سائنس اسلامی انقلاب سے پیدا ہوئی
Al-Risala, February 1981, pp. 9–11
By Maulana Wahiduddin Khan
توحید کی بنیاد پر جو فکری انقلاب آیا اس کے بہت سے نتائج میں سے ایک نتیجہ یہ تھا کہ انسان عالم فطرت کو اس نظر سے دیکھنے لگا کہ وہ بے بس مخلوق ہے اور انسان کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ اس کو جانے اور اس کو اپنے کام اس ذہن کا آغاز اموی دور (۵۔ ۶۶۱) میں دمشق میں ہوا۔ قدیم یونانی حکماء کے یہاں کیمیا چاندی سے سونا بنانے کے خبط کا نام تھا۔ خالد بن یزید بن معاویہ غالباً پہلے شخص ہیں جنہوں نے کیمیا کو ایک طبعی علم کی حیثیت سے ترقی دینے کی کوشش کی۔ عباسی خلافت کے زمانہ میں اس شعبہ علم نے بغداد میں مزید فروغ پایا اور اسپین اور سسلی تک پھیلتا چلاگیا۔ اس زمانہ میں مسلمان علمی اور تمدنی ترقی میں دنیا کی تمام قوموں سے آگے بڑھے
تاریخ کے اس دور کو یورپ کے مورخین تاریک دور (Dark Ages) کہتے ہیں۔ مگر وہ صرف یورپ کے لئے تاریک تھا نہ کہ مسلم دنیا کے لئے۔ ورلڈ بک انسائیکلو پیڈیا کا مقالہ نگار ”ڈارک ایجز“ کے عنوان کے تحت لکھتا ہے :
The term 'dark ages' cannot be applied to the splendid Arab culture which spread over north Africa and into Spain. (P. 30)
تاریک دور کی اصطلاح شان دار عرب کلچر پر چسپاں نہیں ہوتی جو اس زمانہ میں شمالی افریقہ اور اسپین میں پھیلا ہوا تھا۔ شرک کس طرح سائنسی تحقیق میں رکاوٹ تھا، اس کی وضاحت کے لئے یہاں ہم ایک مثال نقل کریں گے۔ قدیم یونان میں زمین اور سورج کی گردش کے بارے میں دو نظریے پیش کئے گئے تھے۔ ارسٹارکس کا نظریہ جس میں زمین کو سورج کے گرد گھومتا ہوا فرض کیا گیا تھا۔ دوسرا بطلمی کا نظریہ جس کے مطابق سورج زمین کے گرد گھوم رہا تھا۔ پہلے نظریہ کے مطابق زمین بظاہر گول تھی اور دوسرے نظریہ میں چپٹی۔ قسطنطین (۳۳۷-۳۲۷ء) کے مسیحیت قبول کرنے کے بعد جب مسیحیوں کو یورپ میں غلبہ ہوا تو انھوں نے بطلمی کے نظریہ کی سرپرستی کی اور دوسرے نظریہ کو بے نور کر دیا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ مسیحیت نے حضرت مسیح کو خدا فرض کر لیا تھا اس عقیدہ کے مطابق زمین کو یہ تقدس حاصل تھا کہ وہ خداوند کی جنم بھومی ہے۔ اور جو کرہ خداوند کی جنم بھومی ہو وہ کسی دوسرے کرہ کا تابع (Satellite) کس طرح ہو سکتا تھا۔ زمین کو اس طرح مقدس سمجھنے کا نتیجہ یہ ہوا کہ اس کے بارے میں تحقیقی کام آگے نہ بڑھ سکا۔ مشر کا نہ مذہب اور سائنس کے درمیان ٹکراؤ کی مزید تفصیلی مثالیں ڈریپر (۱۸۸۲-۱۸۱۱) کی کتاب مذہب اور سائنس کا تصادم (Conflict between Science and Religion) میں دیکھی جاسکتی ہیں ۔
عباسی خلیفہ المامون (۸۳۳ - (۸۳۳-۷۸۶) کے زمانہ میں بیت الحکمت قائم ہوا اور حکومت کے خصوصی تعاون کے تحت دونوں قسم کے ترجمے عربی زبان میں کئے گئے ۔ مسلمانوں نے جب اعتقادی پیچیدگی سے آزاد ہو کر دونوں نظریات کو جانچا تو ان کو پہلا نظریہ حقیقت سے قریب تر نظر آیا ، خلیفہ المامون جو خود بھی بہت بڑا عالم تھا، اس نے اس مسئلہ کی اہمیت کو محسوس کیا۔ اس نے ہیئت و جغرافیہ کے عالموں کو حکم دیا کہ وہ زمین کو گول فرض کرتے ہوئے اس کا محیط (Circumference) معلوم کریں اور اس کے لئے کسی کھلے میدان میں ایک زمینی درجہ (Terrestrial Degree) کی لمبائی کی پیمائش کریں اور اس کے بعد اس سے زمین کی پوری گولائی کا اندازہ کریں۔ اس زمانہ میں مسلمانوں کے پاس آلات حساب کے نام سے صرف زاویہ ناپنے کا سادہ آلہ (Quadrant) اصطرلاب، دھوپ گھڑی اور معمولی گلوب تھے۔ اس قسم کی چند چیزوں کے ذریعہ انھوں نے اپنی جدوجہد شروع کر دی۔
اس مقصد کے لئے سنجار (Palmyra) کا وسیع ہموار میدان منتخب کیا گیا۔ ایک مقام پر قطب شمالی کی بلندی کے ساتھ زاویہ قائم کر کے شمال کی جانب جریب سے ناپنا شروع کیا۔ ۵۶ میل شمال کی جانب جانے سے قطب شمالی کی بلندی کے زاویہ میں ایک درجہ کی لمبائی بڑھ گئی۔ اس سے معلوم ہو گیا کہ جب ایک درجہ کی مسافت سطح زمین پر
۵۴۰ میل ہے تو زمین کا کل محیط (Circumference) ۲۰ ہزار میل سے زیادہ ہونا چاہئے، کیونکہ ہر نقطہ پر تمام زاویوں کا مجموعہ ۳۶۰ درجہ ہوتا ہے۔ اور ۳۶۰ کو ۵۴۰ میں ضرب دینے سے ۲۰،۲۰۱ میل کا فاصلہ برآمد دوبارہ یہی تجربہ دریائے فرات کے شمال میں صحرائے کوفہ میں کیا گیا اور دوبارہ وہی نتیجہ نکلا۔ یہ پیمائش حیرت انگیز طور پر قریب بہ صحت تھی۔ کیونکہ موجودہ زمانہ میں صحیح ترین پیمائش کے مطابق زمین کا محیط خط استوار پر ۲۵ ہزار میل ہے۔ قرون وسطیٰ میں مسلمانوں کی سائنسی ترقی کی تفصیلات پروفیسر فلپ ہٹی (۱۸۸۶ - کی کتاب تاریخ عرب (History of the Arabs) میں دیکھی جاسکتی ہے (۳۷۵)