اسلامی دعوت
Al-Risala, February 1981, pp. 19–24
By Maulana Wahiduddin Khan
آگ کا انگارہ جب خارج کو اپنے وجود کا احساس دلاتا ہے تو اسی کو ہم آنچ کہتے ہیں۔ برف کا تو دہ جب اپنے ماحول کو اپنی حقیقت سے متعارف کرتا ہے تو اسی کو ٹھنڈک کہا جاتا ہے۔ یہی معاملہ مومن کا بھی ہے۔ پر کسی مومن کا وجود میں آنا خود ہی اس بات کی ضمانت ہے کہ اسلامی دعوت ضرور وجود میں آئے گی کسی نفس انسانی میں جب وہ خدائی بھونچال آتا ہے جس کو اسلام کہا گیا ہے تو اس کے بعد لازمی نتیجہ کے طور پر ایسا ہوتا ہے کہ اس کے باہر کی دنیا اس سے باخبر ہونا شروع ہو جاتی ہے۔ یہی اسلامی دعوت کا آغاز ہے۔ اسلامی دعوت فرد انسانی میں انقلاب لانے کی دعوت ہے نہ کہ کسی قسم کے قومی یا بین اقوامی ڈھانچہ میں اکھاڑ پچھاڑ کرنے کی ۔ اسلامی انقلاب اصلاً ایک نفسیاتی انقلاب ہے اور نفسیاتی انقلاب کسی نفس ہی کے اندر وقوع میں آ سکتا ہے۔ نفس کا وجود صرف ایک فرد میں ہوتا ہے اس لئے اسلام کی گھٹنا بھی ایک فرد ہی میں گھٹتی قومی یا بین اقوامی ڈھانچہ کا اپنا کوئی نفسیاتی وجود نہیں۔ اس لئے قومی یا بین اقوامی ڈھانچہ کو اسلامی دعوت کا نشانہ بنانا ایسا ہی ہے جیسے خالی فضا میں تیر مارنا۔
عام طور پر ایسا ہوتا ہے کہ کسی گروہ کے قومی حالات یا کسی جغرافیہ کے تمدنی احوال لوگوں میں ہلچل پیدا کرتے ہیں اور اس کے بعد ان کے درمیان ایک تحریک اٹھ کھڑی ہوتی ہے۔ اسی طرح اگر مسلمانوں کے اندر ان کے قومی یا سیاسی حالات کے نتیجہ میں کوئی حرکت اٹھ کھڑی ہو تو اس کا نام اسلامی تحریک نہیں ہو جائے گا۔ اپنے قومی دشمن سے تصادم کو جہاد کہیں یا اپنی قومی تعمیر کو اسلامی نظام کی اصطلاحوں میں بیان کریں تو یہ اسلام نہیں بلکہ غیر اسلام کو اسلام کا نام دینا ہے جو آدمی کو صرف سزا کا مستحق بناتا ہے نہ یہ کہ اس کی بنا پر آدمی کو کوئی اسلامی انعام دیا جائے۔ یہی وجہ ہے کہ موجودہ زمانہ میں اس قسم کی اسلامی تحریکیں عظیم الشان پیمانہ پر اٹھیں مگر عملاً وہ اس طرح بے نتیجہ ہو کر رہ گئیں جیسے خدا کے نزدیک ان کی کوئی قیمت ہی نہ تھی۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ سب کے سب قومی ہنگامے ہیں اور کسی قوم کے قومی ہنگاموں کا نام اسلام نہیں ۔ اسلامی دعوت کی تحریک ایک لفظ میں جنت کی طرف بلانے کی تحریک ہے۔ جنت خدا کی لطیف و نفیس دنیا ہے جہاں وہ لوگ بسائے جائیں گے جو اخلاق خداوندی کی سطح پر جیتے ہوں، جنہوں نے دنیوی تعلقات میں کمال انسانیت کا ثبوت دیا ہو، جو خدا کی ابدی دنیا سے اثر لے کر متحرک ہوئے ہوں نہ کہ سیاسی اور معاشی حالات کے اثر سے۔ دنیا میں اسی کا چناؤ ہو رہا ہے۔ جو لوگ اپنی نفسیات اور کردار کے اعتبار سے جنتی ماحول میں بسانے کے قابل
