اسلام کیا ہے
Al-Risala, February 1981, pp. 16–17
By Maulana Wahiduddin Khan
اسلام ایک لفظ میں توحید کا نام ہے۔ جس طرح درخت اصلاً ایک بیج کا نام ہوتا ہے اسی طرح اسلام کی اصل حقیقت توحید ہے اور بقیہ تمام چیزیں اسی توحید کے مظاہر اور تقاضے ۔ توحید بظاہر یہ ہے کہ خدا کئی نہیں ہیں بلکہ خدا ایک ہے۔ مگر یہ توحید کوئی خشک گنتی کا عقیدہ نہیں ہے جو کچھ مقرر الفاظ دہرا کر آدمی کو حاصل ہو جائے۔ یہ اپنی ذات کی نفی کی قیمت پر خدا کا اثبات ہے، یہ خدا کے مقابلہ میں اپنے آپ کو دریافت کرنا ہے۔ خدا قادر مطلق ہے اور بندہ عاجز مطلق ۔ کوئی بندہ جب خدا کے ساتھ اپنی اس نسبت کو پا لیتا ہے تو اسی کا نام توحید ہے۔ توحید یا ایک اللہ پر ایمان ایک شعوری فیصلہ ہے۔ یہ حق کا انکار کرنے کی قدرت رکھتے ہوئے حق کو مان لینا ہے۔ اعتبار سے ایمان حقیقت واقعہ کے اعتراف کا دوسرا نام ہے۔ اور حقیقت واقعہ کا شعوری اعتراف بلاشبہ اس دنیا کی سب سے بڑی نیکی ہے۔
یہی توحید دنیا کی تمام چیزوں کا دین ہے۔ زمین اور سورج انتہائی کامل صورت میں خدا کی تابعداری
کر رہے ہیں۔ یہ شہد کی مکھی کمال درجہ پابندی کے ساتھ خدا کی مقرر کی ہوئی راہوں پر چل رہی ہے۔ مگر ان میں سے کسی کی محکومی شعوری محکومی نہیں۔ وہ خود اپنی بناوٹ کے اعتبار سے ویسے ہی ہیں جیسا کہ انہیں ہونا چاہئے۔ ساری کائنات میں یہ صرف انسان ہے جو ارادہ اور شعور کے ساتھ اپنے کو محکوم بناتا ہے۔ کائنات کی ہر چیز کامل طور پر خدا کی فرماں برداری کر رہی ہے۔ مگر انسان کی فرماں برداری اختیاری ہے اور دوسری چیزوں کی فرماں برداری قرآن میں بتایا گیا ہے کہ زمین و آسمان کی تمام چیزیں خدا کو سجدہ کر رہی ہیں۔ مگر ایک انسان جب سجدہ کرتے ہوئے زمین پر اپنا سر رکھتا ہے تو یہ تمام عالم کائنات کا سب سے زیادہ عجیب واقعہ ہوتا ہے۔ کیونکہ دوسری چیزیں مجبورانہ سجدہ کر رہی ہیں مگر انسان شعور اور ارادہ کے تحت اپنا سر خدا کے آگے جھکا دیتا ہے۔ انسان کے ذریعہ اس کائنات میں شعوری اور اختیاری محکومی کا واقعہ وجود میں آتا ہے جس سے بڑا کوئی دوسرا واقعہ نہیں۔ یہی انسان کی اصل قیمت ہے۔ انسان وہ نادر مخلوق ہے جو اس کائنات میں شعور قدرت کے مقابلہ میں شعور عجز کی دوسری انتہا بنتا ہے۔ وہ کائنات کے صفحہ پر "عدد" کے مقابلہ میں "صفر" کا ہندسہ تحریر کرتا ہے۔ وہ خدا وندی انا کے مقابلہ میں اپنے بے انا ہونے کا ثبوت دیتا ہے۔ ایک شخص کا موحد بننا اس آسمان کے نیچے ظاہر ہونے والے تمام واقعات میں سب سے بڑا واقعہ ہے جس کا انعام کوئی سب سے بڑی چیز ہی ہو سکتی ہے۔ اسی سب سے بڑی چیز کا نام جنت ہے۔ جنت کسی کے عمل کی قیمت نہیں۔ جنت کسی بندے کے لئے خدا کی یہ بخشش ہے کہ اس کے بندے نے اپنے رب کو وہ چیز پیش کردی جو کائنات میں کسی نے پیش نہ کی تھی۔ اس لئے خدا نے بھی اس کو وہ چیز دے دی جو اس نے کسی دوسری مخلوق کو نہیں دیا تھا۔