مسلم دنیا سے مغربی دنیا کی طرف
Al-Risala, February 1981, p. 24
By Maulana Wahiduddin Khan
ابتداء تقریباً ایک ہزار سال تک یہ عمل مسلم دنیا میں ہو تار ہا۔ مگر سولھویں صدی عیسوی میں ایک نیا انقلاب مسلمانوں کے آپس کے اختلاف کی وجہ سے ایک طرف بغداد کی عباسی خلافت ٹوٹ گئی اور دوسری طرف اسی باہمی اختلاف کے نتیجہ میں اسپین کا مسلم اقتدار ختم ہو گیا۔ اس کے بعد مسلم دنیا میں کوئی ادارہ ان لوگوں کی سر پرستی کرنے والا نہ رہا جو علمی و فکری تحقیق کا کام کر رہے تھے۔ چنانچہ علماء اور مفکرین کی بڑی تعداد دھیرے دھیرے اٹلی اور اور فرانس کی طرف منتقل ہو گئی۔ مخصوص اسباب کی بنا پر یورپ میں ان لوگوں کو بہت پذیرائی ملی۔ انقلابی عمل جو اس سے پہلے مسلم دنیا میں ہو رہا تھا، وہ یورپ کی دنیا میں ہونے لگا۔ تاہم یورپ پہنچ کر اس کے اندر ایک تبدیلی مسلم دنیا میں یہ کام اسلام کے زیر اثر ہو رہا تھا، یورپ کو اسلام کو سے دل چسپی نہ تھی، اس نے اس کو اسلام سے جدا کر کے خالص علمی حیثیت سے فروغ دینا شروع کیا۔ اگر چہ علم علوم اور عربی زبان کی اس منتقلی کا اثر یورپ کے مسیحی عقائد پر بھی پڑا۔ حتی کہ مارٹن لوتھر (۱۵۴۶ - ۱۴۸۳ء) براہ راست طور پر یورپ کے اوپر اسلامی اثرات کی پیداوار تھا۔ تاہم علمی و فکری تحریک کا ارتقاء یورپ میں آزاد سیکولر شعبہ کے طور پر ہوا نہ کہ مذہب کے ایک ذیلی شعبہ کے طور پر۔ جدید مغرب کا سائنسی اور جمہوری انقلاب تمام تر اسلامی انقلاب کی دین ہے۔ نے اس کو مذہب سے جدا کر کے سیکولر شکل دے دی ہے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ جدید مغربی انقلاب، اسلامی انقلاب کی ایک دنیوی صورت ہے، ٹھیک ویسے ہی جیسے ایٹم بم آئن سٹائن کے نظریہ اضافیت کی فوجی صورت ہے اور قومی ملکیت مارکسی نظریہ کی معاشی صورت ۔