Al-Risala · February 1981

سائنس کی مسلم دنیا سے علیحدگی

Al-Risala, February 1981, pp. 11–13

By Maulana Wahiduddin Khan

علم کے مختلف میدانوں میں یہ ترقیاں جاری تھیں کہ باہمی اختلافات کے نتیجہ میں عرب خلافت کا نظام ٹوٹ گیا۔ اور اسلام کا جھنڈا عثمانی ترکوں (۱۹۲۲ - ۱۵۱۷) نے سنبھالا۔ اس طرح سولھویں صدی عیسوی میں اسلام کی سیاسی نمائندگی کا مرکز عرب سے نکل کر ترکی کی طرف منتقل ہوگیا۔ یہاں سے تاریخ میں ایک نیا انقلاب آیا جس نے واقعات کے رخ کو بالکل دوسری طرف موڑ دیا۔

تاریخ کا یہ عجیب المیہ ہے کہ ایک شخص جو کسی پہلو سے مفید خدمت انجام دیتا ہے، وہی کسی دوسرے پہلو سے بہت بڑی مصیبت کا سبب بن جاتا ہے۔ اس کی ایک واضح مثال اموی خلیفہ سلیمان بن عبدالملک کی ہے۔ یہ شرف حاصل ہے کہ اس نے خلفائے راشدین کی فہرست میں پانچویں خلیفہ راشد (عمر بن عبد العزیز) کا اضافہ کیا۔ مورخ اسی خلیفہ کے تذکرہ میں اس ہیبت ناک غلطی کو بھی لکھتا ہے کہ اس نے اپنے زمانہ کے انتہائی اہم فوجی سرداروں کو ختم کرا دیا۔ جس کا نقصان یہ ہوا کہ ایشیا اور افریقہ میں اسلام کی بڑھتی ہوئی پیش قدمی اچانک ٹھپ ہو کر رہ گئی۔ یہی صورت عثمانی ترکوں کے ساتھ پیش آئی۔ ترکوں نے عین اس وقت اسلام کا جھنڈا سنبھال لیا جب کہ کمزور ہاتھوں میں پہنچ کر اس کے گرنے کا اندیشہ پیدا ہوگیا تھا۔ وہ کئی سو سال تک یورپ کی مسیحی طاقتوں کے مقابلہ میں اسلام کی دیوار بنے رہے، اس اعتبار سے ان کی خدمات ناقابل فراموش ہیں۔ مگر اسی کے ساتھ یہی ترک ہیں جو اس حادثہ کا باعث بنے کہ مسلم دنیا میں ہونے والی سائنسی تحقیقات رک جائیں اور ان کا مرکز یورپ کی طرف چلا جائے ۔ ترک انتہائی بہادر اور حوصلہ مند تھے۔ مگر ان کی کمزوری یہ تھی کہ وہ جاہل تھے۔ علمی تحقیق کے کام کی اہمیت نہ صرف یہ کہ وہ سمجھ نہیں سکتے تھے بلکہ وہ اس کو اپنے لئے ایک سیاسی خطرہ خیال کرتے تھے۔ ان کا خیال تھا کہ علم کے بڑھنے سے رعایا میں ان کے حق میں وفاداری کم ہو جائے گی اور ان کو قابو میں رکھنا نسبتاً زیادہ مشکل ہو جائے گا۔ وجہ ہے کہ انھوں نے علمی کام کے ساتھ سخت غیر رواداری کا ثبوت دیا۔ جب مسلم سیاست کا مرکز بدلا تو وہ لوگ جو بغداد اور دوسرے مراکز میں سائنس کی تحقیق کا کام کر رہے تھے، وہ منتقل ہو کر ترک دارالسلطنت آستانہ میں جمع ہو گئے۔ عباسی خلفاء ان لوگوں کی بے حد قدردانی کرتے تھے۔ انھوں نے ان کے اوپر درہم و دینار کی بارش کر رکھی تھی۔ ان کو اپنے لئے خطرہ سمجھ کر ان سے نفرت کرنے لگے۔ انھوں نے ان کی اس قدر حوصلہ شکنی کی کہ ترک حکومت میں ان کو اپنا

مستقبل تاریک نظر آنے لگا۔ چنانچہ یہ لوگ ترکی چھوڑ کر اٹلی اور فرانس جانا شروع ہو گئے۔ سائنسی تحقیق کا کام مسلم دنیا سے نکل کر مغربی دنیا میں منتقل ہو گیا۔ ترکوں نے علم اور اہل علم کی جس طرح حوصلہ شکنی کی اس کی درد ناک تفصیل محمد کرد علی شافعی کی کتاب تاریخ الحضارة العربیہ میں دیکھی جا سکتی ہے۔

