Al-Risala · February 1981

اسلام اور سائنس

Al-Risala, February 1981, p. 9

By Maulana Wahiduddin Khan

ایک بار میری ملاقات ایک ایسے شخص سے ہوئی جنہوں نے سائنس میں ڈگری لی تھی اور اسی کے ساتھ انھوں نے مذہب اور تاریخ کا بھی مطالعہ کمیا تھا۔ وہ خدا اور مذہب کو نہیں مانتے تھے۔ بات چیت کے دوران انھوں نے کہا: اسلام کو اگر تاریخ سے نکال لیا جائے تو انسانی تاریخ میں کیا کمی رہ جائے گی۔ میں نے کہا: وہی کی جو اسلام سے پہلے انسانی تاریخ میں تھی۔

زمین پر انسان ہزار ہا سال سے آباد ہے۔ مگر معلوم تاریخ کے مطابق اسلام سے پہلے کسی بھی دور میں انسان کی رسائی اس شعبہ فن تک نہ ہوسکی جس کو آج سائنس کہا جاتا ہے۔ اس کی وجہ کیا ہے۔ اس کی وجہ بہت سادہ ہے۔ اسلام سے پہلے ہر دور میں انسان کے اوپر شرک کا غلبہ تھا۔ یہی شرک عالم فطرت پر تحقیق کرنے میں مانع تھا کیونکہ شرک کے عقیدہ کے تحت فطرت کے مظاہر پوجنے کی چیز نے ہوئے تھے، جب کہ سائنس کا آغاز اس وقت ہوتا ہے جب کہ ان مظاہر کو تحقیق و تسخیر کی چیز سمجھا جائے۔ مشرک انسان چاند کو دیوتا سمجھتا تھا، اس لئے اس کا ذہن اس رخ پر چل ہی نہیں سکتا تھا کہ وہ چاند پر اپنے قدم رکھے۔ وہ سیلاب کو خدا کا جبر سمجھتا تھا، اس لئے اس کے لئے یہ سوچنا ممکن نہ تھا کہ سیلاب کو قابو میں لاکر اس سے بجلی پیدا کرے۔ اسلام نے معلوم تاریخ میں پہلی بار شرک کو مغلوب کرکے توحید کو بالفاظ دیگر، اس ذہن کو فروغ دیا کہ خدا صرف ایک ہے، باقی تمام چیزیں مخلوق ہیں۔ اس طرح اسلام نے عالم فطرت کی تحقیق کا راستہ کھولا۔ اور بالآ خر وہ تمام ترقیاں وجود میں آئیں جو قدرت پر فتح کے نتیجہ میں انسان کو حاصل حقیقت یہ ہے کہ قدیم سائنسی پس ماندگی شرک کا بالواسطہ نتیجہ تھی اور جدید سائنسی ترقی توحید کا بالواسطہ نتیجہ ہے اس میں شک نہیں کہ اسلام اس لئے نہیں آیا کہ وہ دنیا کو سائنس دے۔ مگر اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ اگر اسلام نہ آتا تو سائنسی ترقیوں کا دروازہ انسان کے اوپر بند رہتا، جیسا کہ اس سے پہلے وہ انسان کے اوپر بند پڑا ہوا تھا۔ سائنسی تحقیق اور ترقی کے سلسلے میں توحید کی اس اہمیت کو آرنلڈ ٹائن بی (۱۹۷۵ - ۱۸۸۹) نے کھلے لفظوں میں تسلیم کیا ہے (ظہور اسلام، صفحہ ۴۱۴)

Printed page