور اس کے برعکس ہم مغرب کے علوم کو سیکھ کر صرف مغرب کے بھونڈے نقال بن کر رہ جائیں ۔
مصطفی کمال کی تحریک کا آخری نشانہ یہ تھا کہ ترک قوم ہیٹ اور پتلون پہننے لگے۔ اور سرسید کا منتہائے نظر یہ تھا کہ مسلم نوجوان مغربی ادبیات میں کمال حاصل کر لیں ۔ ظاہر ہے کہ اس طرح کے ذہن کے تحت مغرب کی طرف بڑھنے کا وہی نتیجہ برآمد ہو سکتا تھا جو عملاً برآمد ہوا۔
یہ تاریخ جہاں ایک طرف ہماری غلطی کو بتاتی ہے وہیں اس کے اندر اس کا بھی نشان ہے کہ اب ہمیں کیا کرنا ہمیں وہی کرنا چاہئے جو مغربی قوموں نے ہمارے ساتھ کیا۔ مغربی علوم کو اس لئے سیکھنا تا کہ اس کے ذریعہ مغربی تہذیب کو شکست دے کر اسلام کو غالب کیا جائے۔ اگر ہمارے اندر یہ ذہن پیدا ہو جائے تو وہی نتیجہ برعکس شکل میں ظاہر ہوگا جو مغربی قوموں کے لئے ہمارے مقابلے میں ظاہر ہوا تھا ۔