مغربی دنیا میں ان سائنس دانوں کی زبردست پذیرائی ہوئی۔ صلیبی جنگوں - ۱۰۹۵) میں مسلمانوں کے مقابلہ میں یورپی قوموں کو شکست اس لئے ہوئی تھی کہ مسلمان علم وفن میں ان سے بڑھے ہوئے تھے۔ ان جنگوں میں ابتداءً رومی فوجوں نے یونانی آگ (Greek Fire) استعمال کی جس سے مسلمانوں کو نقصان اٹھانا پڑا ۔ آگ، ایک قسم کی پچکاری تھی جس میں آتش گیر کیمیائی مرکب بھر کر دشمن کی طرف پھینکا جاتا تھا۔ مسلم سائنس دانوں نے اس کے مقابلہ میں ایک اور چیز ایجاد کی۔ اس میں روغن نفت (معدنی تیل) استعمال ہوتا تھا۔ اس کی مار زیادہ وہ تک تھی اور اس کا نقصان بھی یونانی آگ سے بہت بڑھا ہوا تھا۔

یورپ کے مسیحی قدرتی طور پر مسلمانوں کے مقابلہ میں اپنی علمی پس ماندگی کو دور کرنے کے لئے بیتاب تھے۔ جو مسلم دنیا کے اہل علم ان کے یہاں پہنچے تو انھوں نے ان کے ساتھ زبردست تعاون کیا۔ یورپ میں علمی تحقیق کا دور کام دگنی شدت کے ساتھ ہونے لگا جو اس سے پہلے مسلم دنیا میں ہورہا تھا۔ سولہویں صدی عیسوی سے لے کر انیسویں صدی تک، تقریباً تین سو سالہ عمل کے نتیجہ میں یورپ میں وہ انقلاب آیا جس کو سائنسی اور صنعتی انقلاب کہا جاتا ہے ۔ مغرب کی سائنسی ترقی میں مسلمانوں کے حصہ کے بارے میں مزید تفصیل بريفالٹ کی کتاب تعمیر انسانیت (Making of Humanity) میں دیکھی جا سکتی ہے۔

سولہویں صدی تک مسلمان علم کے میدان میں استادی کے مقام پر تھے۔ مگر اس کے بعد کی صدیوں میں یورپ نے جو ترقیاں کیں اس نے مسلمانوں کو شاگردی کے مقام پر پہنچا دیا۔ مسلمان خود اپنی لائی ہوئی انقلابی دنیا میں دوسری قوموں سے پیچھے ہو گئے۔ تاہم اب بھی یہ موقع تھا کہ وہ یورپ کی تحقیقات سے فائدہ اٹھا کر آگے بڑھیں اور وہ واقعہ دوبارہ نئی شکل میں ظہور میں آئے جو مسلمانوں کے مقابلہ میں یورپ کے ساتھ پیش آیا تھا۔ کے علوم کو نیا دینا کر یورپ ان سے آگے بڑھ گیا تھا۔ اب مسلمان یورپ کے علوم کو لے کر مزید آگے کی ترقیاں حاصل کر سکتے تھے۔ مگر یہاں دو خاص وجہیں راستہ میں حائل ہو گئیں۔ ایک تاریخی امکان واقعہ بننے سے رہ گیا۔ سائنس کے معاملہ میں موجودہ مسلمانوں کی غفلت ۱- صدیوں تک سائنسی علوم سے دور رہنے کے بعد یورپ کے ذریعہ جب سائنس مسلمانوں کی طرف آئی تو وہ صرف ایک علم کے طور پر نہیں آئی۔ بلکہ وہ ملک گیری اور استعمار کے جلو میں آئی۔ مسلمانوں کے پاس یہ سائنس لے کر وہ لوگ آرہے تھے جنھوں نے مسلمانوں سے ان کی عظمت اور ان کے اقتدار کو چھینا تھا۔ ان کی تہذیب اور ان کے مذہبی شعائر پر حملے کئے تھے۔ اس موقع پر مسلمان اس دانش مندی کا ثبوت نہ دے سکے کہ وہ مغربی سائنس کو مغربی سیاست سے الگ کر کے دیکھیں۔ انھوں نے دونوں کو ایک سمجھا۔ وہ جس طرح مغربی قوموں کے دشمن بنے، اسی طرح