ٹھہریں گے ان کو چھانٹ کر جنت میں داخل کر دیا جائے گا۔ اس کے بعد بقیہ تمام لوگ خدا کی رحمتوں سے محروم کر کے دور پھینک دئے جائیں گے تاکہ ابدی طور پر تاریکیوں کے غار میں بھٹکتے رہیں۔
انسان کے سوا بقیہ دنیا بے حد حسین ہے۔ ہرے بھرے درختوں اور نرم و نازک پھولوں کو دیکھئے ، زمین و آسمان کے قدرتی مناظر کا معائنہ کیجئے ۔ ان کی بے پناہ کشش آپ کو اس طرح اپنی طرف کھینچ لے گی کہ ان سے نظر ہٹانے کا جی نہ چاہے۔ مگر اس کے مقابلہ میں انسانی دنیا ظلم اور گندگی کا کوڑا خانہ بنی ہوئی ہے۔ اس فرق کی وجہ کیا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ بقیہ دنیا کی سطح پر خدا کی مرضی براہِ راست اپنی پوری شکل میں نافذ ہے، یہ دنیا ویسی ہی ہے جیسا کہ خدا چاہتا ہے کہ وہ ہو۔ اس کے برعکس انسان کو خدا نے آزادی دے اسی آزادی کے غلط استعمال نے انسانی دنیا کو جہنم کدہ بنا دیا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ تمام خوبیوں کا مالک صرف خدا ہے۔ خدا جہاں اپنے اختیار کو روک لے وہیں سے جہنم شروع ہو جاتی ہے اور خدا جب اپنے اختیار کو نافذ کر دے تو اسی کا نام جنت ہے۔
اب سوال یہ ہے کہ خدا نے اتنا بڑا خطرہ کیوں مول لیا کہ انسان کو آزادی دے دی کہ وہ خدا کی حسین دنیا کو اپنی باغیانہ کارروائیوں سے عذاب خانہ بنا دے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اس کے بغیر وہ قیمتی انسان چنے نہیں جاسکتے تھے جو جنت میں بسائے جانے کے قابل ہوں۔ خدا کی وسیع دنیا اپنی ان گنت چیزوں کے ساتھ مکمل طور پر خدا کی اطاعت گزار ہے۔ حقیر چیونٹی سے لے کر عظیم کہکشانی نظاموں تک کوئی چیز بھی نہیں جو خدا کی مرضی سے ادنی انحراف کرتی ہو۔ تاہم یہ تمام چیزیں اس لئے محکوم ہیں کہ وہ بے اختیار ہیں۔ فرماں برداری کے سوا کوئی دوسرا راستہ اختیار کرنا ان کے لئے ممکن نہیں۔ اب خدا کو ایسی با شعور اور حقیقت پسند مخلوق درکار تھی جو اختیار رکھتے ہوئے بے اختیار ہو جائے ۔ جو کسی جبر کے بغیر خود اپنے آزاد ارادہ سے اپنے کو خدا کا محکوم یہی وہ انتہائی نادر ہستیاں ہیں جن کو چھانٹنے کے لئے خدا کا یہ عظیم کارخانہ آباد کیا گیا ہے۔ زمانہ سے لے کر آج تک انسانی ذہن کو جو چیز سب سے زیادہ پریشان کرتی رہی ہے وہ انسان کی دنیا میں خرابی کا مسئلہ (Problem of Evil) ہے۔ ایک مفکر کے الفاظ میں ساری انسانی تاریخ ظلم اور برائی کا رجسٹر معلوم ہوتی ہے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ انسان اپنی آزادی کا انتہائی ظالمانہ استعمال کرتا ہے۔ بڑی برائی کو خدا نے صرف اس لئے گوارا کیا کہ اس کے بغیر اس اعلی نوع کا انتخاب نہیں کیا جاسکتا تھا جو جنت میں بسائے جانے کے قابل ہو۔ اختیار اور آزادی کے ماحول ہی میں وہ انسان چنے جاسکتے ہیں جن کے متعلق خدا کے نگراں فرشتے یہ گواہی دیں کہ یہ وہ افراد ہیں جنہوں نے مکمل اختیار رکھتے ہوئے اپنے کو خدا کی خاطر بے اختیار کر لیا تھا۔ دنیا کی بے پناہ برائیاں دراصل ایک بے پناہ بھلائی کی قیمت ہیں۔ یہ بھلائی کہ انسانوں کے جنگل
سے وہ سعید روحیں چھان کر نکالی جائیں جو پورے شعور اور مکمل ارادہ کے ساتھ اپنے کو خدا کا محکوم بنالیں ۔ حقیقت پسندی کی بنا پر خدا کی محکومی اختیار کریں نہ کہ مجبوری کی بنا پر۔
یہ وہ انوکھی ہستیاں ہیں جن کو یہ موقع تھا کہ وہ حق کو جھٹلا دیں مگر انھوں نے حق کو نہیں جھٹلایا۔ جن کو یہ اختیار حاصل تھا کہ وہ اپنی انا کا جھنڈا اونچا کریں۔ مگر وہ اپنے کو پچھلی سیٹ پر بٹھا کر خدا کو صدر نشین بنانے پر راضی ہوگئے ۔ جن کو پوری طرح یہ آزادی ملی ہوئی تھی کہ وہ اپنی قیادت اور اپنے مفادات کا گنبد کھڑا کریں مگر انھوں نے ہر اپنے کو خود اپنے ہاتھوں سے ڈھادیا اور صرف حق کا گنبد کھڑا کر کے انھوں نے خوشی حاصل کی۔ اس قسم کی نادر روحیں اس کے بغیر جنی نہیں جاسکتی تھیں کہ ان کو مکمل آزادی کے ماحول میں رکھا جائے۔ کا حقیقی ماحول قائم کرنے کی ہر قیمت برداشت کی جائے ۔ اسلامی دعوت کا مقصد ایسی ہی روحوں کو تلاش کرنا ہے۔ دنیا میں سیاسی اور تمدنی انقلاب اسلامی دعوت کا براہ راست نشانہ نہیں، تاہم وہ اس کا بالواسطہ کسی معاشرہ میں جب قابلِ لحاظ تعداد ایسے افراد کی جمع ہو جائے جو اللہ کے لئے جینا اور اللہ کے لئے مرنا چاہتے ہوں تو قدرتی طور پر وقت کی سیاست اور تمدن پر انھیں کا غلبہ ہو جاتا ہے۔ اسلامی سیاست یا اسلامی نظام نام ہے ایسے لوگوں کے ہاتھ میں اقتدار آنے کا جو اللہ کے آگے اپنے کو بے نفس کر چکے ہوں۔ اپنی "میں" کو خدا کے عظیم تر "میں" میں گم کر دیا ہو۔ جن کے جذبات و احساسات آخرت سے اتنا زیادہ متعلق ہو جائیں کہ دنیا میں ان کا کوئی حوصلہ باقی نہ رہے جو دوسرے کے دل کے درد کو اپنے سینہ میں محسوس کرتے ایسے ہی افراد اسلامی نظام قائم کرتے ہیں اور ایسے افراد اسی وقت بنتے ہیں جب کہ ہر قسم کے دنیوی مقصد سے بلند ہو کر خالص آخرت کے لئے تحریک چلائی جائے۔ اس کے برعکس اگر نعروں اور جلسوں کے زور پر کوئی انقلاب برپا کیا جائے تو وہ انقلاب نہیں ایک ڈرامہ جنگ ہوگا جہاں جہاں اسلام کے نعرے تو بہت ہوں گے مگر اسلام کے عمل کا کہیں وجود نہ ہوگا۔ ایسے لوگ حق کے تقاضوں کا نام لیں گے مگر عملاً اپنے گروہ کے تقاضوں کے سوا کوئی چیز ان کے سامنے نہ ہوگی۔ وہ انقلاب اسلامی کے ہنگامے برپا کریں گے مگر حقیقتاً ان کا مدعا یہ ہوگا کہ دوسروں کو تخت سے ہٹا کر خود اس پر قابض ہو جائیں ۔ وہ انسانیت اور اخلاق کے نام پر جلسوں اور تقریروں کی دھوم مچائیں گے مگر اس کا مقصود صرف یہ ہوگا کہ ایک خوبصورت عنوان پر اپنی قیادت کی شان قائم کریں۔ اسلامی انقلاب کی واحد لازمی شرط "بے میں" انسانوں کی فراہمی ہے اور موجودہ طرز کی تحریکوں سے سب سے کم جو چیز پیدا ہوتی ہے وہ یہی ہے۔ سیاسی اور قومی انداز کی یہ تحریکیں تو "میں" کی غذا ہیں نہ کہ "میں" کی نفسیات کو ختم کرنے والی۔ خارجی انقلاب کو نشانہ بنانے والی تحریک افراد کے اندر کردار نہیں پیدا کر سکتی۔ کردار ہمیشہ ذاتی محرک سے پیدا ہوتا ہے نہ کہ خارجی محرک سے۔
کوئی آدمی دوسرے کے لیے نہیں کماتا، اسی طرح کوئی آدمی بیرونی محرک کے لیے با کردار بھی نہیں بنتا۔ جو لوگ "نظام" کے نام پر افراد سے باکردار بننے کی اپیلیں کرتے ہیں وہ صرف اپنی سطحیّت کا ثبوت دیتے ہیں، اور دوسرے کے بارہ میں کمتر اندازہ کا۔ پیغمبر کا کام اسلام کا مشن ایک ہی مشن ہے۔ اور وہ ہے توحید کا پیغام لوگوں تک پہنچانا۔ ایک ایک شخص کو موحد بنانے کی کوشش کرنا۔ یہی قدیم ترین زمانہ سے تمام نبیوں کا مشن تھا۔ مگر پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے تمام زمانوں میں توحید کی دعوت جان کی قربانی کی قیمت پر دینی ہوتی تھی۔ توحید کا پیغام لے کر اٹھنے والے آگ کے الاؤ میں ڈال دئے جاتے اور آروں سے چیر دئے جاتے ۔ اس کی وجہ کیا تھی۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ قدیم زمانہ میں شرک کو فکری غلبہ کا مقام حاصل تھا۔ حتی کہ سیاست کی بنیاد بھی شرک پر قائم تھی ۔ زمانہ کے بادشاہ لوگوں کو یہ باور کرا کے ان کے اوپر حکومت کرتے تھے کہ وہ دیوتاؤں کی اولاد ہیں۔ اندر خدا حلول کر آیا ہے۔ اس لئے جب توحید کا داعی یہ آواز بلند کرتا کہ خدا صرف ایک ہے، کوئی اس کا شریک نہیں ، تو قدیم زمانہ کے بادشاہوں کو یہ آواز براہ راست ان کے حق حکمرانی کو چیلنج کرنے والی نظر آتی تھی۔ اس میں انہیں اپنی مشرکانہ سیاست کی تردید دکھائی دیتی تھی۔ چنانچہ وہ اپنے سیاسی مفاد کی بنا پر توحید کے داعیوں کے دشمن بن جاتے اور بے رحمی کے ساتھ ان کو کچل دیتے۔
