Al-Risala · February 1981

اسلام پندرھویں صدی ہجری میں

Al-Risala, February 1981, p. 16

By Maulana Wahiduddin Khan

جب بارش کا موسم آتا ہے اور ٹھنڈی ہواؤں کے ساتھ کالے بادل فضا میں منڈلانا شروع کرتے ہیں تو خدا کا فرشتہ خاموش زبان میں یہ اعلان کرتا ہے کہ کون ہے جو اپنا بیج زمین میں ڈالے تاکہ خدا سارے کائناتی نظام کو اس کی موافقت میں جمع کردے اور اس کے بعد اس کے بیج کو سات سوگنا زیادہ فصل کی صورت میں اس کی طرف لوٹائے۔ ایسا ہی کچھ معاملہ آج دین کا بھی ہے۔ خدا نے آج سارے اسباب دین کی موافقت پر جمع کر دئے ہیں۔ سیکڑوں برس کی گردش کے بعد زمانہ نے فیصلہ کی جو بنیاد فراہم کی ہے وہ عین ہمارے حق میں ہے۔ اب ان امکانات کو بروئے کار لانے کے لئے ضرورت ہے کہ کچھ خدا کے بندے اٹھیں جو صرف خدا کے لئے اپنے آپ کو اس مشن میں دے دیں۔ جو لوگ اپنے آپ کو اس مشن کے حوالے کریں گے ان کے لئے خدا کا وعدہ ہے کہ وہ ان کے عمل کا سات سوگنا بلکہ اس سے بھی زیادہ انعام آخرت میں لوٹائے گا اور اسی کے ساتھ اگر اس نے چاہا تو موجودہ دنیا میں بھی۔

اسلامی تاریخ دو بڑے مرحلوں سے گزر چکی ہے اور اب اس کے تیسرے مرحلہ کا آغاز ہونا ہے۔ معلوم کہ وہ کون لوگ ہیں جن کو اس تیسرے مرحلہ کو شروع کرنے کی سعادت حاصل ہوگی۔ تاہم اس میں شک نہیں کہ آج اس سے بڑا کوئی کام نہیں۔ آج اس سے بڑا کوئی میدان عمل نہیں جس میں قوت والے اپنی قوت لگائیں اور اس سے بڑی کوئی مد نہیں جس میں پیسہ والے اپنا پیسہ خرچ کریں۔

Printed page