اسلام میں سائنس کی اہمیت
Al-Risala, February 1981, pp. 13–15
By Maulana Wahiduddin Khan
اسلام میں سائنس کی اہمیت کے متعدد وجوہ ہیں۔ یہاں چند چیزوں کا ذکر کیا جاتا ہے۔
سائنس، سادہ طور پر، عالمِ حقائق کے مطالعہ کا نام ہے۔ قرآن میں یہی صفت اہل ایمان کی بتائی گئی ہے
کہ وہ زمین و آسمان کی بناوٹ پر غور کرتے ہیں (يتفكرون فى خلق السماوات والارض، آل عمران: ۱۹۱) اس اعتبار سے ایک سائنس داں وہی کام کرتا ہے جو ایک مومن کرتا ہے۔ تاہم دونوں میں بہت بڑا فرق ہے۔ سائنس داں کا عمل صرف تحقیق کے لئے ہوتا ہے اور مومن کا عمل عبرت کے لئے۔ سائنس داں کے پیش نظر علم برائے علم ہوتا ہے اور مومن کے پیش نظر علم برائے مقصد۔ سائنس داں اضافہ علم پر مطمئن ہوتا ہے اور مومن اضافہ ایمان پر۔ ذہن کا یہ فرق دونوں کے طرز مطالعہ میں بہت بڑا فرق پیدا کر دیتا ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ سائنس داں اشیاء کی ماہیت کو چھوڑ کر صرف اشیاء کے خواص کے مطالعہ تک اپنے کو محدود رکھتا ہے۔ وہ اشیاء کی کارکردگی کو ان کی معنویت سے جدا کر دیتا ہے۔ سائنس داں کو ایسا اس لئے کرنا پڑتا ہے کہ وہ صرف اپنی عقل کی رہنمائی میں کائنات کو دیکھنا چاہتا ہے۔ اور انسان کی عقل قطعیت کے ساتھ صرف قابل تجربہ چیزوں کو دیکھ پاتی ہے، اس لئے اس کے لئے اس کے سوا چارہ یں کہ وہ کائنات کے قابل تجربہ پہلوؤں تک اپنے مطالعہ کو محدود رکھے۔ مگر مومن اپنی عقل کے ساتھ نبوت کی رہنمائی کو تسلیم کئے ہوئے ہوتا ہے۔ اس لئے وہ خواص اشیاء سے گزر کر حقائق اشیاء تک اپنے مطالعہ کو لے جاتا ہے۔ وہ "مخلوق" کو اس کے "خالق" کے ساتھ شامل کر کے دیکھتا ہے۔ یہ فرق مومن کے مشاہوہ کائنات میں زبردست معنویت پیدا کر دیتا ہے۔ اس کو ساری کائنات صفات خداوندی کا ظہور نظر آنے لگتی ہے۔ کائنات کو پاتے ہی وہ اس خدا کو بھی پا لیتا ہے جس پر وہ پیغمبر کے واسطہ سے ایمان لایا ہے۔ قرآن میں کائنا تی واقعات کو قرآنی پیغام کے حق میں بطور استدلال پیش کیا گیا ہے۔ گویا قرآن میں جو بات نظری طور پر کہی گئی ہے، کائنات اس کے حق میں واقعاتی دلیل ہے۔ اس اعتبار سے پوری سائنس نہ قرآن کا علم کلام ہے۔ کیونکہ سائنس کسی سائنس داں کے خود ساختہ علم کا نام نہیں بلکہ وہ خدا کی کائنات میں کام کرنے والے قوانین کی تلاش کا نام ہے۔ ان قوانین کا جو حصہ بھی سائنس دریافت کرتی ہے وہ خدا کی کار فرمائیوں کی ایک جھلک ہوتی ہے، دہ خدا کی آیتوں میں سے ایک آیت (نشانی) کا انسانی علم میں آنا ہوتا ہے، سائنس داں کے لئے سائنس علم برائے علم ہے یا زیادہ سے زیادہ علم برائے تعمیر دنیا ۔ مگر مومن کے لئے سائنس ایک علمی ہتھیار ہے جس سے وہ دعوت حق کی جد وجہد میں کام لیتا ہے، جس سے وہ اپنی بات کو مدلل کر کے لوگوں کے سامنے پیش
سائنس کا تیسرا پہلو، اسلامی نقطہ نظر سے، وہی ہے جس کی طرف اوپر اشارہ کیا گیا۔ موجودہ زمانہ میں قوت کی حیثیت رکھتی ہے۔ اس لئے اسلام اور مسلمانوں کو سر بلند کرنے کے لئے ضروری ہے کہ سائنس کی قوت کو پوری طرح فراہم کیا جائے۔ اور یہ اسی وقت ممکن ہے جب کہ مسلمان سائنس کی تحقیق و تحصیل میں آگے بڑھیں، حتیٰ کہ وہ اس میں امامت کا درجہ حاصل کر لیں۔
