Al-Risala · January 1981

No tiger attacks a human being unless proveked

Al-Risala, January 1981, p. 6

By Maulana Wahiduddin Khan

جو لوگ جنگل کے علاقوں میں رہتے ہیں وہ جانتے ہیں کہ اگر کبھی ان کا سابقہ شیر سے پڑ جائے تو اس میں خطرہ کی کوئی بات نہیں ہے۔ کیونکہ شیر اپنا راستہ چلتا ہوا گزر جائے گا بشرطیکہ اس کو چھیڑا نہ جائے۔ حقیقت یہ ہے کہ شیر اپنی فطرت کے اعتبار سے انسان دشمن جانور نہیں۔ شیر کے لئے "مردم خور" کا لفظ صرف اتفاقی معنی میں صحیح ہے۔ شیر پیدائشی طور پر مردم خور نہیں ہوتا۔ بلکہ بعض نادان انسانوں کی کارروائی کسی شیر کو مردم خور بنا دیتی ہے۔ کسی شیر کو مردم خور بنانے والے اکثر وہ غیر ماہر شکاری ہوتے ہیں جو کافی تیقن کے بغیر شیر کے اوپر اپنا کارتوس خالی کر دیتے ہیں۔ وہ شیر مارنے کے شوق میں شیر پر گولی چلاتے ہیں۔ مگر کافی مہارت نہ ہونے کی وجہ سے ان کی گولی صحیح نشانہ پر نہیں پڑتی اور اچلتی ہوئی نکل جاتی ہے۔ طور پر زخمی ہو جاتا ہے مگر وہ مرتا نہیں۔ اس قسم کا زخم خوردہ شیر انسان کا دشمن ہو جاتا ہے۔ وہ جہاں کہیں بھی انسانی صورت کو دیکھتا ہے اس کو اپنا دشمن سمجھ لیتا ہے اور اس پر حملہ کر کے اسے ختم کر دیتا ہے۔ یہی حال اکثر درندہ جانوروں کا ہے۔

اس مثال میں ہمارے لئے دو بہت بڑے سبق ہیں۔ ایک یہ کہ کسی کو پیشگی طور پر اپنا "دشمن" سمجھ لینا درست حتی کہ ایک درندہ صفت انسان کو بھی نہیں۔ کوئی شخص اسی سے دشمنانہ معاملہ کرتا ہے جس کو وہ اپنا دشمن اگر ہم اپنے کو دشمن ظاہر نہ کریں تو دوسرا بھی ہم سے دشمن کا سلوک نہیں کرے گا۔ دوسرا سبق یہ ہے کہ ناکافی تیاری کے بغیر کبھی کسی کے خلاف کارروائی نہیں کرنا چاہئے۔ اگر آپ اپنے حریف پر ایسے اقدامات کریں جو کافی تیاری کے بغیر کئے گئے ہوں اور اس بنا پر وہ فیصلہ کن نہ بن سکیں تو ایسا اقدام آپ کے حریف کو پہلے سے زیادہ مشتعل کر کے آپ کے مسئلہ کو اور زیادہ سنگین بنا دے گا ۔ ہر شخص خود اپنے اندرونی تقاضے کے تحت اپنی ضرورتوں کی تکمیل میں مشغول رہتا ہے اور اگر ضرورتیں پوری ہو جائیں تو ہوس کی تکمیل میں ۔ یہ ایک قدرتی انتظام ہے جو لوگوں کو ایک دوسرے سے روکے رہتا ہے۔ دوسرے کو نہ چھیڑئے اور آپ دوسرے کے ظلم سے محفوظ رہیں گے۔ کیوں کہ یہاں ہر ایک اپنے آپ میں اتنا مشغول ہے کہ اس کو دوسرے کے خلاف سوچنے کی فرصت نہیں۔

Printed page