وہ مغربی علوم کے بھی دشمن بن گئے۔ جب کہ دوسری قومیں مغرب سے ان کے علوم سیکھ رہی تھیں، مسلمان ان کو دشمن کی چیز سمجھ کر ان سے دور بھاگ رہے تھے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ موجودہ زمانہ میں مسلمان دوسری قوموں سے کم از کم سو سال علم میں پیچھے ہو گئے، قوموں کے اوپر علمی امام بننے کا تو کوئی سوال ہی نہیں۔ ۲- مزید نقصان یہ ہوا کہ طویل غفلت کے بعد مسلمانوں میں جو لوگ علم کے مبلغ بن کر اٹھے وہ اس کام کے پوری طرح اہل نہ تھے۔ انھوں نے ایک صحیح کام کو غلط طریقہ سے انجام دینے کی کوشش کی۔ نتیجہ یہ ہوا کہ مسلمانوں میں ان کو وہ قبولیت حاصل نہ ہوسکی جو باعتبارِ حقیقت انھیں حاصل ہونی چاہئے تھی۔

مثال کے طور پر علمِ جدید کی اہمیت ثابت کرنے کے لئے انھوں نے یہ کیا کہ قرآن وحدیث میں جہاں جہاں ’’علم‘‘ کا لفظ آیا ہے اس کو انھوں نے ان سیکولر علوم کا مصداق بتایا جو آج یونیورسٹیوں اور کالجوں میں پڑھایا جاتا ہے۔ صحیح بات کے لئے غلط دلیل پیش کرنا تھا۔ کیونکہ یہ ایک حقیقت ہے کہ قرآن وحدیث میں جس علم کی فضیلت بیان ہوئی ہے اس سے مراد علم دین ہے نہ کہ سیکولر یا سائنسی علوم۔ ان علوم کو حاصل کرنا یقیناً مسلمانوں کے لئے ضروری ہے۔ ان علوم کی اہمیت آیتِ قوت سے ثابت ہوتی ہے نہ کہ آیتِ علم سے۔ قرآن میں حکم دیا گیا ہے کہ اس قوت کو حاصل کرو جس سے تمھارے حریفوں کے اوپر تمھاری دھاک قائم ہو۔ موجودہ زمانہ میں سائنسی علوم نے یہی مقام حاصل کر لیا اس لئے سائنسی علوم کا حاصل کرنا مسلمانوں کے لئے ضروری ہے۔ سائنسی علوم میں دستگاہ حاصل کئے بغیر مسلمان آج کی دنیا میں قوتِ مرہبہ (انفال ٦٠) کے مالک نہیں بن سکتے، اس لئے اس قرآنی حکم کی تعمیل میں موجودہ حالات کے لحاظ سے یہ بات بھی شامل ہوگی کہ وہ ان علوم کو حاصل کریں اور ان کو اسلام اور مسلمانوں کی تقویت کا ذریعہ بنائیں۔

موجودہ زمانہ کے تعلیمی مصلحین کی اسی غلطی کا نتیجہ تھا کہ مسلمانوں کا دینی طبقہ ان کا سخت مخالف ہوگیا۔ طلب العلم فریضۃ علی کل مسلم (حدیث) جیسی نصوص کا مطلب دینی طبقہ کے نزدیک متفقہ طور پر یہ تھا کہ اس سے مراد کتاب وسنت کا علم حاصل کرنا ہے۔ جب تعلیمی مصلحین نے اس طرح کی آیتوں اور حدیثوں کو موجودہ زمانہ کے "دنیاوی" علوم پر چسپاں کیا تو دینی طبقہ کو یہ بات سراسر اسلام کی تحریف نظر آئی۔ وہ اس دشمن بن کر کھڑا ہو گیا۔ مصلحین بلاشبہ غلطی پر تھے۔ مگر دینی نمائندوں سے بھی یہ غلطی ہوئی کہ وہ مقصد اور استدلال دونوں کو ایک دوسرے سے الگ کرکے نہ دیکھ سکے۔ اگر وہ ایسا کرتے تو انھیں نظر آتا کہ تعلیمی مصلحین جن علوم کی اہمیت کو آیتِ علم سے غلط طور پر ثابت کر رہے ہیں وہ آیتِ قوت سے بالکل درست طور پر ثابت ہو رہی ہے۔ اس لئے اس معاملہ میں اصل کام استدلال کی تصحیح ہے نہ کہ خود مقصد کو باطل قرار دینا۔

Printed page