جنت کیا ہے
Al-Risala, February 1981, pp. 17–19
By Maulana Wahiduddin Khan
جنت ایک انتہائی حیرت انگیز دنیا ہے جو خدا نے اپنے خاص بندوں کے لئے بنائی ہے۔ وہاں خدا کی صفاتِ کمال اپنی پوری شان کے ساتھ جلوہ گر ہیں۔ جنت کے بارے میں قرآن میں ہے کہ وہاں نہ حزن ہوگا اور نہ یہ نا قابل قیاس حد تک انوکھی صفت ہے۔ کیوں کہ دنیا میں ہم جانتے ہیں کہ کوئی بڑے سے بڑا دولت مند یا حکمراں اس پر قادر نہیں کہ وہ غموں اور اندیشوں سے خالی زندگی اپنے لئے حاصل کر لے۔ جنت کے بارے میں قرآن میں آیا ہے کہ وہاں ہر طرف "سلام سلام" کا چرچا ہو گا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جنت ایسے بلند انسانوں کی آبادی ہے جو ہر قسم کے منفی جذبات سے خالی ہوں گے۔ ان کے دلوں میں دوسروں کے لئے سلامتی اور خیر خواہی کے سوا اور کچھ نہ ہوگا۔ جنت کے بارے میں حدیث میں آیا ہے کہ وہاں آدمی جو غذا کھائے گا اور جو مشروبات پئے گا وہ بول و براز کی شکل میں نہیں خارج ہوگا بلکہ ایک خوشبودار ہوا نکلے گی اور اس کے ذریعہ تمام کثافت خارج ہو جائے گی۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جنت ایسا لطیف مقام ہے جہاں غلاظت بھی یہ شکل خوشبو خارج
حدیث میں ہے کہ جنت میں نیند نہیں ہوگی جب کہ وہاں آدمی کی ہر خواہش پوری کی جائے گی۔ مطلب یہ ہے کہ جنت اتنی لذیذ جگہ ہے کہ آدمی ایک رات کی نیند کے بقد ر بھی اس سے جدا ہونا پسند نہ کرے گا حالاں کہ وہ اس کے اندر کھرب ہا کھرب سال سے بھی زیادہ مدت تک رہے گا۔ کیسا عجیب ہوگا جنت کا پڑوس اور کیسی عجیب ہوگی جنت کی زندگی۔ پھر ان سب سے بڑھ کر یہ کہ جنت وہ مقام ہے جہاں آدمی اپنے خدا کو دیکھ سکے گا۔ وہ خدا جو ہر قسم کی ناقابل قیاس خوبیوں کا مالک ہے۔ وہ خدا جس نے عدم سے وجود کو پیدا کیا ۔ وہ خدا جو آسمان کی عظمتوں کا خالق ہے۔ وہ خدا جس نے سورج کو چمکایا۔ وہ خدا جو درختوں کی سرسبزی اور پھولوں کی مہک میں ظاہر ہوا۔ ایسا خدا کیسا عظیم اور کیسا حسین ہوگا اس کا تصوراتی قیاس بھی کسی کے لئے ممکن نہیں۔ جس جنت میں ایسا نفیس ماحول ہو، جہاں کائنات کے رب کا دیدار حاصل ہوتا ہو اس کی لذتوں اور راحتوں کو کون بیان کر سکتا ہے ایسی قیمتی جنت کسی کو سستے داموں نہیں مل سکتی۔ یہ تو اسی خوش نصیب روح کا حصہ ہے جو حقیقی معنوں میں خدا کا مومن بندہ ہونے کا ثبوت دے۔ مومن ہونے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ آدمی اپنی عام دنیا دارانہ زندگی کے ساتھ کچھ اسلامی عملیات کا جوڑ لگالے۔ مومن ہونے کا مطلب یہ ہے کہ اسلام ہی آدمی کی پوری زندگی بن جائے۔ اسلام ہاتھ کی چھنگلیا نہیں بلکہ وہ آدمی کا پورا ہاتھ ہے۔ جو شخص اسلام کو اپنی زندگی میں غیر موثر ضمیمہ بنا کے رکھے اس نے اسلام کی توہین کی۔ اسی طرح مومن ہونے کا مطلب بھی نہیں ہے کہ آدمی "خدائی فوجدار بن کر کھڑا ہو جائے اور حکمرانوں کے خلاف اپوزیشن کا پارٹ ادا کرنے کو اسلام کا کمال سمجھنے لگے۔ اس قسم کی چیزیں اسلام نہیں، وہ خود ساختہ سیاست کو اسلام کا نام دینا ہے۔ پہلی قسم کے لوگ اگر دین کی کم قدری کے مجرم ہیں تو دوسری قسم کے لوگ دین کی تحریف کے۔ اور یہ دونوں ہی چیزیں آدمی کو خدا کی ناراضگی کا مستحق بناتی ہیں نہ کہ خدا کے انعام کا۔
مومن وہ ہے جس کے سینہ میں اسلام ایک نفسیاتی طوفان بن کر داخل ہوا ہو۔ جو خدا کو اتنا قریب پائے کہ اس سے اس کی سرگوشیاں جاری ہو جائیں۔ جس کی تنہائیاں خدا کے فرشتوں سے آباد رہتی ہوں۔ کے اسلام نے اس کی زبان میں خدا کی لگام دے رکھی ہو۔ اور جس کے ہاتھوں اور پیروں میں خدا کی بیڑیاں پڑی ہو جس کے اسلام نے اس کو حشر کی آمد سے پہلے حشر کے میدان میں کھڑا کر دیا ہو۔ حقیقت یہ ہے کہ جو کچھ کافر مرنے کے بعد گزرنے ہے وہ مومن پر جیتے جی اسی دنیا میں گزر جاتا ہے۔ دوسرے لوگ جن باتوں کو اس وقت پائیں گے جب کہ خدا غیب کا پردہ پھاڑ کر سامنے آ جائے گا، مومن ان باتوں کو اس وقت پالیتا ہے جب کہ خدا ابھی غیب کے پرد
میں چھپا ہوا ہے۔ مومن پر قیامت سے پہلے قیامت گزر جاتی ہے جب کہ دوسروں پر قیامت اس وقت گزرے گی جب کہ وہ عملاً آچکی ہوگی۔