اللہ تعالی نے فیصلہ کیا کہ اس صورت حال کو ہمیشہ کے لیے ختم کر دیا جائے۔ قرآن میں پیغمبر آخر الزماں اور آپ کے ساتھیوں کو سکھایا گیا کہ تم اس طرح دعا کرو: رَبَّنَا وَلاَ تَحْمِلْ عَلَيْنَا إِصْرَاً كَمَا حَمَلْتَهُ عَلَى الَّذِينَ مِنْ قَبْلِنَا (خدایا! ہمارے اوپر وہ بوجھ نہ ڈال جو تو نے ہم سے پہلے کے لوگوں پر ڈالا تھا)۔ یہ دعا کے انداز میں اس خدائی فیصلہ کا اظہار تھا کہ خدا انسانی تاریخ میں ایک نیا انقلاب لانے والا ہے جس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ اقتدار کارشتہ شرک سے ٹوٹ جائے گا۔ اب حکومت ایک خالص سیاسی معاملہ ہو گا نہ کہ اعتقادی معاملہ۔ خدائی منصوبہ تھا جس کی تکمیل کے لیے قرآن میں حکم دیا گیا : وَقَاتِلُوهُمْ حَتَّى لَا تَكُونَ فِتْنَةً وَيَكُونَ الدِّينُ كُلُّهُ لِلَّهِ (انفال ۳۹) یعنی مشرکوں سے لڑو یہاں تک کہ فتنہ کی حالت باقی نہ رہے اور دین سب اللہ کا ہو جائے۔ فتنہ کے معنی آزمائش کے ہیں۔ فَتَنَ فُلاناً عَنْ رَأْيِہ کے معنی ہیں رائے سے پھیر دینا۔ قرآن میں آیا ہے: موسیٰ کو اس کی قوم میں سے چند نوجوانوں کے سوا کسی نے نہ مانا، فرعون اور اپنی قوم کے بڑے لوگوں کے ڈر سے جن کو اندیشہ تھا کہ فرعون ان کو ستائے گا (یونس ۸۳) اس آیت میں ان يَفْتِنَهُم کا لفظ ہے جو ستانے اور عذاب دینے کے معنی میں استعمال ہوا ہے۔ گویا فتنہ کے معنی تقریباً وہی ہیں جس کو انگریزی زبان میں Persecution یعنی کوئی رائے یا عقیدہ رکھنے کی بنا پر کسی کو ستانا۔
اب سوال یہ ہے کہ وہ کون سا فتنہ تھا جس کو ختم کرنے کا حکم دکا گیا۔ وہ شرک کا فتنہ تھا۔ نے ان آیات میں فتنہ کی تفکسیر "شرک" سے کی ہے۔ تاہم یہاں فتنہ سے مراد مطلق شرک نہیں بلکہ شرک جارح ہے۔ کیونکہ شرک جب جارح ہو تبھی وہ روکنے والا بنتا ہے۔ حباقیٰ لا تکون فتنۃ کا مطلب ہے حتیٰ لا یفتن رجل عن یعنی شرک جارح سے لڑ کر اسے ختم کر دو تاکہ دین شرک بے زور اور مغکوب ہو کر رہ جائے اور غالب دین کی حیثیت سے صرف دین توحید دنیا میں باقی رہے۔
شرک اپنی ابتدائی صورت میں محض ایک عقیدہ ہے۔ مگر قدیم زمانہ میں اس نے "فتنہ" کا مقام حاصل کر لیا تھا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ قدیم زمانہ میں انسانی فکر پر شرک کا غلبہ تھا۔ زندگی کے ہر معاملہ کو شرک کے نقطہ نظر سے دیکھا جاتا تھا۔ حتیٰ کہ سیاست و حکومت کی بنیاد بھی شرک کے اوپر قائم تھی۔ لوگ سورج اور چاند جیسی چیزوں کو دیوتا سمجھتے تھے اور شاہی خاندان اپنے آپ کو ان دیوتاؤں کی اولاد بتا کر لوگوں کے اوپر حکومت کرتا تھا۔ پر جب توحید کا داعی یہ کہتا کہ خدا صرف ایک ہے، باقی تمام چیزیں اس کی مخلوق اور محکوم ہیں تو قدیم بادشاہوں لو یہ نظریہ ان کے حق حکمرانی کی تردید کرتا ہوا نظر آتا تھا۔ وہ اس کو اپنا حریف سمجھ کر اس کو مٹانے کے درپے عرب میں اور اطراف عرب میں توحید کی بنیاد پر جو اسلامی انقلاب آیا اس نے شرک کو فکری غلبہ کے مقام سے ہٹا دیا۔ اب شرک کی حیثیت ایک ذاتی عقیدہ کی ہو گئی نہ کہ ایک ایسے عوامی نظریہ کی جس کے اوپر سماجی زندگی یا پورا نظام قائم ہو۔ نتیجہ شرک کا رشتہ اقتدار سے ٹوٹ گیا۔ کیونکہ اب شرک کی بنیاد پر کسی کے لئے حق حکمرانی کا دعویٰ کرنے کا موقع باقی نہیں رہا تھا۔
معلوم انسانی تتاریخ میں یہ تبدیلی بالکل پہلی بار آئی۔ اس کے ہمہ گیر اثرات میں سے دو چیزیں یہاں خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔ ایک یہ کہ جب یہ معلوم ہوا کہ خدا صرف ایک ہے اور بقیہ تمام چیزیں اس کی مخلوق اور محکوم ہیں تو اس کے لازمی نتیجہ کے طور پر مظاہر فطرت کے تقدس کا ذہن ختم ہو گیا۔ وہ چیزیں جو اب تک انسان کے لئے پرستش کا عنوان بنی ہوئی تھیں۔ وہ اس کو اپنی خادم نظر آنے لگیں (خلق لکم ما في الارض جميعا، بقره ۲۹) ب آدم نے چاہا کہ وہ ان چیزوں کو جانے اور ان کو استعمال کرے۔ انسانی ذہن کی یہی وہ تبدیلی ہے جس نے اریخ میں توہماتی دور کو ختم کر کے سائنس کے دور کو شروع کیا۔ اسی کے ساتھ دوسرا نتیجہ یہ ہوا کہ بادشاہت کا در کم از کم نظریاتی طور پر ختم ہو گیا اور عوامی حکمرانی کے دور کا آغاز ہوا۔ جب یہ معلوم ہو گیا کہ تمام انسان یکساں ہیں، سی انسان کے اندر کوئی خدائی صفت نہیں تو اس کے بعد بالکل قدرتی طور پر خدائی حق حکمرانی کے لئے زمین تی نہیں رہی۔
ان دونوں انقلابات کا آغاز مدینہ سے ہو گیا تھا۔ اس کے بعد وہ دمشق، بغداد، اسپین اور سسلی ہوتا ہوا
قدیم آباد دنیا کے بڑے حصہ میں پھیل گیا۔ اس مدت میں قدیم حالات کے اثر سے اس فکری تحریک بار بار مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ تاہم اس کا سفر جاری رہا۔ مخالف طاقتوں کی کوئی بھی کوشش اس میں کامیاب نہ ہوسکی کہ وہ مظاہر فطرت کے تقدس کے دور کو دوبارہ اس کی سابقہ عظمت کے ساتھ واپس لا سکے۔ اور نہ کسی حکمران کے لئے کبھی یہ ممکن ہوا کہ وہ اس طرح مقدس بادشاہ ہونے کا مقام حاصل کرے جیسا کہ عراق کے نمرود اور مصر کے فرعون کو قدیم زمانہ میں حاصل تھا۔