انیسویں صدی کے نصف آخر اور بیسویں صدی کے نصف اول میں ساری مسلم دنیا میں سیاسی آزادی کی تحریکیں ان تحریکوں کے مسلم قائدین کا یہ خیال تھا کہ بیرونی سیاسی قبضہ سے آزاد ہونے کا نام غلبہ ہے۔ وہ سیاسی آزادی کو
اسیلام کی سربلندی کے ہم معنی سمجھتے تھے۔ مگر آج جب کہ بے شمار قربانیوں کے بعد تمام مسلم ممالک آزاد ہو چکے ہیں، آج بھی وہ ان غیر مسلم قوموں کے محکوم ہیں جو سائنس اور ٹیکنالوجی میں ان سے بڑھی ہوئی ہیں۔ ان کی سیاسی آزادی ان کو آج کی دنیا میں برتری کا مقام نہ دے سکی، کیونکہ وقت بتانے والی گھڑی سے لے کر جنگ لڑنے والے سامان تک ہر چیز کے لئے وہ انھیں قوموں کے محتاج ہیں، حقیقت یہ ہے کہ موجودہ زمانہ میں ہر چیز کا تعلق سائنس اور ٹیکنالوجی سے ہو گیا ہے۔ لئے جو قوم ان چیزوں میں پیچھے ہو وہ مقابلہ کی اس دنیا میں آگے کی صف میں جگہ نہیں پا سکتی۔ نئی دہلی میں جنتر منتر روڈ سے گزرنے والا ایک عجیب وغریب طرز کی عمارت دیکھتا ہے جس کا نام "جنتر منتر" اس کے اوپر سڑک کا نام جنتر منتر روڈ رکھا گیا ہے۔ جنتر منتر در اصل پرانے زمانہ کی رصد گاہ ہے جس کو اٹھارویں صدی کے نصف اول میں جے پور کے راجہ جے سنگھ نے بنوایا تھا۔ جے سنگھ کو علم فلکیات کا بہت شوق تھا۔ ہندوستان کے اس راجپوت راجہ نے اپنے اس شوق کی تکمیل کے لئے صرف جے پور میں ہی ایک بڑی رصد گاہ نہیں بنوائی بلکہ دہلی، متھرا، بنارس اور اجین میں بھی رصد گاہیں تعمیر کرائیں۔ دہلی کا جنتر منتر آج بھی راجہ کے اس شوق کی یاد دلاتا ہے۔
ان رصد گاہوں کے ذریعہ اس دور کے علمائے فلکیات چاند اور ستاروں کی رفتار معلوم کرتے تھے۔ رصد گاہوں کے ذریعہ موسم کا پتہ چلایا جاتا تھا۔ وہ اس کی مدد سے ستاروں اور زمین کا فاصلہ ناپتے تھے۔ رات کو چاند کی روشنی اور دن کو سورج کی روشنی کی مدد سے وقت کا اندازہ کرتے تھے۔ عمارت کی کھڑکیاں، دریچے اور دیواروں کے سوراخ خود بخود سال کا پورا کیلنڈر ترتیب دے دیتے تھے۔
قرون وسطی میں ساری دنیا کا علمی اور تعمیری کام مسلمانوں کی علمی اور تعمیری ترقیوں کی نقل ہوتا تھا۔ مہاراجہ جے سنگھ کی یہ رصد گاہ بھی عباسی رصد گاہوں کی نقل تھی۔ وہ ٹھیک اس انداز سے بنائی گئی تھی جیسی خلیفہ مامون رشید نے ایک ہزار سال پہلے بغداد میں بنوائی تھی۔
قدیم دور میں علم کی امامت مسلمانوں کو حاصل تھی۔ چنانچہ ساری دنیا میں ان کے طریقوں کی تقلید کی جاتی تھی۔ مگر بعد کے زمانہ میں ان کی غفلت سے امامت کا یہ مقام مغربی قوموں نے حاصل کر لیا۔ تین سو سال پہلے جب ایک شخص فلکیات کے مطالعہ کے لئے "رصد گاہ" بنانا چاہتا تو وہ بغداد کے نمونہ کی نقل کرتا تھا۔ مگر آج جب کسی ملک میں "رصد گاہ" تعمیر کی جاتی ہے تو اس کا نقشہ اور سامان مغرب کے ماہرین سے حاصل کیا جاتا ہے ۔ یہی وہ مقام ہے جہاں مسلمانوں کی عزت و سربلندی کا سفر ختم ہوا ہے اور یہی وہ مقام ہے جہاں سے وہ دوبارہ اپنے سفر کا آغاز کر سکتے ہیں۔
نوٹ: علی گڑھ کے آل انڈیا سیمینار بعنوان اسلام اور سائنس (۱۱-۱۲ نومبر ۱۹۸۰) میں پڑھنے کے لئے لکھا گیا۔